| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۲۹) ہر متمم میں ایک طرف رقّت ایک طرف غفلت ہے۔ طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں یہ مختلف افعال کیسے کئے ( مواقف) اور جب سخن میں اختلاف جائز شکل میں کیوں منع تو کیا ضرور ہے کہ بسیط کی شکل کروی ہو ۔ (شرح مواقف) اس سے جواب دیا گیا کہ فعل واحد سے یہ مراد کہ دو فعل مختلف بالنوع نہ ہوں جیسے کوئی شکل مضلع مثل مثلت یا مربع ہو تو اس میں سطح اور خطا اور نقطہ اور زاویہ نکلے گا اور یہ سب انواع مختلفہ ہیں، یہ مراد نہیں کہ اصلاً اختلاف نہ ہو متموں کے ثخن کا اختلاف فعل کو دو نوع کردے گا۔علامہ سیدّ شریف قدس سرہ، نے اس جواب کو مقرر رکھا۔ اقول , اولا : اگر صرف اختلاف نوعی ممنوع تو بسیط کی شکل بیضوی یا عدسی یا شلجمی ہونے میں کیا حرج ، ان میں بھی کوئی خط یا نقطہ یا زاویہ نہ ہوگا ایک ہی سطح ہوگی اختلاف قطر نہیں مگر اختلاف ثخن سے جسے مان چکے کہ فعل کو دو نوع نہ کرے گا تو بسیط کی شکل کروی بھی ہونا باطل ہوا اور یہ تمام ہیئات و فلکیات کو باطل کردے گا تو ثابت ہوا کہ مجرد ثخن یا قطر یا قدر میں اختلاف بھی طبیعت واحدہ سے مادہ واحدہ میں محال ہے۔ ثانیاً کلام ترجیح بلا مرجح میں ہے اس کے لیے اختلاف نوع کیا ضرور ایک نوع کی دو مساوی فردوں میں ایک کے اختیار کو کوئی مرجح درکار، وہ نہ بسیط کا مادہ ہوسکتا ہے نہ طبیعت نہ فاعل کہ اس کی نسبت سب طرف برابر ہے تومتمم حاوی کی رقت جانب اوج اور غلظت جانبِ حضیض اور محوی کی بالعکس نیز حسب سوال ۲۸ ہر ایک کا یہ معین دل کس طرح ہوا۔ ثالثاً ہر متمم میں دو مستدیر سطحیں چھوٹی بڑی پیدا ہوں گی وہ بتصریح فلاسفہ مختلف بالنوع ہیں۔ رابعاً یہ فلاسفہ اپنی ہیأت میں ہر متمم کی انتہاء ایک نقطہ پر بتاتے ہیں کہ حاوی میں اوج اور محوی میں حضیض ہے تو ہر ایک میں ایک نقطہ اور ایک سطح پیدا ہوئی یہ متباین انواع ہیں۔ خامساً شکل مثلث میں طبیعت کو چار مستوی مثلث سطحیں بنانی پڑیں گی اور مربع میں ۶ مربع، مثلث خواہ مربع سطحیں آپس میں متحد بالنوع ہیں خطوط و نقاط و زوایا طبیعت کو بنانے نہ ہوں گے وہ نہایت ابعادو تلاقی نہایات سے خود ہی پیدا ہوجائیں گے پھر بسیط کی شکل طبعی مضلع ہونی کیا دشوا ر۔ سادساً اب ایک اور ترجیح بلا مرجح گلے پڑی۔ جب طبیعت بسیط کی شکل بیضی عدسی شلجمی کروی مثلث مربع مخمس حتی کہ متمموں کی طرح ہیات مسطحہ میں گویا ہلالی سب انداز کی بناسکتی ہے توبا وصف اتحاد مادہ و شمول قابلیت ایک کا اختیار اسے روا نہیں تو بسیط کا بننا ہی محال ہوا الحق فاعل مختار کو چھوڑنے والے زمین و آسمان میں کہیں مفر نہیں پاسکتے۔ وﷲ الحجۃ البالغۃ ۔ سابعاً سب درکنار کرہ مجوف و بے خوف تو طبیعت کے بنائے ہوئے دونوں موجود ہیں۔ آٹھ مصمت ۳۵ مجوف اگر اسے دونوں کا اختیار توفاعل مختار پر ایمان سے کیوں انکار، اور اگر وہ ایک ہی طرح کا چاہتی تھی ممانعت خارج سے ہوئی تو قسر کا دوام لازم فلکیات پر قسم لازم۔
