Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
12 - 212
فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی
مسئلہ۱۷ : ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ

الجواب : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارا ایمان ہے کہ آئمہ اربعہ برحق ہیں۔ پھر ایک چیز معین پر انہی اماموں نے فرمایا ہے کہ حلال ہے اور حرام ہے۔مثلاً کچھوا کہ ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حرام ہے ، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حلال ہے، اور یہ محال ہے کہ ایک ہی چیز حرام بھی ہو اور حلال بھی ہو، اور ہم دونوں کو برحق کہیں۔
بیّنوا بالدلیل وتوجروا من الجلیل
 (دلیل کے ساتھ بیان کرو، جلالت والے اللہ کی بارگاہ سے اجر پاؤ گے۔ت)
الجواب : سائل نے کچھوے کی مثال صحیح نہیں لکھی۔کچھوا امام شافعی کے صحیح مذہب میں بھی حرام ہے۔ ہاں اور اشیاء ہیں کہ ان کے نزدیک حلال ہمارے نزدیک حرام ہیں۔ جیسے متروک التسمیہ عمداً اور ضب، اور بعض شافعیہ کے نزدیک کچھوا بھی۔ بہرحال دونوں برحق ہونے کی یہ معنی ہیں کہ ہر امام مجتہد کا اجتہاد جس طرف مودی ہو اس کے اور اس کے مقلدوں کے حق میں اللہ تعالٰی کا وہی حکم ہے۔ شافعی المذہب اگر متروک التسمیہ عمداً کھائے گا اس کی عدالت میں فرق نہ آئے گا نہ دنیا میں اسے تعزیر دی جائے نہ آخرت میں اس سے اس کا مواخذہ ہو۔ اور حنفی المذہب کہ اسے حرام جانتا ہے اور اس کا ارتکاب کرے گا تو اس کی عدالت بھی ساقط ہوگی اور دنیا میں مستحق تعزیر اور آخرت میں قابل مواخذہ ہوگا۔ یونہی بالعکس جو چیز ہمارے نزدیک حلال ہے اور ان کے نزدیک حرام، سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کل مجتھد مصیب والحق عندا للہ واحد وقد یصیبہ وقدلا۱ ؎.
ہر مجتہدمصیب ہے، لیکن عنداﷲ حق ایک ہی ہے جس کو مجتہد کبھی پہنچتا ہے اور کبھی نہیں پہنچتا۔
( ۱ ؎۔ فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی فصل فی آداب المناظرۃ منشورات الرضی قم مصر ۲/ ۳۸۱)
امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
  احدبہ واقبل شہادتہ یرید شارب المثلث نقلہما فی فواتح الرحموت  ۔۲؂ واﷲ تعالٰی اعلم۔
میں مثلث پینے والے پر حد بھی جاری کروں گا اور گواہی دے تو اس کی گواہی بھی قبول کروں گا اسے فواتح الرحموت میں نقل کیا گیا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 ( ۲ ؎ ۔فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی الاصل الثانی السنۃ مسئلہ مجہول الحال الخ الرضی قم مصر ۲/ ۱۴۸ )
مسئلہ۱۸ : ازگورکھپور محلہ دھمال مسؤلہ سعید الدین ۹ شوال ۱۳۳۹ھ)

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:

(۱) امیر محلہ کا لفظ جو بعض کتبِ فقہ میں آیا ہے اور میر محلہ ان دونوں لفظوں میں کچھ شرعاً وعرفاً فرق ہے یا نہیں؟

(۲) ہندوستان میں عام طور پر سید کو میر صاحب کہتے ہیں تو کیا اس کہنے سے فی الواقع وہ امیر محلہ بن سکتے ہیں یا امیر محلہ کے احکام اس پر عائد ہوسکتے ہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان فرمایئے ، اجر دیئے جاؤ گے۔ ت)

الجواب :

