Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
102 - 212
اقول : اولاً ، یہ تو اور بھی آسان ہے خط عمود پر پھینکنا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہی کہ ہاتھ سیدھا رکھ کر اوپر اس طرح جنبش دو کہ ہاتھ کسی جانب اصلاً میل نہ کرے یہ بہت خفیف حرکت ہوگی پوری قوت سے اوپر پھینکنا ہمیشہ خود ہی خط منحرف پر ہوگا ۔ جہاز جدھر جارہا ہی اس کے خلاف طرف منہ کرکے پوری قوت ہاتھ کے کامل جھٹکے سے پھینک کر دیکھو نارنگی کدھر جاتی ہے۔

ثانیاً اگر بالفرض ہاتھ خطِ مستقیم پر دور پھینک سکے تو پہنچتا نہیں ہے کہ ہوا اسے مستقیم نہیں رکھتی ۔ آتشبازی کا بتاسایا ناڑی نہ خط مستقیم پر رہیں نہ اسی خط پر عود کریں یہ تو بہت قوی قوت سے خط عمود ہی پر پھینکے گئے تھے ان کو کس نے ترچھا کیا۔ اس میں کس کی حرکت بھردی تھی۔ یونہی زمین پر بندق سیدھی رکھ کر فائر کرو کیا گولی اتر کر نالی میں آجائے گی۔ یہ بدیہی باتیں ہیں پھر ان کے انحراف کی کوئی سمت نہیں۔ یونہی جہاز سے بقوتِ تمام پھینکی نارنگی اگر آگے ہی کی طرف بقدر مناسب منحرف ہوئی ہاتھ میں آجائے گی ورنہ بتا سے اور ناڑی گولی کی طرح وہ بھی کہیں کی کہیں جائے گی اور کھل جائے گا کہ مسطول کے پتھر کی طرح یہ بھی تمہارا خواب تھا جہاز کے شیشوں کی طرح یہاں مباحث اور بھی ہیں مگر ہم جامع اعتراضات کریں جو سب مثالوں کے رد کو بس ہوں ۔
فاقول ، اولا: جتنی مثالیں ہم نے دیں سب میں حرکت اینیہ میں قوتِ دفع ہے۔ دیکھو دلیل (۸۷) تو ہر دفع مدفوع  میں حرکت واحد کا میل ہوا ہے جس سے پھینکا ہوا پتھر متحرک ہوا ہے یہ حرکت جس طرح اب مزاحم کو دفع کرتی ہے اس کا متعلق بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ گھوڑے کی سواری میں رگ رگ ہل جاتی ہے گاڑی میں ہال لگتی ہے جہاز میں غیر عادی کا سر گھومتا ہے غشیان ہوتا ہے۔ بالفرض اگر وہ استعداد بوجہ شدت حرکت اس حدکو پہنچی کہ حرکت تھمنے یا جدا ہونے کے بعد کچھ رنگ لائے چیستاں عجب نہیں۔ بعد ات اس لیے کہ ظہور از بعد عدم معدیت پتھر اس وقت متحرک ہوتا ہے جب ہاتھ کی وہ حرکت تھم جاتی ہے اور پتھر اس سے جدا ہوجاتا ہے ہواو آب کی حرکتِ وضیعہ دوبارہ دفع کا اس پر قیاس نہیں ہوسکتا۔ حرکتِ وضعیہ عین ذاتیہ ہو خواہ عرضیہ اس کی تحقیق زیادات فضلیہ پر کلام میں آتی ہے قوتِ دافع نہیں اس میں کسی طرف کو بڑھنا نہیں کہ راہ میں جو پڑے اسے دفع کرے وہ اپنی رات میں خود ہی ہے دوسرا اگر اس کے ثخن میں اس طرح ہے کہ سب طرف سے اسے جرم کرہ سے اتصال ہے جیسے کرہ آب و ہوا میں ہوتا ہے تو اگر کرہ اسے اٹھا سکتا ہے وہ اس میں اٹھا ہوا چلا جائے گا۔ خود اس میں نام کو جنبش نہ ہوگی ورنہ گر پڑے گا تو عظیم پتھر کہ ہوا کے اندر ہے جسے ہوا ایک آن کو بھی سہارا تک نہیں دے سکتی ہے محال عقل ہے کہ ساکن وقت میں جس وقت پتا بھی نہیں ہلتا ہوا اس سو من کی سل کو اپنی گود میں لے کر گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ اڑ جائے جب حرکت مستدیر پر اسے جو متحرک ثخن میں اسے بروجہ مذکور ہوا اصلاً جنبش نہیں دیتی تو وہ اثر کیا ہے جو پتھر کے سر میں بھر جائے گا اور بداہۃً محال ہے کہ پتھر خود بخود ہزاروں میل اڑنے لگے۔ لاجرم مثالیں ہوئیں اور زمین کی حرکت باطل  ،اور اگر کہو کہ نہیں بلکہ حرکتِ مستدیرہ بھی دھکا دیتی ہے اور جو اس کے ثخن میں ہوا اسے بھی ،یا نمبر ۳۳ میں ہماری تحقیق سے اخذ کردہ یہ حرکت وضیعہ نہیں بلکہ حرکات متوالیہ کا مجموعہ تو چشم ماروشن دل ماشاد و حرکت زمین و ہوا کا بوجوہ یہیں پر خاتمہ ہوگیا۔
یکم : ذرا سی آندھی جس کی چال گھنٹے میں تیس چالیس ہی میل ہو بڑے سے بڑے پیڑوں کو جڑسے اکھاڑ دیتی ہے۔ قلعوں کو ہلادیتی ہے۔ یہ آٹھ پہر کی اتنی عظیم شدید آندھی گھنٹے میں ۱۰۳۶ میل اڑنے والی کیا کچھ قہرنہ ڈھاتی ،انسان وحیوان کی کیا جان ہے پہاڑوں کو سلامت نہ رکھتی۔

