| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
الحمدﷲ ! ہم نے ابطالِ حرکت زمین پر ایک ۱۰۵ سو پانچ دلائل قاہرہ قائم کیے کتب گزشتگان مثل مجسطی بطلیموس وتحریر طوسی وشرح علامہ برجندی و تذکرہ طوسی وشرح فاضل خضری وشمس بازعہ متشد جونپوری و ہدیہ فاضل خیر آبادی وغیرہا(عہ۲) میں بعض اور دلائل ہیں جن پر اگرچہ انہوں نے اعتماد کیا ہمارے نزدیک باطل ہیں۔ انہیں بھی مع مختصر کلام ذکر کردیں۔
وباﷲ التوفیق وبہ استعین
( اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اسی سے میں مدد چاہتا ہوں)۔
عہ ۲ : مثل حکمۃ العین کاتبی قراوینی تلمیذ طوسی شرح حکمۃ العین میرک بخاری ۱۲ منہ غفرلہ۔
وہ دس ۱۰ (عہ) تعلیلیں ہیں کچھ اسی رنگ کی جو گزریں اور ہم نے ان کی تصحیح و توجیہ کی ،انہیں مقدم رکھیں کہ جنس مقارن جنس ہو اور کچھ خالص اصول فلسفہ قدیمہ پر مبنی جن کے شافی و کافی ابطال میں بعونہ تعالی ایک مستقل کتاب الکلمۃ الملھمہ جدا تصنیف کی یہاں پر حوالہ کافی۔ واﷲ الموفق۔
عہ : پھر شرح حکمۃ العین میں ایک اور دلیل علیل (کمزور) دیکھی جس پر اس نے دوبارہ نفی حرکت اینیہ زمین اقتصار لیا۔
قال اوتحریک من الوسط حرکتہ اینیۃ یعرض ما یعرض لو لم تکن فیہ ۱ ا ھ اقول : نعم : لولا القسرفان قلت لا یدوم اقول: اولا ممنوع و ثانیاً فلم تنتف ھو بل دوامھا۱۲ منہ غفرلہ''
میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات اس وقت قابل تسلیم ہے اگر قسر نہ ہو( سوال) قسر ہمیشہ تو نہیں رہے گا۔( جواب) (۱) یہ ممنوع ہے۔(ہوسکتا ہی قسر دائمی ہو) (۲) حرکت اینیہ سرے سے منتفی نہ ہوئی بلکہ اس کا دام منتفی ہو۔ (ترجمہ عبدالحکیم اشرف القادری)
(۱شرح حکمۃ العین)
تعلیل اوّل : دو کشتیاں برابر قوت سے چلیں ،ایک مشرق ایک مغرب کو ،اگر زمین متحرک اور دریا اس کا تابع ہو تو لازم کہ شرقی بہت تیز نظر آئے کہ دو حرکتوں سے جاری ہے ایک اپنی تحریک ملاح سے دوسری دریا کی حرکت ارض سے ہے ،اور غربی بہت آہستہ کہ صرف اپنی حرکت سے جاری ہے اور اس پر معاً وقت حرکت شرقیہ دریا کا طرہ بلکہ چاہیے اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہو ،ہوا کو بھی اسی حرکتِ زمین سے متحرک ماننا نفع نہ دے گا اور شناعت بڑھے گا کہ اب شرقیہ تین طاقتوں سے جارہی ہے اور غربیہ پر دو طاقتیں مزاحم ہیں۔(ہدیہ سعیدیہ) اقول : یہ دلیل ۹۱ کا عکس ہے وہاں ہوا کو تابع زمین نہ مان کر لازم کیا تھا کہ متحرک غربی سے شرقی سے بہت سست ہے بلکہ خود بھی غربی ہوجائے یہاں دریا و ہوا کو تابع مان کر یہ لازم کرنا چاہا ہے کہ متحرک شرقی سے غربی بہت سست ہے بلکہ اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہو ،یہاں بھی اس پر اقتصار کرنا نہ تھا اسی طرح کہنا تھا کہ بلکہ مغرب کو جانے والی مشرق کو جاتی معلوم ہو۔ اقول : عکس چاہا مگر نہ بنا ،اصلاً وارد نہیں ،زمین کو اگر حرکت اور دریا و ہوا کو اس کی تبعیت ہے تو اس میں جہال و استجار اور یہ کشتیاں اور ان کے اور باہر کے تمام انسان حیوان سب یکساں شریک ہیں تو اس سے ان میں تفاو ت نہیں پڑسکتا نہ کہ اس کے امتیاز کا ان کے پاس کوئی ذریعہ ،کشتیاں اپنی چال سے جتنا چلیں وہی محسوس ہوگا ،برابر رفتار سے بڑھی ہیں تو برابر فاصلے سے ایک مشرق اور دوسری مغرب کو معلوم ہوگی مثلاً دریا کنارے ایک درخت کے محاذات سے چلیں اور وہیں