| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
تعلیل دوم : دو طائر تھمی ہوا میں ایک پرواز سے مشرق و مغرب کو اڑے اگر ہوا بھی زمین کے ساتھ متحرک ہے تو مشرقی بہت تیز ہوجائے اور غربی ہوا میں ٹھہرا معلوم ہو یا بہت سست اور اگر نہیں تو معلوم کہ وہ مشرق کو اڑے غرب میں پڑے۔ ( ہدیہ) اقول : یہ کوئی نئی بات نہیں تعلیل سابق اور دلیل ۹۱ کو جمع کردیا ہے ہوا تابع نہ ماننے پر وہ دلیل ۹۱ ہے جو انکارِ تبعیت پر یقیناً صحیح ہے اور ماننے پر ہی تعلیل اول ہے جو تبعیت مانو تو باطل نہ مانو تو باطل۔ مانو تو اس روشن بیان سے جو ابھی سنا اور نہ مانو تو کشتیوں پر ندوں کی اپنی ذاتی حرکتیں رہ گئیں، سرے سے بنائے دلیل ہی اڑ گئے ۔بالجملہ یہ تعلیل علیل کو ایک شق کے ابطال سے کلیل۔
تعلیل سوم : حرکتِ یومیہ سب سے تیز حرکت ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جسم جتنا لطیف تر اس کی حرکت سریع تر۔ ہوا اجسام ارضیہ سے بہت تیز جاتی ہے تو اس حرکت کا فلک ہی کے لیے ثابت کرنا زیادہ مناسب کہ ہوا و نار سے بھی لطیف تر ہے(عہ۱) ( تحریر مجسطی مقالہ اُولٰی فصل ہفتم) یہ صراحۃً نری خطابی بات ہے۔(شرح مجسطی)
عہ ۱ : اقول : اس کی اتنی تقریر بھی ہم نے کی ،اصل میں اتنی ہی ہے جو حاشیہ آئندہ میں شرح سے آتی ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
اقول : اس کی نظیر ادھر سے بھی پیش ہوتی ہے کہ اتنے بڑے اجسام کے گھومنے سے چھوٹے جسم کا گھومنا آسان ہے۔ ( سعیدیہ) اولاً مخالف (عہ۲) آسمان کا قائل ہی نہیں اور لطیف معلوم یعنی ہو ا کہ شریکِ حرکت مانتا ہے۔
عہ ۲ : ان اعتراضوں سےکہ اکثر دلائل آئندہ پر بھی آئیں گے یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ تعلیل جس طرح تحقیقاً صحیح نہیں یوں ہی الزامی بھی نہیں ہوسکتیں۔ ۱۲ منہ غفرلہ ۔
ثانیاً فلک کے الطف ہونے پر کیا دلیل۔ اگر علو کے عناصر میں دیکھ رہے ہیں کہ ہوا لطف اعلٰی ہے اور یہ ان سے بھی اعلٰی تو ان سے بھی الطف۔ اقول : یہ فلک میں میل مستقیم ماننا ہوگا۔ جو فلسفئہ قدیمہ کی بنا ڈھادے گا اس کی تصریح ہے کہ فلک جب ثقیل نہ ہو خفیف بھی نہیں اگر کہیے اس کی لطافت یہ کہ نظر نہیں آتا۔ اقول : اولاً اس میں نارو ہوا بھی شریک۔ ثانیاً عدم لون نظر نہ آنے کو کافی اگرچہ کتنا ہی کثیف ہو۔ ثالثاً نظر نہ آنا تمہاری جہالت ہے یہ سقف نیلگوں کہ نظر آرہی ہے یقیناً فلک قمر ہے جس کا اسلامی بیان خاتمہ میں آئے گا ان شاء اللہ تعالٰی پھر اصل تعلیل پر۔ ثالثا ورابعاً در رَد اور زیر تعلیل ششم آسان ہیں۔
تعلیل چہارم : جرم(عہ۱) لطیف متشابہ الاجزایعنی فلک سے حرکت مستدیرہ کی نفی اور جسم کثیف مختلف الاجزاء یعنی ارض کے لیے اثبات خلاف طبعیات ہے۔(تحریر مجسطی)
