Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
107 - 212
رسالہ

الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ(۱۳۳۸ھ)

(مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ وکفٰی وسلم علٰی عبادہ الذین اصطفٰی آﷲ خیر امّا یشرکون بل اﷲ خیر واعلٰی واجل واکرم اعوذ باﷲ من نزغات الفلسفۃ فما ھوالافل وسفہ قال الفقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا المحمدی السنّی الحنفی القادری البرکاتی غفراﷲ تعالٰی لہ ما مضٰی من سیّئاتہ وما یأتی ۔
سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور بس، اور سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر، کیا اﷲ بہتر ہے یا ان کے ساختہ شریک، بلکہ اﷲ ہی بہتر سب سے بلند اور جلالت و کرم والا ہے میں اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں فلسفہ کے وسوسوں سے وہ تو محض بے عقلی اور حماقت ہے۔ کہتا ہے فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضاسنی حنفی قادری برکاتی ۔ اﷲ تعالٰی اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت فرما۔
بعونہ تعالٰی فقیر نے رَدِّ فلسفہ جدیدہ میں ایک مبسوط کتاب مسمّی بنام تاریخی فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین لکھی جس میں ایک سو پانچ ۱۰۵ دلائل سے حرکتِ زمین باطل کی، اور جاذبیت و نافریت و غیرھما مزعومات فلسفہ جدیدہ پروہ روشن رَد کیے جن کے مطالعہ سے ہر ذی انصاف پر بحمدہ تعالٰی آفتاب سے زیادہ روشن ہوجائے کہ فلسفہ جدیدہ کو اصلاً عقل سے مَس نہیں، اس کی فصل سوم میں ایک تذئیل لکھی جس میں وہ دس دلائل ذکر کیے، کہ فلسفہ قدیمہ نے رَدِّ حرکت زمین پر دئیے۔ ہم نے ان کا ابطال کیا۔ کہ یہ دلائل باطل و زائل ہیں، ان میں سے تعلیل پنجم یہ تھی فلک میں میل مستدیر ہے تو زمین میں نہ ہوگا کہ طبیعت متضاد ہے۔ ہفتم یہ کہ زمین میں مبدء میل مستقیم ہے تو مبدء میل مستدیر محال، ہشتم یہ تھی کہ زمین کا دورہ طبعاً وارادۃً نہ ہونا ظاہر اور قسر کو دوام نہیں، نہم یہ کہ حرکت زمین ماننے والوں کے نزدیک یہ حرکت نامتناہی ہے تو قوتِ جسمانی سے اس کا صدور محال۔ دہم یہ کہ طبیعیات میں ثابت ہے کہ حرکت وضعیہ نہ ہوگی مگر ارادیہ، اور زمین ذات ارادہ نہیں۔ ان کے رد نے اصول فلسفہ قدیمہ کے ازہاق وابطال کا دروازہ کھولا۔ ہم نے تیس مقام ان کے رَد میں لکھے جن سے بعونہ تعالٰی تمام فلسفہ قدیمہ کی نسبت روشن ہوگیا کہ فلسفہ جدیدہ کی طرح بازیچہ اطفال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یہ تذییل ان مقامات جلیل کے سبب بہت طویل ہوگئی اور اس کی فصل چہارم دور جا پڑی۔ ولد اعز ابوالبرکات محی الدین جیلانی آل الرحمن معروف بہ مولوی مصطفٰی رضا خان سلمہ الملک المنان وابقاہ والی معالی کمالات الدین والدنیا رقاہ کی رائے ہوئی کہ ان مقامات کو رَدِّ فلسفہ قدیمہ میں مستقل کتاب کیا جائے کہ اگرچہ دم الاخوین یکجا نہ ہو۔ ایک کتاب رِدّ فلسفہ جدیدہ میں رہے۔ دوسری رِدّ فلسفہ قدیمہ میں، اور مقاصد فوزمبین میں اجنبی سے فصل طویل نہ ہو۔ یہ رائے فقیر کو پسند آئی، وہ کتاب کامل النصاف بعون الملک الوہاب یہ ہے مسمّٰی بنام تاریخی۔ الکلمۃ الملھمۃ فی الحکمۃ لوھاءِ فلسفۃ المشئمۃ مسلمان طلباء پر دونوں کتابوں کا بغور بالاستیعاب مطالعہ اہم ضروریات سے ہے کہ دونوں فلسفہ مزخرفہ کی شناعتوں جہالتوں، سفاہتوں، ضلالتوں ، پر مطلع رہیں۔ اور بعونہ تعالٰی عقائد حقہ اسلامیہ سے ان کے قدم  متزلزل نہ ہوں۔ فقیر کا درس بحمدہ تعالٰی تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوا، اس کے بعد چند سال تک طلباء کو پڑھایا۔ فلسفہ جدیدہ سے تو کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ علوم ریاضیہ و ہندسہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع تفریق ضرب تقسیم کے چار قاعدے کہ بہت بچپن میں اس غرض سے سیکھے تھے کہ فرائض میں کام آئیں گے اور صرف شکل اول تحریر اقلیدس کی وبس۔ جس دن یہ شکل حضرت اقدس حجۃ اﷲ فی الارضین معجزۃ من معجزات سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  وعلیہم اجمعین خاتمۃ المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی۔ ارشاد فرمایا تم اپنے علوم دینیہ کیطرف متوجہ رہوان علوم کو خود حل کرلوگے۔ 

