Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
103 - 212
دلیل ۱۰۱: ہوا کی حرکت شرقیہ (عہ۲)کہ اس قدر تیز ہے اس کے معمولی چلنے سے بدرجہا سخت ہوگی تو چاہیے پر وائی کبھی چلتی معلوم ہی نہ ہو ہمیشہ بچھاؤ ہی رہے۔
عہ ۲ : ہر جگہ ہم نے لفظ عرضیہ بوجہ معلوم کم کردیا ہے ،۱۲ منہ غفرلہ۔
دلیل ۱۰۲ : پَر وغیرہ ہلکے اجسام پچھاؤ میں مغرب کو کیونکر جاتے ہیں حالانکہ وہ قہر آندھی مشرق کو چلتی ہوئی انہیں پیچھے پھینکتی ہے۔

دلیل ۱۰۳ : تھمی ہوا میں دو پرند  مساوی قوت سے مشر ق و مغرب کو اڑیں اُن کی اُڑان کیونکر برابر رہتی ہے  ،حالانکہ ہوا پہلے کی معاون اور دوسرے کی معاوق ہے ،یونہی دو کشتیاں۔

دلیل ۱۰۴ : تیز پچھاؤ میں مغرب کو اڑنے والا پرند تیز جاتا ہے اور مشرق والا سُست کہ پچھآو  اول کا معاون دوم کا معاوق ہے ہوا مشرق کو دورہ تو اس کا عکس لازم تھا کہ اول معاون پچھیاؤ ضعیف ہے اور معاوق حرکت شرقیہ قوی اور ثانی میں عکس ،یونہی (عہ۳) یونہی دو کشتیاں۔
عہ ۳ :  یہاں زیادہ تفصیل سے کام لیا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اوپر دریا و ہوا اس مزعوم حرکت کا کچھ اثر نہیں ہوتا بلکہ ظاہر موج و دوش کا اگر دریا ہے اور دونوں ساکن ہیں مشرقی غربی دونوں کشتیاں کہ مساوی قوت سے چلیں مساوی چلیں گی اور پانی جاری ہے تیز ہوگی اور دوسری سست اور دریا و ہوا دونوں کی حرکت ایک طرف کو ہے تو موافق بہت تیز مخالف بہت سست اور دو طرف کو تو ہوا و دریا جس کی حرکت زائد ہے اس کی موافق بقدر اس زیادت کے تیز اور دوسری سست ۱۲ منہ غفرلہ۔
دلیل ۱۰۵ : آدمی جب تیز ہوا میں اس کے سامنے آتا ہو ،ہوا کو اپنی مدافعت کرتا پائے گا مگر یہاں مشرق و مغرب دونوں طرف چلنے میں کوئی احساس نہیں ہوتا۔

اقول :  ان پانچ دلیلوں کا حاصل یہ ہے کہ چلتی ہوا اپنے سامنے کی شَے کو دفع کرتی ہے اور یہ مدافعت یہاں نہیں ،لہذا ہوا کی حرکت مستدیرہ باطل ،اور وہ حرکت زمین کو لازم تھی اور انتفائے لازم انتفائے ملزوم ہے تو حرکت ِ زمین باطل  ،مگر ہے یہ کہ معاونت اس وت حرکت اینیہ میں ہے جیسے پانی کی موجیں ،ہوا کے جھونکے جس میں ہر لاحق مکان سابق میں آنا چاہتا ہے تو اسے دفع کرتا ہے اب اس ہوا یا پانی میں اگر مثلاً انسان چلے تو وہ ایسے مکان میں آیا جس پر لطمے اور صدمے متوالی چلے آتے ہیں لہذا اگر اس کا منہ ادھر کو ہے معاوقت پائے گا اور پشت تو معاونت ، مگر حرکتِ وضعیہ حرکتِ واحدہ کل کرے کو عارض ہے نہ کہ اجزائے متفرقہ کی کثیر حرکات اینیہ متوالیہ کا مجموعہ کہ طبیعیات یونان میں جسم متصل وحدانی ہے اس میں بالفعل اجزاء ہی نہیں اور اگر اجزاء سے ترکب تو جب بھی حرکت وضعیہ میں تموج و تلاطلم آب و ہوا کسی طرح تدافع نہیں اس میں کوئی جز دوسرے کو دفع نہیں کرتا کہ دفع کرے کہ اپنی راہ میں کسی کو اپنی طرف آگے یا ساکن یا اپنی جہت میں اپنے سے کم چلتا پائے۔ یہی تین صورتیں دفع کی ہیں اور وہ سب یہاں مفقود بلکہ سب اجزاء ایک ہی طرف کو یکساں چال سے اپنی اپنی جگہ قائم چلے جاتے ہیں تو جو جز جس جگہ بڑھنا چاہے اس سے پہلا جز اس کے وہاں پہنچنے سے پہلے اس کے لیے جگہ خالی کرچکا ہوگا اور جب یہاں تلاطم تدافع نہیں تو احساس کس کا ہوگا ،اگر کہیے یہ تو کرے کی اپنی حالت ہوئی جب مثلاً انسان اس میں داخل ہوا تو تفرق اتصال بداہۃً ہوا اب ضرور ہے کہ آنے والا اسے دفع کرے۔

