Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
116 - 212
ثالثاً اقول: جب صادر آٹھ یا پانچ یا دو ہی سہی تو حسب تصریح دلیل فلاسفہ ان کی مصدریتیں ذات پر زائد اور اس سے صادر ہوں گی۔ اور جب یہ صادر ہوئیں تو ان کی بھی مصدریتیں زائد و صادر ہوئیں یونہی تا غیر نہایت تو وہ تمام اعتراضات کہ یہ واحد سے صدور متعدد پر کرتے تھے۔ عقل اول سے صدور عقل و فلک پر نازل ہوئے، تسلسل بھی ہوا، اور غیر متناہی کا دور حاصروں میں محصور ہونا بھی ہوا ایک عقل اول اور دوسرا فلک یا عقل ثانی اور واحد سے نہ متعدد بلکہ غیر متناہی کا صدور بھی ہوا شرک بھی کیا اور کال بھی نہ کٹا۔

رابعاً اقول: جب عقل اوّل میں چھ جہتیں ہیں اور ممکن کہ وہ بعض کا ایجاد ایک ایک جہت سے کرے-( واﷲ یہ لفظ ہمارے قلب پر ثقیل ہوتا ہے مگر کیا کیجئے کہ مشرکوں کے مزعوم ہی پر انہیں نیچا دکھانا ہے) اور بعض کا دو دو جہت کے وصل سے مثلاً بحیثیت مجموع امکان و وجوب یا مجموع امکان وو جود وغیرہ وغیرہ بعض کا جہات کی ترکیب ثلاثی، رباعی، خماسی، سداسی، سے اب چھ جہتیں (عہ۱) حاوی ہوئیں۔
عہ۱: ا ۔ ب۔ ج۔ ء ۔ ہ ۔  و۔
پندرہ ثنائی(عہ۱) ، بیس ثلاثی(عہ۲)، پندرہ رباعی(عہ۳) ، پانچ خماسی (عہ۴)، ایک سداسی (عہ۵)، جملہ ساٹھ ہر وجہ پر ایک شیئ صادر ہو، اس پر ساٹھ وجہیں اور بڑھیں گی، یعنی ہر ایک کی مصدریت ان ۶۰ میں وجوہ اجتماع لیجئے پھر ان وجوہ اجتماع کی ان پہلی وجوہ اجتماع سے وجوہ اجتماع لیجئے۔ اور اس مبلغ کی قدر مصدریتیں بڑھائیے پھر ان میں یہی اعمال کیجئے اور ان کی مصدریتیں لیجئے یہ سلسلہ قطعاً غیر متناہی ہوں گے تو ایک عقل اول سے تمام دنیا کی غیر متناہی چیزیں صادر ہوسکیں گی ۔ تو ثابت ہوا کہ عقلیں محض لغو ہیں۔
عہ۱: اب ۔ ا ج۔ ا ء ۔ اہ ۔ ا و۔ ب ج ۔ ب ء ۔ ب ہ ۔ ب و۔ ج ء ۔ ج ہ ۔ ج و۔ ء ہ ۔ ء و ۔ ہ و، 

عہ۲:  اب ج ، اب ء، اب ہ ، اب و، اج ء ، اج ہ ، اج و، اء ہ ، اء و ، اہ و ، ب ج ء ، ب ج ہ ، ب ج و، ب ء ہ ، ب ء و ، ب ہ و، ج ء ہ ، ج ء و ، ج ہ و ، ء ہ و، 

عہ۳:  اب ج ء، ا ب ج و ہ، اب ج و ، اب ء ہ، ا ب ء و ، اب ہ و، ا ج ء و، ا ء ہ و، ب ج ء ہ ، ا ج ء و، اج ہ و ، ب ج ء و، ب ج ہ و ، ب 