کنارے جو کچھ لوگ کھڑے ہیں اگر صرف کشتیاں اس مشرق حرکت فی ثانیہ ۵۰۶ گز میں شریک ہوتیں اور وہ درخت و ناظرین اس سے جدا رہے اور ہر کشتی اس سیکنڈ میں مثلاً ایک ایک گز چلتی تو ضرور ایک ہی سیکنڈ کے بعد دونوں کشتیوں میں دو گز کا فاصلہ ہوجاتا اور درخت دونوں سے مغرب کی طرف رہ جاتا ،غربی سے ۵۰۵ گز کے فصل پر اور مشرقی سے ۵۰۷ گزپر اور کنارے کے آدمی غربی کشتی کو بھی اسی تیز چال سے مشرقی کو بہتی دیکھتے کہ ایک سیکنڈ میں ۵۰۵ گز اڑ گئی نہ یہ کہ اس کی حرکت محسوس نہ ہوئی لیکن درخت و ناظرین سب اسی ایک ناؤ میں سوار ہیں جو اسی تیزی سے ان سب کو مشرق لیے جارہی ہے تو مشرقی کشتی اسی سیکنڈ میں وہاں سے ۵۰۷ گز ہٹی اور غربی ۵۰۵ گز اور درخت و ناظرین ۵۰۶ گز سب کے سب مشرق کو ،تو درخت و ناظرین سے مشرقی کشتی کا فاصلہ صرف ایک گز مشرق کو ہوا اور غربی کا فقط ایک گز مغرب کو ،لہذا ناظرین کشتیوں کو دیکھنے سے دور کشتی کے سوار درخت پر نظر سے یہی سمجھیں گے کہ اس سیکنڈ میں دونوں کشتیاں ایک ایک گز برابر چلیں اور یہ کہ شرقی مشرق کو ہٹی اور غربی مغرب کو۔ اس کی نظیر وہ کشتی ہے کہ مثلاً مشرق کو فی ثانیہ دس ۱۰ گز کی چال جارہی ہے اور کشتی کا طول بیس گز ہے اس کے وسط کے محاذی کنارے پر ایک درخت اور کچھ ناظریں ہیں اس کے محاذات سے دو شخض کشتی کے اندر ایک چال سے فی ثانیہ پانچ گز چلے ایک مشرق ایک مغرب کو ،دونوں برابر دو ہی سیکنڈ میں کشتی کے کناروں پر پہنچیں گے اور اگر اپنی چال پر نظر کریں گے اس میں کچھ تفاوت نہ پائیں گے اور یقیناً ایک کشتی کے کنارے شرقی پر پہنچا دوسرا غربی پر ،تو ضرور وہ مشرق کو ہٹا یہ مغرب کو ،لیکن باہر والے ناظرین دیکھیں گے کہ وہ جو مشرق کو چلا ان سے تیس گز کے فاصلے پر ہوگیا کہ وہ سیکنڈ میں تیس گز کشتی بڑھی اور دس گز یہ ،اور وہ جو مغرب کو چلا ان سے غربی ہونے کے عوض وہ بھی ان سے مشرق ہی کو ہٹا مگر صرف دس۱۰ گز کہ یہ دس گز مغرب کو بڑھا اور کشتی اسے بیس گز مشرق کو لے گئی تو دراصل مشرق کو دس گز جانا ہوا تو ناظرین دونوں کو مشق میں ہٹتا پائیں گے مشرق کو تیز مغرب کو سست یونہی اندر چلنے والے اس درخت پر نظر کریں تو یہی دیکھیں گے کہ وہ دونوں سے مغرب کو رہ گیا مشرق سے تیس گز غربی سے دس گز ،ا ور اگر ان کی چال کشتی کے برابر ہے تو ایک ہی سیکنڈ میں شرقی بیس گز مشرقی کو ہٹ جائے گا اور غربی وہیں کا وہیں نظر آئے گا۔ ،درخت و ناظر ین کی محاذات نہ چھوڑے گا کہ جتنا یہ مغرب کو بڑھتا ہے کشتی اتنا ہی اسے مشرق کو لے جاتی ہے دونوں چالیں ساقط ہو کر محاذات قائم رہی۔ تو وہ جو تم چاہتے ہو یہاں کشتی نشینوں اور ناظرین سب کو محسوس ہوا اس لیے کہ ناظرین اور وہ درخت جس سے سوارانِ کشتی نے اندازہ کیا کہ کشتی کی چال میں شریک نہ تھے بخلاف صورتِ سابقہ کہ اس میں برابر ہیں تو کوئی ذریعئہ امتیاز نہیں کشتی کی ذاتی ہی چالیں سب کو محسوس ہوں گی وہیں تو اس کے امتیاز کے لیے وہ ناظرین ہوں جو کُرہ زمین و ہوا سے باہر ہوں کہ اس کی چال میں شریک نہ ہوں یا اہل زمین کے اپنے اور اس کے لیے اسی قسم کی کوئی ساکن شے ہو ،وہ کہاں ،کو اکبہ کا بعد اتنا ہے کہ کشتیوں کی یہ چالیں وہاں ایک نقطہ ہیں ۔ سحاب ضرور قریب ہے دو چار ہی میل اونچا ہے مگر وہ خود اسی ناؤ میں سوار ہے بذریعہ ہوا شریک رفتار ہے لہذا امتیاز معدوم اور اعتراض ساقط۔