اقول :  دفع تو جب کرے کہ یہ حصہ خود چلتا ہو ،حصہ کوئی بھی نہیں چلتا کل کرہ متحرک ہے جس کے بعض اجزاء کی جگہ اب انسان ہے جسم اتصالِ اجزاء کے ماتحت ایک جزء دوسرے کو دفع نہ کرتا تھا اب اُسے بھی کوئی دفع نہ کرے گا۔

اگر کہے کلام اس میں ہے کہ وہ داخل مثل انسان اس حرکت کے خلافِ جہت ا س جسم میں چلے تو اس کا مزاحم ہوگا اور مزاحم کی مدافعت ضرور۔
اقول : جب متابع ہے مزاحم کہاں اس حرکت کے ساتھ خود چل رہا ہے اس کی مخالفت نہیں کرتا ہاں اپنی ذاتی حرکت سے پانی یا ہوا کو چیرتاہے اس میں جتنی معاونت ہوتی ہے ہوا کی ورنہ نہیں ،بالجملہ یہاں اجزاء میں تدافع نہیں تو اس میں انسان جہاں داخل ہو یا چلے ایسے مکان میں ہوگا جس پر کسی طرف سے دفع نہیں اور اس پر حرکتِ منتظمہ نہیں خود اس کا شریک و تابع ہے تو کسی طرف نہ معاونت پائے گا نہ مقاومت  ،یونہی اجسام اور مزعوم پر ان دلائل کی گنجائش۔

اقول :  یہ کلام بروجہ تحقیق تھا کہ حرکتِ وضعیہ ان دلائل سے رَد نہیں ہوگی مگر ہم ثابت کر آئے کہ زمین کی یہ حرکت اگر ہے تو یہ ہر گز وضعیہ نہیں بلکہ قطعی حرکت کی جدا حرکت اینیہ ہے اور حرکت اینیہ میں بے شک دفع ہی یوں یہ پانچوں دلائل بھی صحیح ہو جائیں گے۔ ان کی بناء  دوسرے جسم کو دفع کرنے پر  ہے اور ہمارے دلائل ۸۷ تا ۸۹ کی اجزاء کے تدافع وتلاطم اور خلاف میں ہے کہ اس سے ادق و احق ہے والحمد ﷲ علی ما علم وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا والہ وصحبہ وسلم۔ بحمد اﷲ تعالٰی ایک ۱۰۵سو پانچ دلیلیں ہیں۔ نوے خاص ہماری ایجاد اور پندرہ اگلوں(عہ۱) سے ،لیکن فصل اوّل کی پہلی اور دوم کی پچاس ۵۰اور سوم کی دلیل نمبر ۸۳ ،یہ ۵۲ دلیلیں زمین کی حرکت گردشمس اور حرکت گرد محور و دونوں کو باطل کرتی ہیں ،اور فصل سوم کی ۸۴تا ۱۰۵باستثناء ۹۹ ،۱۰۰ جملہ تینتیس ۳۳ خاص حرکت محوری کا رَد ہیں۔ اول کی آخیر گیارہ اور سوم کی ۶۳ تا ۸۲ بیس یہ ،اور ۹۹ ،۱۰۰ جملہ تینتس ۳۳ خاص حرکت گردش شمس کا رَد ہیں تو محور پر گردش زمین بہتر ۷۲ دلائل مردود اور آفتاب کے گرد زمین کا دورہ پچاسی (۸۵) دلیلوں سے باطل ،وﷲ الحمدوصلی اللہ تعالٰی علی نبی الحمد واٰلہ وصحبہ الاکارم الحمد اٰمین !
عہ ۱ : اگلوں کے کلام میں ہم نے چوبیس ۲۴ دلیلیں پائیں ،ایک رَدِّ جاذبیت میں صحیح ہے اور ہم نے اسے تین کردیا اور تئیس ۲۳ زمین کی حرکت ِ محوری کے رَد میں ان مین گیارہ محض باطل ہیں ،ایکد فعہ دوم میں گزری اور دس تذییل میں آتی ہیں ،ان میں دفع دوم والی اور دو آخر تذییل کی ،یہ تین ایجادات فاضل خیر آبادی سے ہیں۔ رہیں بارہ ان میں  پانچ کہ یہ بھی زیاداتِ فضلیہ میں جس شے کے ابطال کو تھیں اسے باطل نہ کرسکیں باقی سات ۷ کہ ان سے اگلوں کی تھیں اور انہوں نے خود رَد کردیں۔ یوں تئیس کی تئیس رَد ہوگئیں مگر ہم نے زیادات فضلیہ کی پانچ کو رُخ بدل کر صحیح کردیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
Flag Counter