بحمد اﷲ تعالٰی فاعل کا مختار ہونا آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا مگر فلاسفہ اور ان کے فضلہ خوار اس خلاق علیم کو صرف ایک شے عقل اوّل کا موجد جانتے ہیں باقی تمام جہان کی خالقیت عقول کے سر منڈھتے ہیں وہ تو عقل اول بنا کر معاذ اللہ معطل ہوگیا ۔ عقل اول نے عقل ثانی و فلک تاسع بنائے عقل ثانی نے عقل ثالث و فلک ثامن، یوں ہر عقل ایک عقل اور ایک فلک بناتی آئی یہاں تک کہ عقل تاسع نے عقل عاشر و فلک قمر بنائے پھر عقل عاشر نے ساری دنیا گھڑ ڈالی اور ہمیشہ گھڑتی رہے گی اسی لیے اسے عقل فعال کہتے ہیں تو کہیں وہ بے دین یہ نہ سمجھیں کہ اس کا مختار ہونا ثابت ہوا، حاشا یا عالم میں کوئی نہ فاعل موجب نہ فاعل مختار، فاعل مطلق و فاعل مختار ایک اللہ واحد قہار، یہ مسئلہ بھی نگاہ ایمان میں بدیہیات سے ہے۔ اور عقل سلیم خود حاکم کہ ممکن آ پ اپنے وجود میں محتاج ہے دوسرے پر کیا افاضہ وجود کرے، دو حرفِ مختصر اس پر بھی لکھ دیں کہ راہِ ایمان سے یہ کانٹا بھی باذنہ عزوجل صاف ہوجائے۔ یہاں ابلیس نے فلاسفہ کی راہ یہ سمجھا کر ماری کہ جو واحد محض ہو جہاں تعدد جہات بھی نہ ہو اس سے ایک ہی شیئ صادر ہوسکتی دوسری کسی شیئ کا اس سے صدور محال اور واجب تعالٰی ایسا ہی واحد ہے لہذا وہ صرف عقل اول بنا سکا باقی ہیچ ۔ وہ خبثاء اپنے اس مطلب پر دلیل (عہ) لائے جس کے رد میں ہمارے اکثر متکلمین مصروف ہوئے، اور لم، ولا نسلم( کیوں اور ہم نہیں مانتے ت) کا سلسلہ بڑھا حالانکہ اس دعوٰی و دلیل کو ہاتھ لگانے کی اصلاً حاجت نہ تھی وہ ہمیں نہ کچھ مضر تھا نہ ان مشرکین کو اصلاً کچھ نافع جیسے قہار واحد کے بارے میں ا ن کا دعوٰی اور اس پر ان کی دلیل ہے۔ مولٰی عزوجل اپنی خالقیت میں اس سے منزہ و متعالٰی ہے تو اس دعوٰی سے نہ خالقیت دیگر اشیاء اس سے مسلوب ہوسکتی ہیں نہ کسی دوسرے کے لیے ہر گز ثابت ، قریب تر راہ وہ ہے کہ انہیں کی جوتی انہیں کا سر ہو،
عہ: ہم بتوفیقہ تعالٰی اس دلیل پر بھی ایک نہایت مختصر و کافی کلام کردیں گے نہ اس لیے کہ اس پر کلام کی حاجت بلکہ اس لیے کہ اس سے بعونہ تعالٰی ایک فائدہ جلیلہ مسئلہ صفات الہیہ میں روشن ہوگا جس میں رائیں مضطرب و متحیر ہیں۔ وباﷲ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ۔
خبثاء سے پوچھا گیا کہ عقل اول بھی تو ایک ہی چیز ہے اس سے دو بلکہ چار بلکہ ابن سینا کے ظاہر کلام پر پانچ کیسے صادر ہوئے۔ عقل ثانی اور فلک تاسع کا مادہ اور اس کی صورت اور اس کا نفس مجردہ اور نفس منطبعہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ وہ اگرچہ اپنی ذات میں واحد ہے مگر جہات و اعتبارات رکھتی ہے اب مضطرب ہوئے بعض نے دو جہتیں رکھیں امکان ذاتی اور وجوب بالغیر ان دو جہتوں سے فلک وعقل اس سے صادرہوئے۔ بعض چرچے کہ فکل میں نرا جسم ہی تو نہیں نفس بھی ہے تو دوجہتیں کیا کافی ہوں گی انہوں نے تیسری اور بڑھائی وجود فی نفسہ بعض اور چونکے اب بھی بس نہیں جسم فلک میں دو جوہر دھرے ہوئے ہیں۔ ہیولٰی و صورت انہوں نے چوتھی اضافہ کی اس کا اپنے موجد کو جاننا ، بعض نے شاید یہ خیال کیا کہ ابھی نفس منطبعہ رہ گیا انھوں نے پانچویں زیادہ کی کہ عقل کا اپنے آپ کو جاننا اس پر ہماری طرف سے کھلا اعتراض ہے کہ سفیہو ایسے جہات کیا مبدا اول میں نہیں اس کا وجوب ہے وجود ہے اپنی ذات کریم کو جاننا ہے اپنے ہر غیر کو جاننا ہے بے شمار سلب ہیں کہ نہ جوہر ہے نہ عرض نہ مرکب نہ متجزی نہ جسم نہ جسمانی نہ مکانی نہ زمانی نہ ، نہ ،نہ، الٰی آخرہ، خبثاء کا صریح ظلم کہ عقل میں جہات لے کر اسے تو موجد متعدد اشیاء مانیں اور یہاں محال جانیں، یہ حاصل ہے اس سہل وصاف راستے کا جو ہماری طرف سے چلا گیا مناسب ہے کہ ہم بتوفیقہ تعالٰی اس کی توضیح و تفصیل و تتمیم و تکمیل اور سفہائے فلاسفہ کی تسفیہ و تجہیل پھر حقیقت واقعہ کی تبیین وتسجیل کرکے بعونہ عزوجل آخر میں وہ ظاہر کریں جو شاید آج تک ظاہر نہ کیا گیا یعنی یہ کہ فلاسفہ کا دعوٰی
