مدّتے آرزوئے آں داشت کہ وجہے پیدا شود در مذہب حنفی تادرخلفِ امام قراءتِ فاتحہ نمودہ آید، امابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترک قراء ت مے کرد وایں ترک را از قبیل ریاضت مے شمرد، آخر الامر اللہ تعالی ببرکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادست، حقیقت مذہب حنفی در ترکِ قراء ت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی از قراء تِ حقیقی در نظرِ بصیرت زیبا تر نمود ۔۲
مجھے ایک عرصہ تک آرزو رہی کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کی مذہب حنفی میں کوئی وجہ ظاہر ہوجائے، مگر بواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترک قراء ت کرتا رہا اور اس ترک کو ریاضت کے قبیلے سے شمار کرتا رہا۔ آخر اللہ تعالٰی نے رعایت مذہب کی برکت سے ( کیونکہ مذہب کی مخالفت الحاد ہے) مقتدی کی ترک قراء ت کے بارے میں مذہب حنفی کی حقانیت ظاہر فرمائی اور قراء ت حکمی کو نظر بصیرت میں قراء ت حقیقی سے خوب تر دکھایا(ت)
(۲مبدا ومعاد )
ہاں صاحب! ان بزرگوں کے اقوال کی خبریں کہیے۔ ان بزرگوں کے بزرگ، بڑوں کے بڑے اماموں کے امام کیا کچھ فرمارہے ہیں، ادعائے باطل عمل بالحدیث پر کیا کیا بجلیاں توڑتے گھنگھور بادل گرمارہے ہیں۔
اوّلاً تصریحاً تسلیم فرمایا کہ التحیات میں انگلی اٹھانا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بہت حدیثوں میں وارد ۔
ثانیاً وہ حدیثیں معروف و مشہور ہیں۔
ثالثاً مذہب حنفی میں بھی اختلاف ہے۔ روایت نوادر میں خود امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اشارہ فرماتے تھے ہم بھی کریں گے۔
رابعاً صاف یہ بھی فرمادیا کہ یہی قول امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے۔
خامساً نہ فقط روایت بلکہ علمائے حنفیہ کا فتوٰی بھی دونوں طرف ہے۔ بااینہہ صرف اسی وجہ سے کہ روایاتِ اشارہ ظاہر الروایۃ نہیں، صاف صاف فرماتے ہیں کہ ہم مقلدوں کو جائز نہیں کہ حدیثوں پر عمل کرکے اشارے کی جرات کریں۔ جب ایسی سہل و نرم حالت میں حضرت امام ربانی صاحب کا یہ قاہر ارشاد ہے تو جہاں فتوائے حنفیہ مختلف نہ ہو۔ جہاں سرے سے اختلافِ روایت ہی نہ ہو وہاں خلافِ مذہب امام حدیث پر عمل کرنے کو کیا کچھ نہ فرمائیں گے۔
کیوں صاحبو! کیا انہیں کو شاہ ولی صاحب نے کہا تھا کہ کھلا احمق ہے، یا چھپا منافق، استغفرا للہ ، استغفر اﷲ ذرا تو شرماؤ، ذرا تو ڈرو، شاہ صاحب کی بزرگی سے حیا تو کرو۔ ان کی تو کیا مجال تھی کہ معاذ اللہ وہ جناب مجددیت مآب کی نسبت ایسا گمان مردود و نامحمود رکھتے وہ تو انہیں قطب الارشاد وہادی و مرشدو دافع بدعات جانتے ہیں اور ان کی تعظیم کو خدا کی تعظیم، ان کے شکر کو اللہ کا شکر مانتے ہیں کہ اپنے مکتوب ہفتم میں لکھتے ہیں:
شیخ قطب ارشادایں دورہ است و بردست وے بسیارے از گمراہاں بادیہ صبیعت وبدعت خلاص شدہ اند، تعظیم شیخ تعظیم حضرت مدور ادوار ومکون کائنات است ، و شکر نعمت مفیض اوست۔۱ اعظم اﷲ تعالٰی لہ الاجور ۔
شیخ اس دور کے قطبِ ارشاد ہیں، ان کے ہاتھ پر تکبر و بدعت کی گمراہی میں مبتلا بہت سے افراد نے ہدایت پائی، شیخ کی تعظیم خالق کائنات کی تعظیم ہے اور شیخ کی نعمت کا شکر اس نعمت کو عطا کرنے والے اللہ کا شکر ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں عظیم اجر عطا فرمائے۔(ت)
