| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
خامساً ان لوگوں کی تمام سعی ملمع کاری و مغالطہ شعاری ہے۔ اثر قسر کا اختلاف دو سبب سے ہے، قوت قاسر کا تفاوت کہ فاعل قوی کا فعل اقوٰی ہوگا اور قوت مکسور کا فرق کہ مقابل قوی پر اثر کم ہوگا۔ وہ اختلاف کہ جانب فاعل میں ہے جانب مقابل کی کسی حالت پر موقوف نہیں ان کی قوتوں کا فی نفسہ متفاوت ہونا موجب تفاوت اثر ہے کیا اگر مقسور مزاحمت نہ کرے تو فاعل قوی و ضعیف اثر میں برابر ہوجائیں گے یہ بھی اسی بداہت کے خلاف ہے اور خود فلسفہ کو اس کا اعتراف(عہ) ہے پتھر کہ بقوت اوپر سے نیچے پھینکا جائے بلاشبہ اس حالت سے جلد متحرک ہوگا۔کہ خود آئے کہ اب اس میں میل خارجی و داخلی دونوں جمع ہیں اور شک نہیں کہ رمی جتنی قوت سے ہوگی اس سرعت میں زیادت ہوگی اور طبیعت حجر میں نیچے جانے کی مزاحمت نہیں بلکہ اقتضا ہے، اور یہ بھی نہیں کہ کسی حد معین پر اقتضا اور زائد سے اباء ہو۔ بلکہ بمقتضائے طبع اسرع اوقات میں حصول مطلوب ہے تو ظاہرہوا کہ فاعل کی مختلف قوتوں کا اثر مختلف ہونا مزاحمت پر موقوف نہیں البتہ وہ اختلاف کو جانب قابل سے ہے اس کی مزاحمت سے ہے قوی زیادہ مزاحم ہوگا اور ضعیف کم اب اولا ان کے شیخ کی چالاکی دیکھئے قوت و ضعف جانب فاعل لیے کہ قاسر قوٰی و ضعیف اور اس پر حکم جانب قابل کا لگادیا کہ یہ نہیں مگر مزاحمت مقسور سے یہ صریح باطل ہے جانب فاعل کا اختلاف ہر گز مزاحمت مقسور سے نہیں ان کی قوتوں کے ذاتی اختلاف سے ہے۔ ثانیاً اس تقدیر پر کیا محال ہے کہ مزاحمت نفس جسم سے ہو، یہ کہنا کہ ایسا ہو تو کوئی جسم اثر قسر قبول نہ کرے۔
عہ: جونپوری نے فصل تقسیمات حرکت میں کہا: قدتکون حرکۃ الی غایۃ طبیعۃ لکن لاعلی الطبیعۃ وحدھا کحرکۃ الحجر المرمی الی اسفل علی خط مستقیم بحیث لا یصدر مثلہا عن طبیعۃ الحجر وحدھا ۱۔
کبھی حرکت غایتِ طبیعت کی طرف ہوتی ہے مگر وہ تنہا طبیعت پر مبنی نہیں ہوتی جیسے خط مستقیم پر نیچے کی طرف پھینکا ہوا پتھر، اس لیے کہ اس کی مثل تنہا پتھر کی طبیعت سے صادر نہیں ہوتی۔(ت)
(الشمس البازغۃ فصل حرکۃ الشیئ ذاتیۃ لہ مطبع علوی لکھنؤ ص ۱۲۳ )
