| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
فلک محدد جہات نہیں۔ اقول: اس پر روشن دلیل مقام ۶ میں آتی ہے یہاں نفس تحدید پر کلام کریں۔ دلیل ۸۰میں گزرا کہ فوق و تحت میں صرف ایک کی تجدید ضروری ہے ۔ تحت یقیناً مرکز زمین سے محدود، اب فوق کے لیے تلاش تحدید جز اف و مردود، فلسفہ قدیمہ نے یہاں یہ حیلہ تراشی ہےکہ جہت فوق موہوم نہیں (عہ۱) بلکہ موجود ہے اور عالم میں جو موجود ہے ضرور محدود ہے وجود فوق پر دو دلیلیں (عہ۲) دیتی ہے۔ اوّل : تحت کی طرح فوق بھی مطلوب بعض اجسام ہے اور معدوم مطلوب نہیں ہوتا۔ اقول: ہر ثقیل بقدر ثقل تحت حقیقی سے طالبِ قرب ہے اور ہر خفیف بقدر خفت اس سے طلبِ بعد اور اس سے بعد ہی علو ہے، یوں ہر خفیف طالب فوق ہے نہ یہ کہ فوق کوئی خاص شیئ متعین ہے خفیف کو جس کی طلب ہے اور یہ انہیں فلسفیوں کے اس مذہب(عہ۳) پر اظہر کہ ہوا کا حیز طبعی مقعر کرہ نار ہے تو ہوا اپنی خفّت بھر تحت حقیقی سے طالب بعد ہی رہی نہ کہ کسی ایسے فوق کی۔جس سے فوق نہیں اور جب ہوا میں یہ ہے یہی نار میں ہوگا وہ اس سے اخف ہے لہذا ا س سے زیادہ بعد عن التحت کی طالب ہے وبس، اور اس پر انہیں فلاسفہ کے اصول سے یہ اصل شاہد کہ وجود میں تعطیل نہیں طبیعت کا دواماً اپنے کمال سے محروم رہنا محال ، ظاہر ہے کہ اگر فوق حقیقی محدب فلک الافلاک ہو اور نار اس کی طلب اور افلاک پر خرق محال تو نار دائماً اپنے کمال سے محروم رہے۔ بلکہ جملہ عناصر سوا اس ذرہ زمین کے جو مرکز پر منطبق ہے کہ دو طالب محدب ہیں دو طالب مرکز اور اپنے مطلوب تک اس ذرے کے سوا کوئی نہ پہنچا۔
عہ۱: اعترضہ فی شرح حکمۃ العین بان الجہۃ نہایۃ امتداد الاشارۃ و الامتداد موھوم فلا یکون طرفہ الاموھوما۱ اقول: لم یفرق بین ماتنتھی الاشارۃ الیہ وما تنتھی بہ الطرف ھوالثانی والجھۃ من الاول الاترٰی انا اذا اشرنا الٰی زید فانما انتہت اشارۃ الٰی زید ولیس طرفھا بل طرفھا نقطۃ موھومۃ اخر ذلک الخط الموھوم ۱۲ منہ
اس پر شرح حکمۃ العین میں اعتراض کیا ہے کہ جہت تو امتدادِ اشارہ کی نہایت کو کہتے ہیں اور امتداد موہوم ہے، لہذا اس کی طرف بھی موہوم ہی ہوگی۔ اقول: ( میں کہتا ہوں کہ ) اس نے فرق نہیں کیا درمیان اس کے جس تک اشارہ کی انتہا ہوتی ہے اور درمیان اس کے جس پر اشارہ کی انتہا ہوتی ہے۔ طرف ثانی جب کہ جہت اول کا نام ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب ہم زید کی طرف اشارہ کریں تو زید تک اشارہ کی انتہا ہوجاتی ہے حالانکہ وہ اس کی طرف نہیں بلکہ طرف تو وہ موہوم نقطہ ہے جو اس موہوم خط کا آخر ہے۔(ت)
(۱ شرح حکمۃ العین)
