(القرآن الکریم ۱۴/ ۲۷ ) (القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷)
یوں ہی عقل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کو دیکھ رہا ہے کہ دو متساویوں میں بے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کرلیتا ہے۔ دو جام یکساں ایک صورت ایک نظافت کے دونوں میں ایک سا پانی بھرا ہو۔ اس سے ایک قرب پر رکھے ہوں۔ یہ پینا چاہے ان میں سے جسے جی چاہے اٹھالے گا۔ ایک مطلوب تک دو راستے بالکل برابر ویکساں ہوں جسے چاہے چلے گا۔ ایک سے دو کپڑے ہوں جسے چاہے پہنے گا۔ پھر اس فعال لما یرید کے ارادہ کا کیا کہنا۔
اقول: ( میں کہتا ہوں ، ت) یہاں سے ظاہر ہوا کہ محال ترجیح بلا مرجح ہے، دو متساویوں میں سے ایک خود ہی راجح ہوجائے یہ یہاں نہیں کہ نفس ارادہ مرجح ہے اور ترجیح بلا مرجح میں مصدر اگر صرافت مصدریت پر ہو یا مبنی للفاعل تو ہر گز محال نہیں ، بداہۃً واقع ہے، ہاں مبنی للمفعول ہو تو محال کہ وہی ترجیح بلا مرجح ہے۔ فلسفی اس کے فاعل مختار ہونے سے کفر و انکار رکھتا ہے مگر الحمد ﷲ کہ افلاک و کواکب اور ان کی حرکات نے اپنے خالق عزوجل کا مختار مطلق ہونا روشن کردیا اور خود فلسفی کے ہاتھوں فلسفی کے منہ میں پتھر دے دیا، فلسفہ کا اِدّعاء ہے کہ۔
(۱) افلاکِ بسیط میں ہر فلک کی طبیعت واحد، مادہ واحد ہے، اگرچہ باہم افلاک کے طبائع و مواد مختلف ہیں۔
(۲) طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں ایک ہی فعل نسق واحدہ پر کرسکتی ہے۔ اختلاف ممکن نہیں ولہذا ہر بسیط کی شکل طبعی کرہ ہے کہ وہی نسق واحد پر ہے بخلاف مثلث مربع وغیرہ کہ ان میں کہیں سطح ہے کہیں خط کہیں نقطہ، یونہی اور اختلاف بھی سبب ہے کہ پانی کی جو بوند گرے آگ کا جوپھول اڑے اس کی شکل کروی ہوتی ہے۔
(۳) فاعل (عہ) دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں کرسکتا کہ اس کی نسبت سب طرف برابر ہے، اگر ترجیح دے بلا مرجح ہو اور یہ محال ہے۔
عہ: متفلسف جونپوری نے اپنی ظلمت نازغہ مسمے ظلماً شمس بازغہ کی فصل حیز میں کہا۔
وجود الجسم بدون فاعل وان کان غیر ممکن لٰکن نسبۃ الفاعل الٰی جمیع الاحیاز علی السواء فلا یمکن تعیین الحیز منہ مالم یمکن لطبیعۃ الجسم خصوصیۃ معہ ۱۔
جسم کا وجود بغیر فاعل کے اگرچہ ناممکن ہے لیکن فاعل کی نسبت چونکہ تمام حیزوں کی طرف برابر ہے لہذا کسی خاص حیز کے ساتھ فاعل کی طرف سے جسم کی تعیین ممکن نہیں جب تک طبیعتِ جسم کو اس حیز کے ساتھ کوئی خصوصیت حاصل نہ ہو۔(ت)
( ۱ ؎ الشمس البازغہ ، فصل وبالحری ان یبین ان کل مالا یمکن خلوالجسم عنہ الخ مطبع علوی لکھنو ۱۳۹)
دیکھو کیسا صاف کہا کہ خالق کو قدرت نہیں کہ جسم کو کسی خاص حیز میں پیدا کرسکے جب تک طبیعت ہی کو اس حیز سے کوئی خصوصیت نہ ہو۔
کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کلِّ قلب متکبرجبار ۲ ۱۲۔منہ غفرلہ
یونہی مہر کردیتا ہے اﷲ تعالٰی متکبر سرکش کے سارے دل پر۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۴۰/۳۵)
فلسفہ ذو سفہ اپنے یہ تینوں ادعاء یاد رکھے اور اب افلاک میں خود اپنے بتائے ہوئے اختلافات کی چارہ جوئی کرے ہم اوّلا ہر فلک کی شکل و حرکت وجہت اور پرزے اور ان کی حرکتیں اور جہتیں سنائیں، پھر سوالات گنائیں۔
امر عام : تو یہ ہے کہ ہر فلک کرہ مجوفہ ہے جس میں محدب و مقعر دو سطحیں ایک فلک دوسرے کے جوف میں ہے اور سب سے نیچے فلک قمر کے پیٹ میں چاروں عناصر فلک اطلس سب سے اوپر اور اس کی حرکت سب سے سریع تر ہے مرکز عالم پر مشرق سے مغرب کو چلتا اور ایک رات دن بلکہ ۲۴ گھنٹے سے بھی ۳ منٹ ۵۶ سیکنڈ کم میں دورہ پورا کرتا ہے۔ قطبین شمالی اور جنوبی اس کے قطب ہیں اور معدل النہار جس کی سطح میں خطِ استواء واقع ہے اسی کا منطقہ یہ فلک تمام افلاک زیرین کو بھی اپنے ساتھ ساتھ گھماتا ہے۔ طلوع وغروب جملہ کواکب اسی وجہ سے ہے۔ اس میں کوئی ستارہ یا پرزہ نہیں۔
اقول: نہیں کہنا جزاف ہے یہ کہیں کہ معلوم نہیں، کیا استحالہ ہے کہ اس میں کچھ کواکب ہوں کہ بوجہ شدت بعد نظر نہ آتے ہوں بلکہ کیا دلیل ہے کہ انہی کواکب مشہودہ سے بعض فلکِ اعظم میں نہیں بلکہ کہکشاں اور نثرہ اور کف الخضیف کے پیچھے اور ان کے سوا جہاں جہاں سحابی شکلیں ہیں ان میں صریح احتمال ہے کہ یہ ستارے تمام ثوابت سے اوپر ہوں کہ بوجہ بعد منظر و قرب باہم ان کے اجرام متمیز نہ ہوتے ہوں ایک چمکیلی سطح ابر سفید کی شکل میں نظر آتی ہو۔