(۱) امیر اور میر میں کچھ فرق نہیں، میراُسی کا مخفف ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) فقط میر صاحب ہونے سے میر محلہ نہیں ہوتا میر محلہ وہ ہے جو علم دینی میں سب اہل محلہ سے زائد ہو یا جسے سلطان یا مسلمانوں نے میر محلہ بنایا ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۰ : حامی دین متین ماحی البدعۃ والشرک محی الدین جناب مولینٰا زاد اللہ شرفہ ۔ بعد ہدیہ سلام و سنتِ رسول علیہ الصلوۃ والسلام معلوم فرمائیں ایک فتوی جس میں چند سوال ہیں آنجناب کی خدمت میں پیش کرنے کا قصد ہے اگرچہ مدارس اسلامیہ و جائے اِفتاء تو ہندوستان میں کثیر ہیں ولیکن بندہ کی خوشی یہ ہے کہ آنجناب کی لسان ترجمان فیص رسان و کلک سے جواب ظہور میں آئے اس وقت چونکہ رمضان شریف ہے روزہ کی وجہ سے شاید جواب میں دقت وکلفت ہوبدیں خیال مقدم یہ جوابی خط ارسال کرکے آنجناب کی مرضی مبارک حاصل کی جاتی ہے کہ اگر فتوٰی اس وقت رمضان شریف میں بھیجا جائے تو کیا اس وقت جواب مل سکتا ہے یا کہ بعد رمضان شریف ؟ اگر بعد رمضان شریف فتوٰی بھیجا جائے تو شوال کی کتنی تاریخ تک بھیجا جائے؟ آپ کے جواب کا انتظار ہے۔ جیسا آپ فرمائیں گے ویسا کیا جائے گا۔ فقط زیادہ والسلام ، جوابی خط ارسال ہے۔

الجواب : جناب من سلمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، رمضان مبارک میں بھی فتاوے بفضلہ تعالٰی لکھے جارہے ہیں،آپ نے استفتاء نہ بتا کس مضمون کا ہے۔ بعض ضروری وفوری ہوتے ہیں، بعض مہلت و فرصت کے، بعض ایسے کہ جواب دینا ہی بے کار یا ضروریات کے آگے ناقابلِ اعتبار غرض فتاوٰی کہ پوچھے جاتے ہیں، ان کی حالتیں بہت مختلف ہیں، لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہمارے ہر فتوٰی کا جواب ملنا شرعاً لازم ہے اور وہ بھی تحریری، اور حضرت سیدنا ابن مسعود علیہ الرضوان فرماتے ہیں:  من افتی فی کل مااستفتی فھو مجنون ۱ ؎۔ جو ہر استفتاء کا جواب دے مجنون ہے۔

یہ اس لیے لکھ دیا کہ اگر آپ نوعیتِ سوال سے مطلع فرماتے تو جواب لاونعم ودیر وشتاب معین ہوسکتا۔ والسلام۔
مسئلہ ۲۱: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، من جانب احقر العباد ملک محمد امین جالندھر شہر ،

مجموعہ فتاوٰی عبدالحی صاحب اہلسنت وجماعت کے مطابق ہے یا کچھ گڑبڑہے؟اطلاع بخشی جائے۔

الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، ۔ اس میں بہت مسائل میں فرق ہے خصوصاً پہلی اور دوسری جلد میں جس کی کچھ کچھ اصلاح خود انہوں نے اپنی طرف سے سوالات قائم کرکے کی ہے والسلام ۔
مسئلہ۲۲ : ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ مولوی نور محمد صاحب طالب علم۔ ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے مرشد کے فتوے کے رَد پر تصدیق کرے یہ بیعت سے خارج ہوا یا نہیں؟

الجواب : بعض فتوؤں کا رَد کفر ہوتا ہے ، بعض کا ضلالت، بعض کا جہالت، بعض کا حماقت، بعض کا حق ایک حکم نہیں ہوسکتا،کیا فتوٰی تھا اور کیا رد، سائل مفصل لکھے اور یہ بھی تصدیق کرنے والے کو اس کے خلاف اپنے مرشد کا فتوٰی معلوم تھا یا نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter