Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
119 - 212
مقام چہارم
قسر کے لیے مقسور میں کوئی میل طبعی ہونا کچھ ضرور نہیں ، فلاسفہ کا زعم ہے کہ قسری نہ ہوگا مگر طبعی(عہ۱) کے خلاف، ولہذا فلک پر قسر نہیں مانتے کہ اس میں کوئی میل طبعی نہیں جانتے۔
عہ۱:  عبر من دعواھم ھذہ فی الھدیۃ السعیدیۃ بان الذی لیس فیہ مبدء میل طباعی لا یمکن ان یتحرک بقسر۱؂

اقول: وھو خطاء فان مقصود ھم بہذا احالۃ القسر علی الفلک مع ان فیہ میلاً طباعیاً فالصواب ٭ فی التعبیر مبدء میل طبعی وھذہ ھی دعواھم ان لا قسر حیث لا طبع وان کان ثمہ طباع ۱۲ منہ غفرلہ
ان کے اس دعوٰی کو ہدیہ سعیدیہ میں یوں تعبیر کیا گیا ہے کہ جس میں میل طباعی کا مبدانہ ہو اس کا حرکت قسری کرنا ممکن نہیں،

اقول: ( میں کہتا ہوں ) یہ غلط ہے کیونکہ ان کا مقصد اس سے یہ ثابت کرنا ہے کہ فلک پر قسر محال ہے باوجود یہ کہ اس میں میل طباعی موجود ہے لہذا درست یہ ہے کہ مبداء میل طبعی کے ساتھ تعبیر کیا جائے اور یہی ان کا دعوی ہے کہ جہاں طبع نہیں وہاں قسر نہیں اگرچہ وہاں طباع موجود ہو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

٭ اس لیے کہ طبعی بسوئے طبیعت منسوب ہے اور طباعی بسوئے طباع اور اصطلاحات طبیعت میل غیر ارادی کے مبداء کو کہتے ہیں اور طباع عام ہے کہ میل ارادی اور غیر ارادی دونوں کے مبدء کو شامل ،نظر براہ ہدیہ سعیدیہ کی عبارت سے یہ ثابت ہوگا کہ جس میں میل ارادی دونوں کا مبدء نہ ہو اس کا تحرک بالقسر ممکن نہیں اس سے فلک کے تحرک بالقسر کی نفی نہ ہوگی کہ اس میں میل ارادی کا مبدء  موجود ہے یعنی اس کا نفس لہذا صحیح یہی ہے کہ مبدء میل طباعی کی جگہ مبدء میل طبعی کہا جائے ۱۲ الجیلانی۔
 ( ۱ ؎ الہدیۃ السعیدیۃ فصل فی ان الجسم الذی لامیل فیہ بالقوہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۵۴)
اقول:  یہ باطل ہے  اولا   حکیم بننے والوں نے معنی لغوی پر لحاظ کیا کہ قسر جبر وا کراہ سے خبردیتا ہے اصطلاح بھول گئے جس کا مبدء خارج سے ہو سب قسری ہے اور جو کچھ نہ مقتضائے طبع ہو  نہ مراد متحرک، یقیناً اس کا مبدء نہ ہوگا، مگر خارج سے تو قسر کو صرف اقتضاء درکار نہ کہ اقتضاء عدم ورنہ یہ صورت خارج رہ کر تین میں حصر(عہ) باطل کرے گی۔ اگر کہیے صرف عدم اقتضاء متصور نہیں کہ ہر جسم میں کوئی میل ضرور۔
عہ: یعنی حرکت کے تین اقسام طبعی، ارادی قسری میں کہ برتقدیر اقتضائے عدم صورت عدم اقتضاء کسی میں داخل نہیں۔۱۲ الجیلانی
اقول:   عنقریب آتا ہے کہ یہ کلیہ اسی مقدمہ باطلہ پر مبنی تو اس کی اس پر بنا صریح مصادرہ و دور ہے ۔

