| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
ثامناً اقول: خود کہتے ہو کہ صدور بے مصدریت ممکن نہیں یعنی فاعل میں وہ خصوصیت جس سے معلول میں موثر ہو اور اس خصوصیت کو وحدت محضہ فاعل کا منافی نہیں جانتے کہ ممکن کہ عین ذات ہو ولہذا واحد محض سے صدور واحد جانتے ہو اب کیوں نہیں جائز کہ واجب تعالٰی میں وہ خصوصیت اس کا ارادہ ازلیہ جسے تم عین ذات کہتے ہو فرق اعتباری اس مصدریت و خصوصیت کو کیا نہ تھا۔ یقیناً وہ حیثیت بھی ذات من حیث ھی ھی کے علاوہ تھی یہ وہی تو ہے اور تمام عالم کے ایجاد کو اس کا یہی ارادہ ازلیہ اجمالیہ کافی تکثر مرادات سے ارادہ متکثرنہ ہوجائے گا۔ جیسا کہ اس کا علم اجمالی واحد بسیط مانتے ہو اور پھر جمیع معلومات کو محیط مکثر معلومات سے اس میں تکثر نہ ہوا
فانٰی توفکون ۱
( پھر کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
(۱القرآن الکریم ۶/ ۹۵ و ۱۰/ ۳۴ و ۳۵ / ۳ و ۴۰/ ۶۲)
تاسعاً اقول : خود ہزاروں چیزیں عنایت الہیہ کی طرف نسبت کرتے ہو ، افلاک میں جوف افلاک میں پرزے تداویر کواکب وغیرہ وغیرہ یہ تکثر اضافات عنایت الہیہ کامکثر اور وحدت محضہ پرموثر باصدور کثیر عن الواحد کا موجب ہوا یانہیں ،اگر نہیں تو ارادہ میں کیوں ہوگا، اور اگرہاں توتم خود مان چکے
فانی تصرفون ۲
(پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔ت)
(۲القرآن الکریم ۱۰/ ۳۲ و ۳۹/ ۶)
عاشراً اقول: حقیقت امر یہ ہے کہ مرتبہ وحدت محضہ مرتبہ ذات ہے اور مرتبہ ذات میں ایجاد ایجاب ہے اور باری عزوجل ایجاب سے منزہ ، وہ فاعل بالایجاب نہیں بلکہ خالق بالاختیار ہے، اور خلق بالاختیار ارادہ و علم و قدرت پر موقوف وہ تو نہیں مگر مرتبہ صفات میں اور مرتبہ صفات اس وحدتِ محضہ کا مرتبہ نہیں
فانٰی تسحرون ۳
( تو کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
(۳القرآن الکریم ۳/ ۸۹)
حادی عشر اقول: : یہ تو ہمارے طور پر تھا لیکن تمہارے قضیہ نامرضیۃ الواحد لایصدر عنہ الاالواحد خود ہی تمہارے طور پر باطل و متناقض ہے کلام موثر من حیث ھو موثر یعنی موجود مفیض وجود میں ہے اور ایجاد و جود خارجی سے مشروط ، جو خود موجود نہیں محال ہے کہ دوسرے پر افاضہ وجود کرے اس کا فاعل وموجد بنے ، نیز وہ خصوصیت درکار جس کا نام مصدریت رکھا ہے تو ذات وتقرر ووجود و تعیین اور وہ خصوصیت سب قطعاً اس میں ملحوظ ہیں کہ بے ان کے موجد ہونا محال تو موثر من حیث ھو موثر کا واحد محض ہونا محال ، اور تم نے اسے ایسا ہی فرض کیا وصف عنوانی کے حکم ضمنی میں نقیضین کو جمع کرلیا یعنی وہ واحد محض کہ ہر گز واحد نہیں اس سے ایک ہی شیئ صادر ہوگی۔ ایسا جامع نقیضین خود ہی محال ہے نہ کہ اس سے کسی شے کے صدور و عدم صدور کی بحث نہ کہ اس سے صدور واحد کی تجویز تو استثناء کا حکم صریح بھی باطل۔ ثانی عشر اقول: ویسا واحد اگر ہوگا (عہ) بھی تو نہ ہوگا مگر ظرف خلط و تعریہ میں کہ خارج میں موثر من حیث موثر کا شرائط ایجاد سے انفکاک بداہۃً محال، تو تمہارے دعوی کا حاصل یہ ہوا کہ اس موجود ذہنی سے ایک ہی صادر ہوگا یہاولا مبحث سے بے گانہ ثانیاً خود جنون کہ موجود ذہنی ایک شیئ کا بھی موجود نہیں ہوسکتا۔ تو الا الواحد کہنا حماقت خصوصاً حضرت عزت عزت عزتہ کہ ذہن میں آنے سے متعالی ہے ذہن میں نہ ہوگی مگر کوئی وجہ بعید وہ کیا صالح ایجاد ہے تو حاصل ہوا کہ جس سے ایجاد منفی ہو وہ الہ نہیں اور جو الہ ہے اس سے نفی ایجاد کثیر کی کوئی نہیں پھر عقول کو فاعل و خالق ماننا کیسا صریح جنون ہے کہ وہ اسی ضرورت باطلہ کے لیے اوڑھا گیا تھا جس کا بطلان آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا۔ طرفہ یہ کہ انہیں مان کر بھی ان کی خالقیت نہیں بنتی جس کے روشن بیان سن چکے تو مجنون ہو کر بھی نجات نہ ملی،
وذٰلک جزاؤ الظلمین۱
( اور ظالموں کی یہی جزا ہے ت)
(۱القرآن الکریم ۵/ ۲۹)
عہ : اس تحقیق کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف ابھی ایماء ہوا کہ موضوع میں نفس ذات من حیث ھی ھی ملحوظ نہیں بلکہ من حیث التاثیر جو امور شرائط تاثیر ہیں سب ملحوظ ہیں اگرچہ لحاظ اجمالی میں تفصیل ملتفت الیہ نہ ہو جیسے وجود نہار کا لحاظ یقیناً طلوع شمس کا لحاظ ہے۔ اور بارہا اس وقت ذہن میں اس کی طرف التفات نہیں ہوتا۔ ذہن اگرچہ ہر گو نہ غلط وتعریہ کا ظرف ہے مگر دونوں کو جمع نہیں کرسکتا۔ جب موثر موثر من حیث ہو موثر کا لحاظ ہوا یہ خلط ہے پھر تعریہ کہاں تو ایسا موضوع ذہن میں بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر نفس ذات کا لحاظ کرو گے تو وہ یہ موضوع ہوگا قضیہ بدل جائے گا۔ (۱۲ منہ)
الحمد ﷲ! فلسفہ مزخرفہ کی الہیاتِ باطلہ سے انہیں دو مسئلوں کا رد تمام ارکان فلسفہ کو متزلزل کر گیا۔ اب ان کے ہاتھ میں نہ رہا مگر چند اوہام ، خیالاتِ خام یا حساب و ہندسہ و ریاضی کے متفق علیہ احکام یا ہیأت کے وہ مسائل و نظام جن کو شرع مطہر سے مخالفت نہیں۔ لہذا ان میں خلاف کی حاجت نہیں۔
وذلک فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرون ، رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلٰی والدی وان اعمل صالحا ترضاہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانا من المسلمین والحمد ﷲ ربّ العلمین o۱ ؎
یہ اﷲ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ ا ے میرے رب ! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح رکھ میں تیری طرف رجوع لایا، اور میں مسلمان ہوں، اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
(۱القرآن الکریم ۵/ ۲۹)