( ۱ ؎ کلماتِ طیبات فصل چہارم درمکتوبات شاہ ولی اللہ دہلوی مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۶۳ )
ہاں شاید میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کی چوٹ حضرت مجدد صاحب ہی پر ہے کہ معیار الحق میں لکھتے ہیں:
آج کل کے بعض لوگ اسی تقلید معین کے التزام سے مشرک ہورہے ہیں کہ مقابل میں روایت کیدانی کے اگر حدیث صحیح پیش کرو تو نہیں مانتے۔ ۲ ؎
(۲ ؎ معیار الحق بحث تلفیق مکتبہ نذیریہ چناب بلاک اقبال ٹاؤن لاہور ص ۱۸۳ )
اسی مسئلہ اشارہ میں روایت کیدانی پیش کی جاتی ہے۔ جناب مجدد صاحب نے فتاوٰی غرائب و جامع الرموز وخزانۃ الروایات وغیرہا پیش کیں۔ وہ بات ایک ہی ہے۔ یعنی فقہی روایت کے مقابل حدیث نہ ماننا۔ اب دیکھ لیجئے حضرت مجدد کا روایت فقہی لانا اوراُن کے سبب صحیح حدیثوں پر عمل نہ فرمانا۔ اور میاں جی صاحب دہلوی کا بے دھڑک شرک کی جڑ جاننا۔ خدا ایسے شرک پسندوں کے سائے سے بچائے۔ خیر یہ تو میاں جی جانیں اور ان کا کام ،
کلامِ جناب مجدد صاحب کے فوائد سنیے:
اوّل : بڑا بھاری فائدہ تو یہ ہوا۔
دوم : حضرت موصوف نے یہ بھی فرمادیا کہ اقوال امام کے مقابل ایسی معروف حدیثیں جیسی رفع یدین و قراء ت مقتدی وغیرہما میں آئیں کہ کسی طرح احادیث اشارہ سے اشتہار میں کم نہیں وہی پیش کرے گا جو نرا گاؤوی کودن بے عقل ہویا معاند مکابرہٹ دھرم کہ نہ وہ حدیثیں امام سے چھپ رہنے کی تھیں۔ نہ معاذ اللہ امام اپنی رائے سے حدیث کا خلاف کرنے والے، تو ضرور کسی دلیل قوی شرعی سے ان سے عمل نہ فرمایا۔
سوم : یہ بھی فرمادیا کہ ہمیں جواب احادیث معلوم ہوجانا کچھ ضرور نہیں۔ اس قدر اجمالاً جان لینا بس ہے کہ ہمارے عالموں کے پاس وجہ موجود ہوگی۔
چہارم : یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علم میں کسی مسئلہ مذہب پر دلیل نہ ہونا درکناراگر صراحۃً اس کے خلاف پر ہمیں دلیل معلوم ہو جب بھی ہمارا علم کچھ معتبر نہیں اُسی مسئلہ مذہب پر عمل رہے گا۔
پنجم : یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علمائے سلف رضی اللہ تعالٰی عنہم کو جیسا علمِ حدیث تھا جیسا وہ صحیح و ضعیف و منسوخ و ناسخ پہچانتے تھے بعد کے لوگ ان کی برابری نہیں کرسکتے کہ نہ انہیں ویسا علم نہ یہ اس قدر زمانہ رسالت سے قریب، جب حضرت مجدد اپنے زمانہ کو ایسا فرمائیں۔تو اب تو اس پر بھی تین سو برس گزر گئے۔ آج کل کے الٹے سیدھے چند حرف پڑھنے والے کیا برابری ائمہ کی لیاقت رکھتے ہیں۔
ششم : اس شرط کی بھی تصریح فرمادی کہ امام کے وہ اقوال منقولہ سوال خاص اُسی حدیث کے باب میں ہیں جو امام کو نہ پہنچی، اور اس سے مخالف بربنائے عدمِ اطلاع ہوئی نہ یہ کہ اصول مذہب پر وہ بوجوہ مذکورہ کسی وجہ سے مرجوع یا مؤول یا متروک العمل تھی کہ یوں تو بحالِ اطلاع بھی مخالفت ہوتی۔
کمالایخفٰی
(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
ہفتم : جناب مجدد صاحب کی شان علم سے تو ان حضرات کو بھی انکار نہ ہوگا۔ یہی مرزا جانجاناں صاحب جنہیں بزرگ مان کر ان کے کلام سے استناد کیا گیا۔جناب موضوع کوقابل اجتہاد خیال کرتے اور اپنے ملفوظ میں لکھتے ہیں:
عرض کردم یارسول اللہ حضرت درحق مجدد الف ثانی چہ فرمایند؟ فرمودند مثل ایشاں در امتِ من دیگر کیست ۱ ؎
عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ حضور حضرت مجدد الف ثانی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میری امت میں اس کی مثل دوسرا کون ہے۔(ت)