الواحد لایصدر عنہ الاالواحد
خود ہی فرض محال و تناقض و جنون ہے۔ وباﷲ التوفیق۔
اولا اقول: : عقل اول میں ایک جہت او زچ رہی وہ اس کا تشخص اس جہت سے ایجاد کیوں نہ کیا۔ کیا مفارقت میں بخل ہے۔
ثانیاً اقول: فلاسفہ نے اسی دلیل میں کہا ہے کہ جب ایک سے دو صادر ہوں تو دونوں (عہ) یا ایک مصدریت ضرور ذات سے زاید ہے تو ضرور ذات سے صادر ہے، یوں ہی ہم کہتے ہیں کہ فلک تاسع کے قطبین معین کرنا، جہت حرکت خاص کرنا، قدر حرکت مقرر کرنا یہ سب یہی ذات عقل پر زائد ہیں تو ضرور اس سے صادر ہیں تو عقل اول سے آٹھ صادر ہوئے اور جہتیں کل چھ، تو واحد محض سے تین کا صدور لازم۔
عہ: علت میں ایک خصوصیت ضرور جس کے سبب وہ معلول ہیں موثر ہو وہی مصدریت سے مراد ہے، نہ معنی اضافی ، وہ خصوصیت عین ذاتِ علت ہے اگر نفس ذات موثر ہے ورنہ کوئی حالت اور ہر معلول کے لیے علت میں خصوصیت جدا گانہ لازم اب اگر واحد کا معلول واحد ہو تو مصدریت سے اس میں تعددلازم نہیں، جب نفس ذات علت ہے تو مصدریت عین ذات ہے لیکن جب دوہوں تو اگر نفس ذات کسی کی علت نہیں تو دونوں مصدریتیں ورنہ جس کے لیے نہیں اس کی مصدریت ذات پر زائد ہوئی اور ضرور ہے کہ وہ مصدریت ذات ہی سے صادر ہو کہ واحد کو علت مانا ہے نہ کہ جزء علت اب اس کے صدور میں کلام ہوگا۔ اور غیر متناہی مصدریتیں لازم، اور وہ دو حاصروں میں محصور، واحد اور اس کا یہ معلول یہ وہ غایت تو جیہ ہے جو دلیل فلسفی کی کی گئی ۔
اقول: اولا سب ایرادوں سے قطع نظر ہو تو موضوع قضیہ یعنی واحد محض اب بھی محال ہوگیا اور محال سے واحد کا صدور جائز ماننا صریح جہل ہے، مانا کہ مصدریت عین ذات ہو مگر فرق اعتباری قطعاً حاصل ، ذات من حیث الخصوصیۃ یقینا ذات من حیث ھی ھی نہیں تو دو جہتیں اب یہی حاصل اور واحد محض کہ نفس ذات کے سوا کچھ نہ ہو نہ رہا فافھم۔
ثانیاً فائدہ جلیلہ : اقو ل: وباﷲ التوفیق۔ ( میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔(ت) ذات میں جو کچھ زائد بر ذات ہو، کیا ضرور کہ صادر از ذات ہو یعنی ذات اس کی علت فاعلی و مفیض وجود ہو کہ صدور سے یہی مراد ہے کیوں نہیں جائز کہ لازم ذات ہو اور لوازم ذات مجعول ذات نہیں ہوسکتے کہ لازم ذات مرتبہ تقرر ذات میں ہے تقرر خود بھی ایک لازم ذات ہے اور مرتبہ تقرر مرتبہ وجود پر مقدم ہے تو لازم ذات اگر مجعول ذات ہو اپنے نفس پر دو یا تین مرتبے مقدم ہو لاجرم ان کا صادر عن الذات ہونا محال بلکہ ان کا وجود خود وجود ذات میں منطوی ہے اگر ذات مجعول ہے یہ بھی بعینہ اسی جعل سے مجعول ہیں نہ یہ کہ ذات جاعل ہو یا جاعل ذات، ان کا جعل جدا گانہ کرے اور اگر ذات مجعول نہیں یہ بھی اصلاً مجعول نہیں، نہ ذات کے نہ کسی کے ، جیسے صفاتِ باری عزوجل کہ لازم ذات و مقتضائے ذات ہیں نہ کہ معاذ اﷲ ایجاباً یا اختیاراً مجعول و صادر عن الذات اس تحقیق سے روشن ہوا کہ ہر ممکن اپنے وجود میں واجب کا محتاج ہے خواہ افاضہ وجود میں جب کہ اس کا وجود وجوب واجب سے جدا ہو خواہ اضافت وجود میں جب کہ جدا نہ ہو۔ اسی بنا پر ہمارے علماء نے علتِ احتیاج حدوث کو لیا، یعنی احتیاج الی الجعل ورنہ مطلقاً افتقار کو امکان کافی اور یہی ہے وہ کہ کرام عشیرہ اعنی ائمہ اشاعرہ نے تصریح فرمائی کہ صفاتِ علیہ مقتضائے ذات ہیں نہ کہ صادر عن الذات یہ فائدہ جلیلہ واجب الحفظ ہے وباﷲ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ۔