Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
106 - 212
تعلیل ششم : حرکت میں نئی نئی وضعیں بدلنے کو ہوتی ہے ،زمین کو اس کی حاجت نہیں کہ گردشِ فلک سے خود اس کی وضعیں بدل رہی ہیں ،فاضل خضر ی نے اسے نظر کرکے کہا فیہ مافیہ۔

اقول :  اولاً مخالف منکر فلک۔

 ثانیاً گردش فلک ناثابتۤ۔

 ثالثاً اس میں مبدمیل مستدیر ثابت۔

رابعاً بلکہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اصول فلسفہ قدیمہ پر فلک کی حرکت مستدیرہ محال۔

یہ سب باتیں و تعلیل ہماری کتاب "الکلمۃ الملھمہ" میں ہیں واباﷲ التوفیق یہ تینوں  وجہیں تعلیل پنجم  پر بھی  رَد ہیں اور اخیر کی دو تعلیل سوم و چہارم پر بھی۔

خامساً حاجت نہ ہونا اس وقت ہوتا کہ فلک وارض میں اقطاب وجہت و قدر حرکت سب متحد ہوتے ان میں کسی کا اختلاف تبدل وضع میں تبدیل کردے گا زمین کو کیا ضروری کہ سب باتوں میں فلک کے موافق ہی حرکت کرے اور جب کسی بات میں مخالفت کی تو ضروری حرکت فلک سے تبدیل اور طرح کی ہوگی اور حرکتِ ارض سے اور طور کی ، پھر استغناء کیوں !

سادساً فرض کیا کہ زمین موافقت پر مجبور تو ہم دیکھتے ہیں فلک الافلاک حرکت یومیہ کررہاہے اور فلک البروج در قول ممثل متفق اقطاب وجہت ومقدر پر ایک  سی حرکت ہے ،اگر سب سے اختلاف ضرور تو یہ آٹھوں متفق کیے اور اگر بعض سے کافی تو زمین اگر فلک الافلاک کے موافق متحرک ہو تو ان آٹھ کی مخالفت ہے ،ان آٹھ کے موافق تو اس ایک سے پھر استغناء کیسا ! 

سابعاً فرض کیا کہ سب افلاک ایک سے متحرک ہوں اور زمین بھی ان کے موافق پھر بھی زمین کو حرکت سے کون مانع تھا۔ وہ ذی شعور ہیں جان کر بھی اوروں کی حرکت کو کسی نے اپنے لیے کافی نہ جانا ،زمین کو کیا خبر کہ اور بھی کوئی اسی حرکت سے متحرک ہے میں کیوں کروں۔

ثامناً فلک ہی سے وضعیں بدلنا کیا ضرور ،کُرہ نارا گر متحرک ہے اورہوا و آب تو ساکن ہیں ان سے وضعیں بدلیں گی۔

تاسعاً مخالف کے نزدیک زمین کی حرکت وضع بدلنے کو نہیں بلکہ جذب سے نفرت یا ہر چیز کے کسبِ نور و حرارت کے لیے جس کی تقریر تجزیہ ۳۳ میں گزری۔

عاشرہ :  بلکہ ہم نے الکلمۃ الملھمہ کے مقامِ نہم میں روشن کیا ہے کہ حرکت کے لیے کوئی غرض ہی ضرور نہیں نفس کی حرکت بھی مطلوب طبع ہوسکتی ہے۔
تعلیل ہفتم : جس پر تذکرہ سے آج تک اعتماد ہوا بلکہ طوسی (عہ۱) پھر جونپوری نے شمس بازغہ میں ۹۰ ، ۹۱ دو صحیح دلیلوں کو رَد کرکے اسی پر مدار رکھا کہ طبیعت زمین میں مبدء میل مستقیم ہے جو ڈھیلا گرنے سے ظاہر اور جس میں مبدء میل مستقیم ہونا محال ہے کہ بالطبع (عہ۲) حرکت مستدیرہ بری اورہدیہ میں اسے یوں تعبیر کیا گیا اس میں مبدء میل مستدیر نہیں ہوسکتا۔
عہ ۱ : یوں ہی طوسی کے تلمیذ قزوینی نے حکمۃ العین میں دلیل ۹۸ و رد کرکے ۱۲ منہ غفرلہ۔