دوم تا نہم : یونہی وہ آٹھ پہاڑ کہ تین دلیل (۸۷ ، تا ۸۹) تھے اور پانچ زیاداتِ فضیلیہ میں آئے ہیں باطل ہوسکتے ہیں اور باطل ہوں گے۔

دہم : اب کہ پتھر وغیرہ کی حرکت بھی تم نے عرضیہ نہ رکھی قسریہ ٹھہری اس دفعہ چہارم سے مضر نہ رہی کہ حرکت قسریہ میں ضرور ضعیف و قوی پر اثر کا تفاوت لازم ،اگر صرف رکنے قابل تو من بھر کے پتھر کو کون ساتھ لائے گا۔ اور اگر من بھر کے پتھر کو منٹ میں ۲۰ میل پھینکا تو ماشہ بھر پتھر کو کے ہزار میل پھر مساوات کیسے رہ سکتی ہے۔ بہرحال ثابت ہوا زمین کی حرکت باطل ہے۔

ثانیاً یہ کلمہ تمہاری باگ ڈھیلی ڈالنے سے تھا اب باگ کری کریں ،جب کسی جسم میں حرکت بھر جاتی ہے اس کے بعد اس قوت کے پھر ختم ہونے تک وہ محرک کا محتاج نہیں رہتا نہ حل نکلنے پر دفعۃً اپنی میل طبعی یا جذبِ زمین سے گر جاتا ہے بلکہ یہاں تک کہ قوت ِ رفتہ رفتہ ضعیف ہوتی اور بالاخر میل یا جذب اس پر غالب آتا ہے پھینکے ہوئے پتھر سے دونوں باتیں واضح ہیں اگر خود اجسام میں ان محرکات کی بھر جاتی تو چلتی کشتی میں جو پتھر اس میں کوک بھری ہوئی ہے چاہیے کہ کشتی ٹھہرنے پر بھی یہ سب کچھ دیر تک چلتے رہیں  ،برتن صندوق وغیرہ میں رکھے ہیں چند سیکنڈ تو آگے سرکیں کشتی معاذ اللہ دفعۃً ٹوٹ جائے تو آدمی کچھ دور تو کشتی کی چالیں چلیں ،رہیل میں بیچ کا تختہ ٹوٹ جائے تو فوراً نیچے نہ جائیں بلکہ کچھ دور چل کر میل یا جذب کا اثر لیں۔ گھوڑا گر جائے جب بھی وہ نٹ کچھ دیر ہوا پر گھوڑے کی دوڑ اُڑے کہ جب تک حرکت بھری ہے جذب سے متاثر نہ ہوگا۔جہاز رکنے پر وہ قطرے کہ شیشے میں گر رہے تھے اب جہت حرکت کی طرف آگے کریں بلکہ انکے اترنے میں جہاز رک جائے تو یہاں تک سیدھے آتے آتے فوراً آگے بڑھ جائیں کہ نیچے کا شیشہ ٹھہر گیا اور ان میں ابھی کوک باقی ہے۔ یونہی جہاز رکتے ہی مسطول سے پتھر پھینکیں تو اب اس کی نیچے نہ گرے بلکہ آگے بڑھ کر اور اس کے گرتے جہاز روک لیں تو آدھے رستے سے فوراً سمت بدل دے نیز چلتی گاڑی میں جس کی پشت گھوڑوں کی طرف ہے۔ دفعۃً رُکنے پر ان کے سر آگے کو نہ جھکیں بلکہ سرین پیچھے کو سرکیں کہ ان میں ادھر کی کنجی دی ہوئی ہے۔ریل رُکتے ہی نارنگی اچھالیں تو اب ہاتھ میں نہ آئے آگے بڑھ کر گرے۔دس یہ ہیں صدہا اور کتنے استحالے تم پر پڑے۔