عہ۲: یہ دونوں وجہیں اثیرابہری کی کتاب میں تھیں پھر اس کے تلمیذ کابتی کی حکمۃ العین میں بھی ملیں، یہاں شراح و محشین نے جو نقض و ابرام کیے ہم ان کی نقل وتزییف سے تطویل نہیں چاہتے ۱۲ منہ۔ عہ۳: جونپوری نے شمس بازغہ میں اسی کو اختیار کیا ورنہ اجسام حیز میں مشترک ہوجائیں ۱۲ منہ۔
دوم فوق کی طرف اشارہ حسیہ ہوتا ہے: اقول: اگر یہ مراد کہ اس اشارے سے کسی شیئ خاص کو بتایا جاتا ہے جس پر اس اشارے کا روک دینا مقصود مشیر ہوتا ہے تو اولا اول نزاع ہے۔ ثانیاً ہر گز یہ امر اشارہ کرنے والوں کی خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی خاص سطح کو بتارہے ہیں۔ ثالثاً بلکہ فوقیت کا زور کہیں رک جانا ان کے خیال کے خلاف ہے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تحت سے جتنا بھی بعد ہو سب فوق ہے نہ کہ ایک بعد معین پر جا کر فوقیت تمام ہوگئی۔ اور اسلامی اصول پر تو اس کا بطلان اظہر من الشمس ہے قدرتِ ربانی محدود نہیں وہ قادر ہے کہ فلک الافلاک کے اوپر کوئی جسم پیدا کرے بلکہ عندالتحقیق واقع ہے فلک اطلس سے اوپر کرسی اس کے اوپر حاملانِ عرش ان سے اوپر عرش مجید، جیسا کہ امام المکاشفین شیخ اکبر قدس سرہ نے فتوحات میں تصریح فرمائی اور یہ زعم کہ کرسی فلک البروج کا نام ہے اور عرش فلک اطلس کا بشہادت احادیث مردود ہے۔ۤ
رابعاً بعینہ ان کی تقریر اتصال و انفصال میں جاری ہر ذی شعور منافر (عہ) سے انفصال کا طالب ہے اور بے شک اس کی طرف اشارہ حسیہ ہوسکتا ہے کہ اس طرف اتصال اور اس طرف انفصال ہے اگرچہ اشارہ ایک طرف ہوگا۔ اور انفصال سب طرف ہے جیسے فوق کا اشارہ ایک طرف ہوتا ہے اور وہ ہر جانب ہے اب چاہیے کہ کوئی جسم کری اتصال و انفصال کا محدود بھی ہو اور ہر جسم سے اتصال و انفصال کے حدود جدا ہوں گے، تو ہر ذرے کے اعتبار سے ایک کرہ محدود چاہیے جس کا مرکز وہ ذرہ ہو جس سے تحدید اتصال ہے اور محیط سے تحدید انفصال اور بنے گی جب بھی نہیں کہ جب ان کروں کے مرکز مختلف ہیں محدب ایک نہیں ہوسکتا اور بعض محیط بعض سے ابعد ہوں گے، تو انفصال آگے بڑھا اور تحدید نہ ہوئی۔ کلام یہاں طویل ہے اور عاقل کو اسی قدر کافی۔
عہ: اقول: غیرشاعر اشیاء میں بنظر ظاہر پارہ اس کی مثال ہوسکتا تھا کہ آگ سے انفصال کا طالب ہے مگر ہم نے رسالہ میں تحقیق کیاہے کہ یہ پارے کافعل نہیں بلکہ آگ کا، اس کاکام نصعید رطوبات ہے جیسے پانی گرم کرنے میں اجزائے مائیہ کو بخار میں اڑاتی ہے اورپارے کے اجزائے رطبہ ویابسہ کی گرہ ایسی محکم ہے کہ آگ سے نہیں کھلتی ناچار رطوبات ویسی ہی گرہ بستہ اڑتی ہیں ۔۱۲منہ