عہ ۲ : کاتبی مذکور نے مطلق کہا کہ اس کو حرکت مستدیرہ محال ۱۲ منہ غفرلہ ۔
اقول : یہ دلیل بھی (عہ۳) نہ الزامی ہوسکتی ہے نہ تحقیقی۔
عہ ۳ : یعنی تعلیل سوم سے ہشتم تک چاروں تعلیلوں کا بھی یہی حال تھا جیسا کہ ان کے رَدّوں سے ظاہر ہوا۔۱۲ منہ غفرلہ ۔
اولاً : مخالف میل کا قائل نہیں۔

ثانیاً : وہ حرکت مستدیرہ طبعی نہیں مانتا بلکہ جذب سمس و نافریت سے  ،مقتضاء نافریت پر جاتی تو طبعی ہوتی اور بوقتِ جذب اس کا حدوث منافیِ طبیعت نہ ہوتا کہ حرکتِ طبعیہ حدوث منافر ہی کے وقت ہوتی ہے مگر وہ بیچ میں ہو کر نکلی ،یہ ہر گز مقتضائے طبع نہیں۔

ثالثاً طبعیہ کا رد ہوا قسریہ سے کیا مانع۹۰ مبدء  میل ایک طبعی دوسری قسری کا اجتماع جائز بلکہ واقع ہے اور پھینکا ہوا پتھر دونوں کا جامع ہے۔
تعلیل ھشتم : حرکتِ زمین طبعی وارادی نہ ہونا ظاہر ،قسری یوں نہیں ہوسکتی کہ ان کے نزدیک دائمہ ہے اور قسر کو دوام نہیں ورنہ وجوہ میں تعلیل لازم آئے۔ فاضل خضری نے اسے بھی نقل کرکے فیہ ما فیہ کہا اور علامہ برجندی نے شرح مجسطی میں یوں تفصیل کی : طبعیہ نہیں ہوسکتی کہ میل مستقیم رکھتی ہے نہ ارادیہ کہ ارادہ کا نفس ہے اور عناصر سے نفس متعلق نہیں ہوتا مگر بعد ترکیب نہ قسریہ کہ ان کے نزدیک ازلی ہے اور قسری کا ازلی ہونا محال ،طبیعات میں ان سب پر براہین ہیں اور عرضیہ نہ ہونا ظاہر ،تو زمین کو کسی طرح حرکتِ مستدیرہ نہیں۔ پھر کہا یہ برہان تام ہے۔

اقول : اولاً نفی طبیعیہ کی اس وجہ پر کلام گزرا ،ہاں ایک اور وجہ ہے جس پر کلام ہماری کتاب الکلمۃ الملھمۃ میں ہے۔

ثانیاً زمین کا ذات ارادہ نہ ہونا فریقین کو مسلم ورنہ قبل ترکیب تعلق نفس کا امتناع ممنوع۔

ثالثاً ہیئت جدیدہ قائل حدوث زمین ہے جیسا کہ یہی حق ہے تو قضیہ دائمہ نہیں فعلیہ ہے۔ 

رابعاً باطل ہوئی تو ازلیت نہ کہ حرکت۔

خامساً ہمارے نزدیک یہ مقدمہ کہ قسر ازلی نہیں ،یوں حق ہے کہ ازل میں کوئی شَے قابلِ مقسوریت ہورہی نہیں ہوسکتی کہ عالم بجمیع اجزائیہ حادث ہے فلسفہ اس پر کیا دلیل رکھتا اس کے رد میں ہماری کتاب الکلمۃ الملمتہ کا مقام دواز دہم ہے۔
تعلیل نہم : ان کے نزدیک یہ حرکت غیر متناہیہ ہے تو قوتِ جسمانی سے اس کا صدور محال۔ خضری نے اسےقرب کہا۔

اقول :  اولاً : حرکت کا ابطال نہ ہوا بلکہ لامتناہی ہے۔

ثانیاً وہ ضرور اسے حادث ابدی غیر منقطع اور قاسر کو قوتِ جسمانی یعنی جذب شمس ہی مانتے ہیں تو دلیل اگرچہ تحقیقی ہوتی کہ حرکت منقطعہ بارا وہ الہیہ کا استحالہ ثابت نہ کرتی مگر الزامی تھی۔اگر یہ مقدمہ صحیح ہوتا کہ قوتِ جسمانیہ کا انقطاع عقلاً واجب لیکن ہیئت جدیدہ کہ اس کا تسلیم ہونا درکنار فلسفہ یونان پر بھی ثابت نہیں اس کے روشن بیان میں ہماری کتاب الکلمۃ الملھمۃ کا مقام ۲۲ ہے۔
نوٹ : تکملہ کے بعد کا صفحہ ہی نہیں ہے ،اصل میں یہیں پر ختم ہے۔
Flag Counter