| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اولا اقول: قابلیت استدارہ کی قلعی عنقریب مقام ۱۶ میں کھل جائے گی۔ ثانیاً مبدء میل ہونا مستلزم حرکت نہیں مانع سے تخلف ہوسکتا ہے۔(سید شریف) اقول: نیز عدم شرط سےدیکھو زمین اور ہاتھ پر اٹھائے ہوئے پتھر میں مبدء میل ہے اور حرکت نہیں۔ سیالکوٹی نے کہا حرکت مستدیرہ سے مانع صرف میل مستقیم ہے وہ افلاک میں نہیں ۔ اقول: دونوں مقدمے غلط ہیں۔ (۱) ہم ثابت کریں گے کہ فلک پر قصر جائز۔، (۲) ثابت کریں گے کہ اس میں میل مستقیم ہے۔ (۳) مناط حرکت کمال ثانی ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ وہ یہاں مقصود۔ ثالثاً اقول: تخصیص قطبین و قدر وجہت مادہ کرے گا یا صورۃ جسمیہ یا نوعیہ یا فاعل اجنبی ان پانچ میں حصر قطعی ہے اور پانچوں باطل، اول وسوم بوجہ بساطۃ، دوم و چہارم بوجہ استوائے نسبت ، پنجم بلکہ چہارم بھی بوجہ لزوم قسر، جب اس شق کا بطلان نامعلوم تخصیص یقیناً معدوم، پھر اس کہنے کے کیا معنی کہ ضرور کسی وجہ سے ہوئی۔ رابعاً اقول: مناظرہ میں معارضہ کا دروازہ ہی بند کردیا ہر معارضہ پر مستدل یہی کہہ دے گا کہ میں مدعا دلیل سے ثابت کرچکا یہ استحالہ جو تم بتاتے ہو کسی وجہ سے ضرور مندفع ہے گو ہمیں نہ معلوم ہو، یہ ہے منطق میں ان کا عمر گنوانا۔
(۳) اقول: فلک اطلس کے لیے یہ قدر حرکت کہ ۲۳ گھنٹے ۵۶ دقیقے ۴ ثانئے ۵ ثالثے ۲۶ رابعے میں دورہ پورا کرے کسی نے معین کی، اگر کہیے فلک کی حرکت ارادیہ ہے اس نے اتنا ہی ارادہ کیا۔ اقول: یہ ترجیح بلا مرجح ہے کہ اس کا مقصود تبدل اوضاع تھا وہ ہر قدر حرکت سے حاصل تھا۔ نہیں نہیں ترجیح مرجوح ہے،کہ حرکت وصول الی المطلوب کے لیے مقصود بالعرض ہے اگر بلا حرکت وصول ہوسکتا حرکت نہ ہوتی اور مقصود جس قدر جلد حاصل ہو بہتر، تو واجب تھا کہ اس سے سریع تر حرکت چاہتا اس قدر کا ارادہ قصد مقصود میں تعویق ہے اگر کہیے یوں تو ہر اسرع سے اسرع متصور ہے۔ تو جو مقدار اختیار کرتا اس پر یہی سوال ہوتا کہ اس سے اسرع کیوں نہ کی۔ اقول: ضرور ہوتا اور تمہیں اس سے مفر نہ تھا اس سوال کا انقطاع بے اس کے ناممکن نفس ارادہ کو مخصص ومرجح مانیں اور اس میں تمام فلسفہ کی عمارت زائل اور ہمارا مقصود حاصل اگر کہیے زمانہ ایک مقدار معین ہے اور وہ اسی قدر حرکت اطلس سے حاصل کم و بیش ہو تو زمانہ بدل جائے۔ اقول: کیوں الٹے چلتے ہو زمانہ تو اسی کی مقدار حرکت ہے۔ اس کی تعیین تو اسی کی حرکت سے ہوئی نہ کہ اس کی حرکت کی تجدید اس سے کرو اس کی حرکت کم و بیش ہوتی تو زمانہ آپ ہی کم بیش ہوتا اور کچھ حرج نہ تھا۔ (۵) اقول: یہی سوال ہر فلک کی حرکت پر ہے وہاں زمانے کا بدلنا بھی نہیں۔ (۶) اقول: تقاطع معدل و منطقہ پر کون حامل ہے، کیا انطباق ناممکن تھا۔ (۷) اقول: ہوا تو اسی مقدارپر کیوں ہوا، اگر یہ مقدار محفوظ ہے جیسا کہ اگلوں کا خیال تھا جتنا تبدل ہر صدی پر ہوتا ہے جیسا اب سمجھا جاتا ہے۔ اس سے کم زیادہ کیوں نہ ہوا۔اس خاص کو اس نے معین کیا، وجہ تعیین کیا ہے، مادی یا طبیعت کو ا ن خصوصیات سے کیا خصوصیت ہے اور بفرض غلط اطلس یا ثامن کے مادے یا طبیعت کو ایک صورت سے اختصاص ہو بھی تو دوسرے کے مادے یا طبیعت کو اس سے کیوں اختصاص ہوا، حالانکہ دونوں کے مادے بھی مختلف اور طبیعت بھی۔ (۸) اقول: یہ دونوں نقطے معدل سے شخصی ہیں انہیں نقاط کی کس نے تخصیص کی اور نقطوں پر کیوں نہ ہوا۔ (۹) اقول: فلک ثوابت کا مادہ واحد طبیعت واحد پھر اتنے حصے سادہ رہے اتنے حصے ستارے ہوگئے اس کی کیا وجہ۔ (۱۰) اقول: جو حصے ستارے ہوئے کیا سادہ نہیں رہ سکتے تھے جو سادے پھر ستارے نہیں ہوسکتے تھے پھر تعین کس نے کی کہ یہی سادہ رہیں وہی ستارے ہوں۔ (۱۱) اقول: پھر ستارے جن جن مواضع پر ہیں ان کی تعین کہاں سے آئی مثلاً شعری یمانی کی جگہ شامی، شامی کی جگہ یمانی، نسرطائر کی جگہ واقع، واقع کی جگہ طائر کیوں نہ ہوا۔ یونہی ہر کوکب تمام باقی کے ساتھ تو یہ سوال کہ درون سوال ہے۔ (۱۲ و ۱۳)اقول: پھر ان کی قدریں مختلف کیوں ہوئیں اور ہر کوکب کے ساتھ اس کی قدر کس نے خاص کی۔ (۱۴) اقول :کو اکب کو حرکت کل کے علاوہ حرکات خاصہ کیوں ہوئیں، باقی حصوں کو کیونکر نہ ہوئیں۔ (۱۵) اقول: ستارے ذی لون ہوئے کہ نظر آئیں باقی حصے بے لون رہے کہ نظر نہیں آسکتے یہ اختلاف کس نے دیا۔ (۱۶) اقول: ستارے خود لون میں مختلف ہیں۔ یہ تفاوت کدھر سے آیا۔
(۱۷ تا ۲۴) اقول: ۷ سے ۱۴ تک آٹھوں سوال ساتوں سیاروں پر بھی وارد ہیں۔ (۲۵) اقول: ایک ہی فلک کے پرزوں کو مختلف حرکت کس نے دی۔ (۲۶) اقول: فلک عطارد وقمر میں ان کی جہت کس نے مختلف کی۔ (۲۷) اقول: ہر ستارہ اپنی تدویر کے جس حصہ میں ہے اسی میں کیوں ہوا دوسرے میں کیوں نہ ہوا۔ (۲۸) اقول: ہر حاصل اور اس کے دونوں متمموں کے مخصوص دل میں جن سے کمی بیشی غیر متناہی وجوہ پر ممکن ہے، حامل جتنا چوڑا ہوتا متمم پتلے ہوتے وبالعکس اس خاص دل کی تعیین کس نے کی، تو کہیے عامل کی تردید جتنی بڑی ہے اتنا ہی اس کا دل ہونا ضروری ہے۔ اقول , اولا : اتنا ہی ہونا کیا ضرور اس سے بڑا ہونا کیا محذور، جیسے فلک ثوابت کا دل ایک ہے اور اس میں چھوٹے بڑے ستارے سب ہیں۔ ثانیاً یہ سوال خود آتا ہے کہ تدویر وں کا اتنا بڑا ہونا ہی کس نے لازم کیا اس سے چھوٹی یا کیوں نہ ہوئیں۔