 ثانیاً  فرض کردم کہ اقتضائے عدم ہی ضرور اس کے لیے اتنا بس کہ فعل قاسر کا نہ ہونا چاہیے ، یہ کیا ضرور ہے کہ اس کے خلاف کسی دوسرے فعل کا تقاضا ہو اور میل تقاضائے فعل ہے۔

 ثالثاً  مانا کہ تقاضائے فعل خلاف ہی ضرور مگر یہ کہاں سے کہ اس کی مقتضی نفس طبیعت ہو۔ کیا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ تمہارے نزدیک افلاک میں میل طبعی نہیں ان کی حرکت ارادیہ ہے اب جس جہت کو وہ حرکت چاہتا ہے اگر اس کے خلاف یہ حرکت وضعیہ ہی دی جائے ( کہ فلک پر حرکت مستقیمہ جائز ہونے نہ ہونے کا جھگڑا پیش نہ آئے) کیا یہ قسر نہ ہوگا، قطعاً ہوگا، حالانکہ میل طبعی نہیں ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ فلک پر قسر جائز فلاسفہ اپنے زعم مذکور پر دودلیلیں پیش کرتے ہیں، ہمارے اس بیان سے دونوں رَد ہوگئیں۔ ایک یہ کہ جسم پر قاسر قوی کا اثر زائد ضعیف کا کم ہونا بدیہی ہے ، تو یہ نہیں مگر اس لیے کہ مقسور قاسر کی مزاحمت کرتا ہے، ضعیف پر غالب آتا ہے قوی سے مغلوب ہوجاتا ہے اور یہ مزاحمت نفس جسمیت سے نہیں تو ضرور جسم کے اندر کوئی اور چیز ہے کہ قاسر کی مزاحمت کرتی اور مکان یا وضع کی محافظت چاہتی ہے یہی میل طبعی ہے، یہ دلیل ان کی شیخ ابن سینا نے دی۔

اقول: اولا مزاحمت اقتضائے خلاف فعل ہے نہ کہ اقتضائے فعل خلاف اور محافظت طلبِ سکون نہ کہ طلبِ حرکت جو شان میل ہے۔

ثانیاً  مزاحمت و محافظت ارادے سے بھی ہوسکتی ہے، طبعاً ہی کیا ضرور قاسر کا قوی ہونا اس کے ارادہ مزاحمت کا کیامانع ہے اگرچہ جانے کہ منتج نہ ہوگی، جیسا کہ بار ہا مشہود ہے۔

 ثالثاً  مانا کہ طبیعت ہی سے لازم پھر کیا محال ہے کہ بعض اجسام میں بالطبع سکون کا اقتضاء اور حرکت سے مطلقاً ابا ہو ، اب جو اسے حرکت دے گا ضرور خلاف مقتضائے طبع ہوگی اور میل نہیں بلکہ اس کی مزاحمت میل طبعی سے وسیع تر ہوگی میل طبعی تو صرف جہت خلاف ہی کی مزاحمت کرے گا اور یہ ہر جہت کی اب اس کا انکار پھر اسی طرف جائے گا کہ ہر جسم میں تقاضائے حرکت لازم اور یہ وہی دور و مصادرہ ہے۔

رابعاً مطلقاً حرکت سے اباء بھی ضرور، صرف اس حرکت سے انکار چاہیے جو قاسر دینا چاہے اور یہ افلاک میں یقیناً موجود ، ہم مقام ۱۴ میں ثابت کریں گے کہ ہر فلک کا حیز طبعی وہ وضع خاص ہے جس پر وہ ہے کہ اس تک اشارہ حسیہ اس حد تک محدود ہوتا ہے،۔ جب یہ اس کا حیز طبعی ہے تو وہ ضرور یہاں طالبِ سکون ہے اور جو اسے یہاں سے ہٹائے اس کی مقاومت کرے گا۔ قسر کو اسی قدر درکار۔
Flag Counter