| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۱) اقول: مادہ واحدہ میں طبیعت واحدہ کا فعل واحد تو اس کا مقتضی تھا کہ افلاک مثل زمین کرہ مصمۃ بے جوف بنتے کہ ایک ہی سطح رکھتے، دیکھو پانی کے قطرے اور آگ کے پھول ایسے ہی نکلتے ہیں نہ کہ اندر سے خالی جوف کا اقتضاء طبع بسیط نے کس بناء پر کیا جس سے محدب و مقعر دوسطحیں متبائن بالنوع پیدا ہوئیں، بڑی سطوح مستدیرہ فلاسفہ کے نزدیک مختلف بالنوع ہیں جیسے مستوی ومستدیر کہ ایک کا دوسرے پر انطباق ناممکن اگر کہیے بنتا تو یہی مگر جوف میں اور اجسام کا ہونا مانع آیا۔ اقول: یہ مانع خارج سے ہے تو قسر ہوا، ایک تو افلاک پرقسر لازم آیا دوسرے اس کا دوام، اگر کہیے وہ مادہ جس میں طبیعت نے فعل کیا یہیں ملا۔ اقول: مادہ متحیز بالذات نہیں لباس صورت کے بعد متحیز ہوگا۔ اور صورت بے شکل موجود نہیں ہوسکتی۔ کمانص علیہ ابن سینا فی الارشارات ( جیسا کہ ابن سینا نے اشارات ( جیسا کہ ابن سینا نے اشارات میں اس پر نص کی ہے۔ت) اور یہاں فعل ایجاد شکل کے لیے ہے تو اس وقت تحیز ہیولٰی کہاں، اگر کہیے مادہ میں اسی کھکل شکل کی قابلیت تھی۔
اقول: اولا : مادہ باعتبار اشکال لوح مادہ ہے ہر نقش کی قابلیت رکھتا ہے وہ قابلیت ہرگونہ اتصال و انفصال ہی کے لیے مانا گیا ہے اور شک نہیں کہ ان کے ورود سے ہر طرح کی مختلف شکلیں پیدا ہوں گی فلک پر کہ استحالہ خرق والتیام کے مدعی ہیں وہ جہت مادہ سے نہیں بلکہ تجدید جہت سے۔ ثانیاً مادے میں کسی شکل خاص کا اقتضا باقی سے آیا ہو تو فلاسفہ کا مدعا کہ ہر جسم کی ایک شکل طبعی ہے جیسا کہ مقامِ پنجم میں آتا ہے مردود ہوجائے گا وہاں انہوں نے خود تصریح کی ہے کہ خصوصیت شکل جانبِ مادہ مستند نہیں ہوسکتی۔ (۲) (عہ۱) فلک تو بسیط ہے ہر جہت سے اسے یکساں نسبت ہے پھر کس نے تخصیص کی کہ اطس مشرق سے مغرب کو گھومے یا ممثلات مغرب سے مشرق کو۔ اس کا جواب سفہاء (عہ۲) نے تین مہمل تحکمات سے دیا۔ (۱) ہر فلک کا مادہ اسی طرف حرکت کو قبول کرتا ہے۔ (ب) سافلات سے ان کے تعلقات اسی سے حاصل ہوتے ہیں۔ (ج) ہر فلک اپنے مبداء مفارق کا عاشق اور اپنے معشوق سے تشبیہ چاہتا ہے وہ یونہی ملتا ہے۔
عہ۱: مواقف وموقف رابع اول فصل دوم قسم اول مقصد دوم ۱۲ منہ غفرلہ۔ عہ۲: مثل صدرا وغیرہ ۱۲منہ۔
اقول:اولا: یہ بداہۃً نرے تحکم ہیں، جہت میں کیا خصوصیت ہے کہ مادہ اسی کو قبول کرے، دوسرے سے ابانہ سافلات سے تعلق یا مفارقات سے تشبیہ کسی جہت خاص پر موقوف ،
ومن ادعی فعلیہ البیان
(جس نے دعوٰی کیا دلیل اس کے ذمہ ہے۔ ت)
ثانیاً کتنا صریح جھوٹ ہے کہ ہر فلک کا مادہ اسی کا قابل، سفہاء نے افلاک کلیہ کو دیکھا انہیں مختلف بالمادہ مان چکے ہیں سمجھے کہ نجات پائی، ہر فلک کے افلاک جزئیہ کو دیکھیں۔ فلک شمس میں دو حرکتیں ہیں ممثل و خارج کی، فلک علویات و زہرہ میں تین تین ممثل و حامل و تدویر کی فلک عطارد میں چار، تین یہ اور ایک مدیر کی فلک قمر میں پانچ، تین وہ اور جو زہر و مائل کی ، بلکہ ہر ایک میں ایک ایک حرکت زائد ہے کہ کوکب خود بھی حرکت وضعیہ رکھتا ہے اور ان سب کی قدر مختلف ہے جیسا کہ گزرا ۔ اور فلک زیریں میں اختلاف جہت بھی عطارد میں مدیر مغرب کو جاتا ہے باقی مشر ق کو، اور قمر میں ممثل و حامل مشرق کو جاتے ہیں باقی مغرب کو، اور شک نہیں کہ مادہ واحد ہے، وہ اگر ایک ہی کو قبول کرتا ہے دوسری کدھر سے آئی۔ یونہی تعلق و تشبہ کے لیے مختلف راہیں لینا کیونکر، حالانکہ سب پرزوں سے ایک ہی نفس متعلق اور قابل بھی واحد ، پھر اختلاف یعنی چہ۔ ثالثاً کیا فارق ہے کہ اطلس کا تعلق و تشبہ حرکت شرقیہ ہی سے ہوسکا غربیہ سے ناممکن تھا۔ اور باقی آٹھ کا غربیہ ہی سے بن پڑا شرقیہ سے محال تھا۔ رابعاً افلاک عقول کے کسی امر مشترک میں تشبہ چاہتے ہیں، یا ہر فلک اپنے معشوق کے امر خاص میں، برتقدیر اول اسے وجہ تخصیص ٹھہرانا کیسا جہل ہے۔ برتقدیر ثانی واجب تھا کہ ہر فلک کی حرکت نئی طرز کی ہوتی، خصوصاً اس حالت میں کہ فلاسفہ کے نزدیک ہر عقل دوسری سے متباین بالنوع ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ صرف فلک اطلس کی حرکت جدا ہے باقی آٹھوں افلاک کلیہ اقطاب و محاورو مناطق و جہت و قدر حرکت سب میں متوافق ہیں۔ یہ تشبہ کیسا تبین حرکت میں مفارقات سے تشبہ یہ بگھارتے ہیں کہ مفارقات کے لیے سب کمالات ممکنہ بالفعل ہیں افلاک سب اوضاع ممکنہ کو دفعۃً حاصل نہیں کرسکتے کہ ان کا اجتماع محال، ناچارگھوم گھوم کر وضعیں بدلتے ہیں کہ سب احوال ممکنہ حاصل تو ہوجائیں اگرچہ علٰی وجہ التعاقب۔