جب ایسے بزرگان بزرگ فرمائیں کہ ہم مقلدوں کو قولِ امام کے خلاف حدیثوں پر عمل جائز ، جو اس کا مرتکب ہو وہ احمق بے ہوش یا ناحق باطلل کوش ہے۔ تو پھر آج کے جھوٹے مدعی کسی گنتی میں رہے۔
یہ سات فائدے عبارت مکتوبات میں تھے۔
ہشتم : اگرچہ قول امام کی حقانیت اپنے خیال میں نہ آئے مگر عمل اسی پر کرنا لازم یہی اللہ عزوجل کو پسند موجب برکات ہے۔ دیکھو ایک مدت تک مسئلہ قراء ت مقتدی میں حقانیت مذہب حنفی جناب مجدد صاحب پر ظاہر نہ تھی ، قراء ت کرنے کو دل چاہا مگر بپاس مذہب نہ کرسکے، یہی ڈھونڈتے رہے کہ خود حنفی مذہب میں کوئی راہ جواز کی ملے۔
نہم: اس سوال کا بھی صاف صاف جواب دے دیا کہ ایک مسئلہ بھی اگر خلاف امام کیا اگرچہ اسی بنا پر کہ اس میں حقانیت مذہب ظاہرنہ ہوئی تاہم مذہب سے خارج ہوجائے گا۔اسے نقل ازمذہب فرماتے ہیں۔
دہم : یہ سخت اشد وقاہر حکم دیکھئے جو ایسا کرے وہ ملحد ہے۔ آپ حضرات اپنے ایمان میں جو مناسب جانیں مانیں، چاہے حضرت مجدد صاحب کے نزدیک معاذ اللہ تعالی شاہ صاحب و مرزا صاحب کو سفید و معاند و ملحد قرار دیں، چاہے ان دونوں صاحب کے طور پر حضرت مجدد کو مدعی باطل و مخالف امام اور عیاذاً باللہ کھلا حق یا چھپا منافق ٹھہرائیں
ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم
( گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق نہیں مگر بلندی و عظمت والے معبود کی توفیق سے ۔(ت) لاجرم یہ دونوں صاحب اسی صحتِ عملی میں کلام کررہے ہیں جس پر اطلاع فقہائے اہل نظر و اجتہاد فی المذہب کا کام، اب نہ یہ کلام باہم متخالف ، نہ ان میں کوئی حرف ہمارے مخالف
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ۔
(یوں ہی تحقیق ہونی چاہیے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔(ت) یہ محبث بہت طویل الاذیال تھی جس میں بسطِ کلام کو دفتر ضخیم لکھا جاتا ۔ مگر
ماقل وکفٰی خیر مما کثر و الہی
( جو مختصر اور جامع ہو وہ اس سے بہتر ہے جو کثیر اور لغو ہو) حضرات ناظرین خاص مبحث مسئول عنہ پر نظررکھیں۔ خروج عن المبحث سے کہ صنیع شنیع جہلہ وعاجزین ہے حذر رکھیں۔
وصلی اللہ تعالٰی علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
اے ہمارے رب ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر، اور تیر افیصلہ سب سے بہتر ہے، اور درود نازل فرما اللہ تعالٰی رسول کے سردار محمد مصطفے پر اور آپ کی تمام آل و اصحاب پر (ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۷/ ۸۹ )
مناسب کہ ان مختصر سطور کو بلحاظ مضامین
الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی
(اللہ تعالٰی کا عطا کردہ فضل اس قول - (امام اعظم) کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے۔ت) سے مسمّٰی کیجئے۔ اور بنظر تاریخ
اعزالنکات بجواب سوال ارکات
( مضبوط ترین نکات، علاقہ ارکاٹ سے بھیجے ہوئے سوال کے جواب میں ت۔) لقب دیجئے۔
اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما، بے شک تو سُننے والا جاننے والا ہے، آمین اور سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے وہ پاک اور بلند ہے۔ اس کی بزرگی جلیل اور اس کا علم تام مستحکم ہے۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۲۷ )
کتب عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
محمدی سنی حنفی قادری
عبدالمصطفی احمد رضا خان