Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
114 - 212
 (د) جو نپوری نے ان سب جوابوں کو رد کردیا اور اقرار کردیا کہ یہ سوالات بہت ٹیڑھی کھیر ہیں اور یہ کہ فکریں ان کے حل میں حیران ہیں اور یہ کہ ان سے جس جس طرح فلسفیوں نے جان چھڑانی چاہی زیادہ زیادہ دم پر بن آئی اور کچھ بنائے نہ بنی۔ اچھا جونپوری صاحب ! تم تو فلسفہ کے سپوت ہو تو پورے نضج کے بعد اپچے ہو تمہیں کچھ بولو، تو کہتا ہے میرا علم قاصر ہے اور ایک میں کیا طاقت بشری یہاں فائز ہے پھر بھی اتنا کہتا ہوں کہ فلکیات کثیر کرے مختلف مادوں کے ہیں خالق کی عنایت اس کی مقتضی ہوئی کہ ان میں بعض بعض کے جوف میں ہوں اور بعض بعض کے ثخن میں، اور جو ثخن میں ہوں ان میں کچھ مرکز محیط کو شامل ہوں کچھ نہ ہوں ۔ ناچار آپ ہی ان میں غار اور کلیاں ہوئیں اگر عنایت ازلی اس کی خواستگار نہ ہوتی تو سب زمین کی طرح بے خوف ہوتے جس طرح ان کے جوف دار ہونے سے قوتِ فعل میں تکثر نہ ہوا یونہی ان غاروں اور کلیوں سے نہ ہوگا۔ فقط اتنا چاہیے کہ سب کی سطح کروی ہو بساطت فلک سے قوم یعنی فلاسفہ کی یہ مراد نہیں کہ ان میں ستارے اور پرزے نہیں بلکہ یا تو یہ مراد ہے کہ جیسے موالید میں عناصر کسرو انکسار پا کر مزاج حاصل کرتے ہیں فلک ایسا نہیں یا یہ کہ سارا فلک تو بسیط نہیں بلکہ ستارے حامل خارج تدویر متمم ان میں ہر پرزے بسیط ہے، انتہی۔

اقول: عجز کی شامت دیکھی کیا کیا انکھی بلواتی ہے۔

 اولا  تمام کتابوں میں دھوم ہے کہ افلاک بسیط ہیں، افلاک بسیط ہیں اب ان کی بساطت کو استعفاء دیا جاتا ہے، کہ قوم کی یہ مراد ہے کہ وہ تو بسیط نہیں پرزے بسیط ہیں

 ثانیاً مزاج نہ سہی اجزاء تو ہیں، وہ ایک طبیعت کے ہیں یا مختلف علی الاول یہ اختلاف کیسے ، علی الثانی بساطت کہاں۔

  ثالثاً جوف دار ہونے کا منافی کثرت فعل نہ ہونا ایسا بیان کیا گویا وہ مسلم ہے حالانکہ اس پر بھی وہی رد ہے ۔ ہم نے آغاز  کلام اسی سے کیا۔ ہاں اتنا فائدہ ہوا کہ وہ جو ہم نے کہا تھا کہ طبیعت کا اپنا اقتضاء جوف نہ ہونا ہے وہ جونپور ی نے صاف مان لیا اور ہمارے اعتراض کو اور مستحکم کردیا۔

رابعاً  ہاں عنایت الہی نے کیا جو کچھ کیا یہ مختلف اجزاء کی نسبت مختلف عنایات پھر عنایات کی تعیین مقادیر کی تعیین مواضع کی تعیین وغیرہ وغیرہ سب بپابندی استعداد ہیں یا بطور استبداد اول کہاں بسیط مادے میں اختلاف استعداد کیسا ، اور ثانی وہی فاعل مختار پر ایمان ہوا۔ طوسی نے سارے فلسفے کا شہر ڈھادیا تم نے کون سی اینٹ سلامت رکھی۔ بات وہی ہوئی کہ یہ تخصیصیں فاعل کی طرف سے ہیں تین بیسی اور ساٹھ ناک کہاں کہ یوں ہائے مجبوری وائے مجبوری اللہ اللہ ۔ اللہ عزوجل کو فاعل مختار ماننا وہ سخت ناگوار ہے کہ ہچکیاں لودم توڑ و ان کہیاں بولو مگر اس پر ایمان محال دل سے مان بھی چکے ، زبان چبا چبا کر کہہ بھی چکے مگر اقرار ناممکن کہ فلسفہ کا سارا شہر ڈھے جائے گا۔
جحدوا بھا واستیقنتہا انفسھم ظلما وعلوا۔۱؎
اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر سے۔(ت)
(۱؂ القرآن الکریم     ۲۷/۱۴)
خامساً جونپوری وہی تو ہے جس نے فصل حیز میں کہا کہ فاعل تخصیص نہیں کرسکتا جب تک طبیعت کو خصوصیت نہ ہو۔ اب وہی فاعل یہ بے شمار تخصیصیں بے خصوصیت طبیعت کیسے کررہا ہے ۔
نے فروعت محکم آمد نے اصول 	شرم بادت از خدا و از رسول
 ( نہ تیری فروع مستحکم ہیں اور نہ ہی اصول، تجھے اللہ و رسول سے شرم آنی چاہیے۔ ت)

جل و علا وصلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم، بالجملہ روشن ہوا کہ بغیر فاعل مختار کے زمین و آسمان کا کوئی نظام بن سکتا ہی نہیں اور اس کی سطوت وہ قاہر ہے جس نے منکروں سے بھی قبولوا چھوڑا۔
والحمد ﷲ رب العلمین oوخسر ھنالک المبطلون oوقیل بعدا للقوم الظالمین oاف لکم ولما تعبدون من دون اﷲ
بھِتم وتھتم ثم ّ لاتؤمنون و تعترفون ثم لا تنصرفون
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انّک انت الوھاب،
وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد و الہ وصحبہ بغیر حساب۔ آمین
اور سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہانوں کا رب ہے اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ تف ہے تم پر اور ان بتوں پرجن کو تم اللہ کے سو اپوجتے ہو۔ تم لاجواب ہوگئے اور فضول باتوں میں مشغول ہوگئے تو پھر ایمان نہیں لاتے ہو۔ اور اعتراف کرتے ہو پھر باز نہیں آتے ہو۔ اے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہی بڑا دینے والا ہے۔

اور درود نازل فرما ہمارے آقا ومولٰی محمد مصطفٰی پر، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر بغیر حساب کے، اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
Flag Counter