اللہ عزوجل اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے۔ حسب ارشاد سامی بعونہ تعالٰی فقیر نے حساب و جبرو مقابلہ ولوگار ثم و علم مربعات ،وعلم مثلث کروی و علم ہیئت قدیمہ وہیأت جدیدہ و زیجات وارثما طیقی وغیرہا میں تصنیفات فائقہ و تحریرات رائقہ لکھیں اور صدہا قواعد و ضوابط خود ایجاد کیے۔ تحدثا بنعمۃ اﷲ یہ بحمداﷲ تعالٰی اس ارشاد اقدس کی تصدیق تھی کہ ان کو خود حل کرلوگے۔ فلسفہ قدیمہ کی دو چار کتابیں مطابق درس نظامی اعلٰیحضرت قدس سرہ الشریف سے پڑھیں اور چند روز طلبہ کو پڑھائیں، مگر بحمد اﷲ تعالٰی روزِ اول سے طبیعت اس کی ضلالتوں سے دور اور اس کی ظلمتوں سے نفور تھی۔ سرکار ابد قرار بارگاہِ عالم پناہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ سے دو خدمتیں اس خانہ زاد ہچکارہ کے سپرد ہوئیں، اِفتاء  اور رَدِّ وہابیہ ، انہوں نے مشغلہ تدریس بھی چھڑایا اور آج ۴۵ برس سے زائد ہوئے کہ بحمداﷲ تعالٰی فلسفہ کیطرف رخ نہ کیا نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا۔ اب اخیر عمر میں سرکار نے اپنے کرم بے پایاں کا صدقہ بندہ عاجز سے یہ خدمت لی کہ دونوں فلسفوں کا رد کرے اور ان کی قباحتوں، شناعتوں، حماقتوں، ضلالتوں پر اپنے دینی بھائیوں طلبہ  علم کو اطلاع دے ناظرین والاتمکین اہل انصاف لادین سے امید کہ حسبِ عادت متفلسفہ لِم ولا نسلم وانکار واضحات و تشکیک بے ثبات وفارغ مجادلات کو  کام میں نہ لائیں، ان کے اَجِلّہ اکابر ماہرین ابن سینا سے جو نپوری مصنف شمس بازغہ تک کون ایسا گزرا ہے جس پر رَدّ و طرد نہ ہوتے رہے، فلسفہ مزخرفہ کا شیوہ ہی یہ ہے کہ ؎
ہر کہ آمد عمارتے نَو ساخت     رفت و منزل بدیگر ے پرداخت ؎۱
 ( جو بھی آیا اس نے نئی عمار ت بنائی، چلا گیا اور عمارت دوسرے کے حوالے کردی۔ت)
 (۱؂گلستان سعدی  درسبب تالیف  مکتبہ اویسیہ بہاولپور  ص ۱۳)
یہ چند اوراق تو اس کے قلم کے ہیں جس نے ابتدا ہی سے فلسفہ کو سخت مکروہ جانا اور صرف دو چار کتابیں درس میں پڑھ کر دو ایک بار پڑھا کر جو چھوڑ اتو ۴۵ سال سے زائد ہوئے کہ اس کا نام نہ لیا لغو و فضول ابحاث کی حاجت نہیں، بنگاہ ایمانی اصل مقاصد کو دیکھئے۔ اگر حق پائیے تو ابن سینا اور اس کے احزاب کی بات زبردستی بنانے کی ضرورت نہیں۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل۔
اور اﷲ تعالٰی کی توفیق کے سبب ہی گناہوں سے بچاؤ ہوسکتا ہے، اور اﷲ حق فرماتا ہے، اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے، اور ہمارے لیے اﷲ ہی کافی ہے، اور کیا ہی اچھا کارساز ہے(ت)
اس کی تقریب یوں ہوئی ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ کو ولداعزہ مولنا مولوی محمد ظفر الدین بہاری اعلی مدرس عالیہ شہسرام جعلہ اﷲ کا سمہ ظفر الدین نے ایک سوال بھیجا کہ امریکہ کے کسی مہندس نے دعوی کیا ہے کہ ۱۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کو اجتماع سیارات کے سبب آفتاب میں اتنا بڑا داغ پڑے گا کہ اس کے باعث زلزلے آئیں گے۔ طوفان شدید آئے گا ، ممالک برباد کردیئے جائیں گے۔ یہ ہوگا وہ ہوگا ، غرض قیامت کا نمونہ  بتایا تھا یہ صحیح ہے یا غلط؟ اس کا جواب چند ورق پر دے دیا گیا کہ یہ محض اباطیل بے اصل ہیں نہ وہ اجتماع سیارات اس تاریخ کو ہوگا جس کا وہ مدعی ہے، نہ جاذبیت کوئی حقیقت رکھتی ہے اس کے ضمن میں بعض دلائل رَدِّ حرکت زمین کے لکھے جب انہیں طویل ہوتا دیکھا جدا کرلیے اور رَد فلسفہ جدیدہ میں بعونہ تعالٰی کا فل وکافل کتاب فوزمبین لکھی اس کی تذلیل نے رد فلسفہ قدیمہ کی تقریب کی جسے اس سے جدا کرکے بحمدہ تعالٰی یہ کتاب الکلمۃ الملھمۃ تیار ہوئی۔
والحمدﷲ رب العلمین اب ہم ان مقاماتِ عالیہ کو ذکر کریں وباﷲ التوفیق و بہ الوصول الٰی ذری التحقیق
( اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور اسی کے ذریعے تحقیق کی چوٹیوں تک رسائی ہوسکتی ہے۔(ت)
Flag Counter