 ء ہ و، ج ء ہ و،

عہ۴:  اب ج ء ہ ، اب ج ء و ، اب ج ہ و، اب ء ہ و، ا ج ء ہ و،

عہ۵:  اب ج ء ہ و ۱۲ منہ غفرلہ۔
خامساً  بھلا عقل اول تو اپنی پانچ وجہوں سے پانچ چیزیں بنا گئی عقل ثانی کے سر گنتی کی دو دیکھ لیں، عقل ثالث و فلک ثامن ، یہ نہ دیکھا کہ فلک ثامن میں کتنے ستارے ہیں یہ کروڑوں وجہیں وہ کس گھر سے لائے گی۔(مواقف)

اقول: مجاز فین (عہ۶) یورپ کہتے ہیں کہ ہرشل کی بڑی دوربین سے دو کروڑ ستارے گن لیے ہیں اورشک نہیں کہ وہ اس سے بھی زائد ہیں پھر ہر ایک لیے تعیین قدر تعیین محل تعیین لون ثوابت دو ہی کروڑ ہیں تو آٹھ کروڑ صادر تو یہی ہوگئے پھر ان کی حرکات مختلف ہیں تو ان کے لیے تدویریں ہیں ان تدویروں کی تعیین قطر تعیین موضع یہ کتنے کروڑ ایک عقل ثانی کے سر ہوئے۔ علامہ تفتازانی نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے کہ فلک ثوابت کا مبدء عقول کثیرہ ہوں۔
عہ۶:  ص ۱۳۳۸ /۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول: (۱) ان کے مزعوم کا رَدا ور ان کے ظلم کا بیان ہے کہ اپنی مخترع عقول سے جو کچھ جائز مانتے ہیں حق عزوعلا کو معاذ اﷲ اس سے عاجز جانتے ہیں۔

(۲) مصدریتیوں میں ہماری تقریر سن چکے، اب عقول غیر متناہیہ موجودہ بالفعل لازم آئے گی، پھر کیا جائز ہے کہ اس کا مبدء عقل واحد باعتبار جہات نامحصور ہو آخر میں خود رد فرمایا کہ واقع (عہ)کا کام جائز سے نہیں چلتا۔
عہ: یہ جواب بنگاہ اولین خیال میں آیا تھاکہ تمام بحث ختم کرکے آخر میں خود علامہ نے اس کی طرف ایماء کیا ۱۲منہ غفرلہ ۔
اقول: یعنی وہ جہات بتائے اور اگر وہ طریقہ لیجئے کہ ابھی ہم نے رابعاً میں کہا تو عقل ثانی کو سرے سے پان رخصت دینا ہوگا۔

سادساً اقول: اس اشد ظلم کو دیکھئے کہ عقل اول میں اس کا امکان ایک جہت ایجاد رکھا حالانکہ امکان جہت افتقار فی الوجود ہے نہ کہ جہت افاضہ وجود، بہرحال وہ نہیں مگر ایک مفہوم سلبی، تو سلوب غیر متناہیہ کہ اغیار غیر متناہیہ کے اعتبار سے باری عزوجل کے لیے ہیں کیوں نہ جہات ایجاد ہوسکے حالانکہ مناسبت ظاہر ہے کہ موجِد وموجَد میں تغایر قطعاً لازم ، تو جب تک موجد پر سلب موجد نہ صادق ہو ایجاد ممکن نہیں۔

سابعاً اقول: خود بھی صفات الہٰیہ کے قائل ہیں اگرچہ عین ذات کہیں فرق اعتباری  سے تو مفر نہیں تو قطعاً  لا بشرط شیئ وبشرط شیئ کے دونوں مرتبے یہاں بھی تھے۔ عقل میں اگر اعتبارات سے بشرط شیئ کا مرتبہ ہے تو نفس ذات سے لابشرط شیئ کا کیا نہیں، اگر اسے لابشرط شیئ کے مرتبے میں لو وہ بھی واحد محض رہ جائے گی اور اس سے صدور کثرت محال ہوگا، اس شدید بے ایمانی کو دیکھئے کہ دونوں طرف دونوں مرتبے ہوتے ہوئے عقل میں بشرط شے کا مرتبہ لیا کہ اسے قادر بنائیں اور واجب میں لابشرط شیئ کا کہ معاذ اﷲ اسے عاجز ٹھہرائیں۔
Flag Counter