(۳۰) ہر تدویراتنی ہی بڑی کیوں ہوئی کم و بیش کیوں نہ ہوسکی۔ ( مواقف) اگر کہیے حامل اتنا ہی دل رکھتا تھا۔ اقول: اولا اس کا اتنا ہی دل کس نے لازم کیا۔ ثانیاً کیا ضرور کہ تدویر حامل کے مقعر و محدب کو بھردے کیوں نہ بیچ میں خواہ ایک کنارے پر اس قدر سے چھوٹی رہے جیسے فلک البروج میں چھوٹے ستارے۔ (۳۱) تدویریں حاملوں میں جس جس جگہ ہیں اس کی تخصیص کس نے کی ہر جگہ ہوسکتی تھیں۔ (۳۲) سرے سے طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں یہ کلیان پرزے حاملوں میں یہ غار جن میں تدویریں ہیں تدویروں میں یہ غار جن میں کواکب ہیں کیونکر بنائے یہ مختلف افعال کدھر سے آئے ( مواقف وغیرہ ) اس کے چار جواب ہوئے۔ (ا) سب سے بالا سب سے نرالا فلسفہ کے گھر کا پورا اجالا کہ کہاں جھگڑے کے لیے پھرتے ہو یہ حامل خارج تدویریں ستارے سیارے چاند سورج سب نرے فرضی اوہام ہیں حقیقت میں ان کا کچھ وجود نہیں۔ آسمان نرے ہموار سپاٹ ہیں، نہ کوئی پرزہ نہ ستارہ ، انصاف کیجئے اس سے بڑھ کر اور کیا جواب ہوسکتا۔ جونپوری بیچارہ اسے نقل کرکے اس کے سوا اور کیا کہے لا ازید علی الحکایۃ ( میں حکایت پر کچھ اضافہ نہیں کرتا۔ ت) یعنی رویش ببیں حالش مپرس ( یعنی اسکا چہرہ دیکھ اور اس کا حال مت پوچھ ت۔ ) اس عناد کو دیکھئے کہ عقل اور آنکھوں سب کو رخصت کردینا منظور مگر فاعل مختار عزجلالہ، پر ایمان لانا کسی طرح قبول نہیں، اصل جواب یہی تھا، باقی تینوں جوابوں نے فاعل مختار مان لیا مگر جحود و انکار برقرار ان کی سنئے۔ ( ب) یہ اختلافات جیسے قابل کی طرف سے ہوسکتے ہیں، یونہی فاعل کی طرف سے یہاں جانب قابل سے تو ناممکن کہ مادہ بسیط ہے فاعل کی طرف سے ہونے میں کیا حرج ہے۔ (طوسی) افسوس مجبوری سب کچھ کراتی ہے فاعل حسب استعداد کرے گا یا اپنا استبداد اول مفقود اور ثانی ہمارا عین مقصود ، اب تمام فلسفہ مزخرفہ باطل و مردود، لاجرم جونپوری سے نہ رہا گیا صاف کہہ دیا کہ طوسی نے ایک گھر بنادیا اور سارا شہر ڈھادیا فلسفے کی کثیر چولیں اوکس (عہ ) گئیں۔
عہ: بمعنی انقص ۱۲ الجیلانی
(ج) یہ اختلاف یہ ہے کہ جرم فلک کے بعض حصوں پر جدا جدا صور نوعیہ فائض ہوئیں اور بعض نے ستارے بعض نے تدویروں کے غار اور تدویروں میں غار خود ہی ہوا چاہیں اور حامل و خارج غیر مرکز پر تھے تو متمموں کی کلیاں آپ ہی ضرورۃً پیدا ہوئیں۔ (ایضا طوسی) ناظرین دیکھتے ہیں کال تو اب بھی نہ کٹا۔ اولا جب مادے میں مختلف استعداد نہیں مختلف صورتوں کا فیضان کس طرح ہوا۔ ثانیاً اقول: پھر مادہ متشابہ میں سے ہر ٹکڑا ایک صورت نوعیہ کے لیے کس نے خاص کیا ہر صورت اور ٹکڑے پر کیوں نہ فائض ہوئی اس کا پھر وہی جواب ہوا کہ یہ فاعل کی طرف سے ہے- (سید شریف) اور اس پر وہی رد ہے جو جواب ب پر گزرا۔ علامہ سید قدس سرہ سنی مسلمان ہیں اور ان کے قلب و قلم نے اسے بخوشی قبول فرمالیا۔ طوسی بھی اسلام کا دم بھرتا ہے اس کے قلم سے نکل گیا اور اس وقت فلسفہ کی بربادی کی طرف دھیان نہ گیا۔ فلسفیوں اور جونپوری کے دل سے پوچھو کہ آرے چل گئے۔
قدبنی قصراوھدم مصراً وبطل الدلیل وانثم اصول کثیرۃ ۔
تحقیق اس نے محل بنایا اور شہر کو گرایا۔ دلیل باطل ہوگئی اور بہت سے اصول کمزور ہوگئے۔ (ت)