اقول: اولا یہ تخصیص جہت وغیرہ کا مبطل ہے کہ تبدل اوضاع ہر گو نہ حرکت سے حاصل ۔
ثانیاً وہاں کمالات بالفعل تھے تبدل وضع کیا کمال ہے محض لغو حرکت ہے تو حاصل یہ ہوا کہ معشوق میں کمالات جمع ہیں عاشق لغویات اکٹھے کرتے یہ تشبیہ ہوا یا تمسخر۔
ثالثاً فرض کر دم کہ تبدیل وضع سے فلک کو کمالات حاصل ہوتے ہیں تو وہ ہر وضع حاصل کو معاً ترک کرتا ہے تو ایک جہت سے اگر تحصیل کمالات ہے معاً دوسری جہت سے ابطال کمالات ، تو حرکت سے ہر آن میں اگر ایک وجہ سے تشبہ ہے معاً دوسری وجہ سے تباین، دونوں متعارض ہو کر ساقط ہوئے اور حرکت نہ ہوئی مگر لغو حرکت۔
رابعاً ہر دورے میں جن اوضاع کو چھوڑا انہیں کھائی ہوئی کھوئیوں ہی کو پھر دہراتا ہے۔ اگر اس قدر اوضاع تبدل سے تشبہ حاصل ہوتا ہے تو ایک دورہ ختم کرکے تھم جانا واجب تھا کہ حرکت مقصود بالعرض ہوتی ہے جس غرض کے لیے تھی وہ مل گئی اب دہرانا حماقت بلکہ معشو ق سے تباین محض کہ حصول بالفعل کا تشبہ حاصل ہوچکا۔ اب تجدد و تغیر نرا تباین رہ گیا اور اگر ان سے تشبہ نہیں ہوتا تو ہر بار وہی تو ہیں اب کیوں حاصل ہوجائے گا۔ نا محصل تشبہ کیا دوسری دفعہ میں محصل ہوجائے گا اول تو یہ خود باطل، اور بالفرض ہو بھی تو دوبارہ سے غرض حاصل ہوگئی۔، اب تھمنا واجب تھا،
خامساً قطع نظر اس سے کہ نا محصل کبھی خود محصل کیونکر ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس سرگردانی سے غرض تشبہ کبھی حاصل ہوسکتی ہے یا کبھی نہیں اگر کبھی نہیں تو یہاں کوئی کمال ثانی نہیں جس کے لحاظ سے یہ حرکت کمال اول ہو کہ جو ممتنع الحصول ہے اس کا کمال نہیں ہوسکتا اور حرکت نہیں مگر کمال اول تو حرکت باطل ہوئی۔ اور اگر ہاں ایک وقت وہ آئے گا کہ یہ مقصد حاصل ہوجائے گا تو اسی وقت حرکت کا انقطاع واجب اور کوئی حرکت منقطعہ حرکت فلک نہیں کہ کوئی حرکت فلک منقطعہ نہیں، بالجملہ یا تو یہ حرکت ہی نہیں یا حرکت ہے تو حرکتِ فلک نہیں۔ بہرحال حرکتِ فلک باطل۔
سادساً مفارقات تجدد و تغیرّ سے بری ہیں تو ان سے تشبہ سکون و قرار میں تھا نہ کہ ہمیشہ کی سرگردانی و تغیر و بے قراری میں۔
سابعاً مانا کہ یوں بھی کوئی تشبہ ملتا تو سکون سے یہ تشبہ حاصل کیا مرجح ہوا کہ اس تشبہ کو چھوڑ کر اسے لیا۔
ثامناً بلکہ تشبہ بالسکون ابتداً خود فلک کو ملتا کہ تغیر سے جدا رہا اور حرکت میں اسے اصالۃً تشبّہ نہیں کہ اس کی اپنی ذاتی وضع نہ بدلی بلکہ اجزائے موہومہ کی جن کا وجود خارج میں محال کہ خرق جائز نہیں مانتے تو یہ تشبہ اصالۃً ان موہوماتِ ناممکنہ کو ہوا نہ کہ فلک کو، اور وہ فلک کو بھی ہوتا اور ان موہومات کو بھی، تو وہی راجح تھا۔ یہ ترجیح مرجوح ہوئی۔ اس کی تحقیق مقام پنجم میں آتی ہے ان شاء اللہ۔
تاسعاً اسے لیا بھی تھا تو ایک ہی تشبہ کا دائماً التزام اور دوسرے سے ہمیشہ انحراف کیا معنی ، کبھی یہ ہوتا کبھی وہ کہ جملہ وجوہ تشبہّ حاصل ہوتے۔
عاشراً یہی تشبہ لیا سہی قطبین کا التزام غرض مقصود کے سخت منافی ہوا کہ ایک ہی قسم کا تبدل اوضاع حاصل ہوا واجب تھا کہ ہر دورہ نئے قطبین پر ہوتا کہ حتی الوسع استیعاب وضع ہوتا۔ تلک عشرۃ کاملۃ (یہ پوری دس ہیں۔ت)
(۳) (عہ۱) وضعیہ کے لیے تعیین قطبین ضرور، اور فلک پر ہر دو نقطے قطبین بن سکتے ہیں۔
اقول: جو عظیمہ لیجئے اس کے دو متقاطر نقطے قطبین ہوسکتے اور ایک عظیمہ میں غیر متناہی نقاط ممکن، اور سطح فلک پر غیر متناہی عظیمے ممکن ، تو یہ غیر متناہی دس غیر متناہی سے ایک کی تخصیص کیونکر ہوئی۔ اس(عہ۲ ) کا جواب دیا گیا کہ یہ تخصیص فلک کے نفس منطبعہ سے ہے۔