عہ ۱ : شرح برجندی میں پہلے ہی فقرے کو ایک دلیل ٹھہرایا لطیف متشابہ الاجزاء سے نفی خلاف طبعیات ہے اور دوسرے فقرے کو دلیل سابق کا جزء ٹھہرایا کہ جرم کثیف کے لیے اثبات بیچا ہے کہ ہوا کہ فلک سے کم لطیف ہے وہ تو اجسام ارضیہ سے اشرع ہے تو حرکتِ مستدیرہ فلک ہی کو انسب انتہی اور اظہروہ ہے جو ہم نے کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : اولاً ان کے نزدیک فلک کہاں تو نفی بنفی موضوع ہے۔ ثانیاً اجزائے زمین طبعیت میں مختلف نہیں کہ مثل فلک بسیط ہے اور امور زائد میں اختلاف جیسے جہال اربال ، یہ فلکیات میں بھی معلوم و مشہود کامل و مہتممات و مدار میں کواکب اور ان کی حرکات و جہات اور جب یہ ان آٹھ افلاک میں منافی بساطت نہ ہوافلک اعظم میں ہو تو کون مانع عدمِ علم علم عدم نہیں۔ ثالثاً کون سا طبعیات کا مسئلہ ہے کہ کثافت مانع حرکت مستدیرہ ہے ،غایت یہ کہ الطف انسب ہے۔ تو محض خطابت ہوئی۔ رابعاً ہوا سے نفی ہوئی تو حرکت طبعیہ ارض کی قسریہ پر کیا اعتراض۔ خامساً و سادساً زیر تعلیل ششم۔
تعلیل پنجم : فلک میں مبدء میل مستدیر ہے اور زمین میں مبدء میل مستقیم تو دونوں کی طبیعت متضاد کہ اگر زمین حرکت مستدیرہ قسری تو اس میں شریک فلک ہوجائے اور اشتراک ضدین جائز نہیں۔(تحریر مجسطی) علامہ برجندی نے شرح میں اس پر دو اعتراض کیے۔ اول : تمہارے نزدیک فلک پر خرق محال تو کیونکہ معلوم ہوا کہ اس کے اجزاء میں میل مستقیم نہیں۔ دوم : کیا محال ہے کہ اجزاء میں میل مستقیم ہے اور گل میں میل مستدیر۔ اقول : اولاً: جب تجزیہ فلک محال کی نسبت یہ پوچھنا کہ کہاں سے جانا کہ اس میں میل مستقیم نہیں کیا معنٰی ۔ ثانیاً استحالہئ خرق بربنائے استحالہ میل مستقیم ہی کہتے ہیں اور اس کا استحالہ فلک واجزاء دونوں پر ایک ہی دلیل دیتے ہیں اگرچہ وہ مبطل اور ان کے دلائل باطل کلام اس تقدیر پر ہے۔ ثالثاً جزو کل کی جب طبیعت معتد ہے جیسے زمین و کلوخ ،تو مقتضائے طبع کا انجام لازم ۔ علامہ(عہ۱) سے ایسے اعتراضوں کا تعجب ہے صحیح اعتراض ہم بنائیں۔
عہ ۱ : اعتراض ہم نےحدائق میں دیکھے تھے اور گمان تھا کہ یہ اس کی اپنی جہالت کثیرہ سے ہیں مگر شرح مجسطی سے کھلا وہ آخذ ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
فاقول : اولاً مخالف فلک ہی کا قائل نہیں ،اس میں مبدء میل مستدیر درکنار۔ ثانیاً نہ وہ زمین میں مبدءمیل مستقیم مانے ،ڈھیلے کا گرانا جذب سے ہے۔ ثالثاً تمہارے نزدیک فلک کی حرکتِ مستدیرہ طبعی نہیں زمین میں طبعی ہو تو متضاد طبائع کا مقتضٰی میں اشتراک کب ہو ،اور محال یہی ہے۔ رابعاً یہی کہ بفرض غلط باطل ہوئی تو حرکت طبعیہ قسریہ کو اشتراک سے کیا علاقہ ۔ خامساً وسادساً وسابعاً عنقریب۔