اقول: جہل محض ہے مغلوب ہو کر قبول لینا کیا منافی مزاحمت ہے مبدء میل طبعی بھی تو قبول کرلیتا ہے حالانکہ مزاحم ہے اگر کہیے قبول وعدم مختلف ہوتے ہیں اور میل مختلف ہیں اور جسمیت سب میں یکساں۔ اقول: یہ اس اختلاف میں کلام جو جانب قابل سے ہے اور تمہارا شیخ اس اختلاف میں چا نہ زن (عہ) ہے جو جانب فاعل سے ہے اور اگر کہیے ہم نے اسے چھوڑا اب ہم جانب قابل ہی میں کلام کریں گے۔ ظاہر ہے کہ مقسور اقوٰی پر اثر کم ہوگا اضعف پر زائد ، اور یہ نہیں مگر ان کی مزاحمت اور جانب جسمیت سے نہیں کہ سب میں یکساں لاجرم ان کی طبیعت سے ہے۔ اسی کا نام میل طبعی ہے۔
عہ: یعنی بکواس کرنے والا ۱۲ الجیلانی ۔
اقول: اولا وہی ایراد کہ مزاحمت حفظ وضع و این کے لیے ہے اور وہ سکون سے ہے نہ میل و طلب حرکت سے۔ ثانیاً کیا محال ہے کہ بعض طباع کا مقتضی سکون ہو۔ ثالثاً ہاں طبیعت سے ہے اور میل نہیں ہم ثابت کرچکے کہ افلاک کو اپنے حیز میں بالطبع حرکت اینیہ سے اباء ہے اور یہ میل نہیں۔ رابعاً اب مقسور قوی وضعیف کے معنی پوچھے جائیں گے۔ اقوی یہ نہیں کہ جثہ بڑا ہے ، روئی اور لوہے کو نہ دیکھا۔ اب قوی یا تو وہ ہے جس میں مزاحمت زیادہ ہو،تو حاصل یہ ہوا کہ جس کی مزاحمت زائد اس کی مزاحمت زائد یہ نیم جنون ہے، یا وہ جس میں میل زیادہ ہو یا جس میں معاوق داخلی اکثر ہو یہ مصادرہ علی المطلوب ہوگا۔ خامساً بہرحال اقوٰی واضعف کا ذکر لغو ہوگا۔ اور حاصل اتنا رہے گا کہ اجسام قاسر کی مزاحمت کرتے ہیں اور یہ ان کے میل طبعی سے ہے یہ قضیہ اگر کلیہ ہے تو باطل کیا دلیل ہے کہ ہر جسم قاسر کی مزاحمت کرتا ہے بعض میں مشاہدہ استقرائے ناقص ہے اور اگر مہملہ ہے تو ضرور صحیح مگر مہملہ (عہ) ہے دلیل دعوٰی سے خاص ہوگئی اس سے ثابت بھی ہوا تو اتنا کہ بعض مقسوروں میں میل طبعی ہے نہ کہ بے میل طبعی قسر ممکن ہی نہیں یہ ہیں وہ وجوہ جن کے سبب تمہارے شیخ نے اختلاف قوت مقسور چھوڑ کر اختلاف قوت قاسر لیا مگر بات بے اختلاف مقسور بنتی نہ پائی۔ لہذا جو اس کا حکم تھا وہ اس کے سر دھر دیا یہ ہے تمہارا تفلسف۔
عہ: یعنی مہمل کہ غیرمفید ہے ۱۲ الجیلانی ۔
شبہ دوم : جس جسم میں معاوق داخلی نہ ہو لاجرم وہ بقسر قاسر ایک مسافت ایک زمانہ معین میں طے کرے گا اور جس میں معاوق ہے اسی قاسر کے قسر سے اس سے زیادہ دیر میں فرض کرو۔ دو چند میں اب اسی قاسر کی تحریک ایک ایسے جسم کو لو جس میں معاون اس سے نصف ہے ضرور ہے کہ اس سے نصف دیر میں طے کرے گا کہ محرک و مسافت متحد ہیں تو فرق نہ ہوگا مگر نسبت معاوقت پر تو حرکت مع معاوق حرکت بلا معاوق کے برابر ہوگئی اسے بہت طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے ملخص کیا (رد) تمام اعتراضوں سے قطع نظر ہو تو معاوق ہی تو درکار اس کا میل طبعی میں کب انحصار۔