ثالثاً پتھر کہ زمین پر رکھا اس کے ساتھ گھوم رہا ہے اس کی یہ حرکت وضعیہ نہیں کہ وہ کرہ نہ اپنے محور پر گھومتا ہے اور خود اس میں حرکت بھری ہے جس کا مقتضٰی آگے بڑھتا اور دائرہ زمین کو قطع کرتا ہے اگرچہ کچھ دیر کو ہوا و زمین رک جائیں پتھر جب بھی چلے گا تم کہہ چکے کہ محرک کے رُکنے پر بھی اس کی حرکت باقی رہتی ہے تو اس کے حق میں ضرو ر اینیہ ہے یہ بات اور ہے کہ زمین و ہوا بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جس سے آئین نہیں بدلتا یہ یوں نہیں کہ وہ آئین بدلنا نہیں چاہتا بلکہ یوں ہے کہ آئین اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا غرض شک نہیں کہ دائرہ زمین پر اس کی حرکت ایسی ہی ہے جیسے مجموعہ کُرہ زمین و دیگر سیارات کے اپنے مدار پر کہ قطعاً اینیہ ہے اور حرکت اینیہ اپنے مقابل کی ضرور مدافعت کرتی ہے تو لازم کہ پتھر کا ٹکڑا جو زمین پر رکھا ہے جسے تم مشرق کی طرف ایک انگلی سے سرکا سکو اسے مغرب کی طرف چاروں ہاتھ پاؤں کے زور سے جنبش نہ دے سکو کہ اس میں مشرق کی طرف فی ساعت ہزار میل دوڑنے کا زور بھرا ہوا ہے یہ زور کیا تمہاری سہل مان لے گا کہ تمہیں الٹا نہ پھینکے گا۔

رابعاً بے چارے پتھر کے سر ایک ہی حرکت نہیں یک نشد دوشد ہے زمین کی اپنی طور پر حرکت اسے مشرق کی طرف فی ساعت ہزار میل سے زیادہ دوڑاتی ہے اور اپنے مدارپر حرکت اسے مدار کی طرف ہر منٹ میں گیارہ سو میل سے زیادہ دوڑاتی ہے ایک جسم ایک وقت میں دو طرف کو صرف تین صورتوں میں حرکت کرسکتا ہے۔

(۱) ایک وضعیہ ہو دوسری اینیہ ،جیسے بنگو کا گھومتے ہوئے بڑھنا۔

(۲) دونوں اینیہ ہوں مگر عرضیہ ،جیسے اس آدمی کے کپڑے جو کشتی کے اندر مغرب کو چل رہا ہے اور کشتی مشرق کو۔

(۳)ایک ذاتیہ ہو دوسریع رضیہ ،جیسے شخص مذکور کی کشتی میں حرکت  ،مگر یہ کہ دونوں اینیہ ہوں اور دونوں ذاتیہ ،یہ قطعاً محال ہے ورنہ ایک جسم وقت واحد میں دو مکانوں میں ہو۔ ہاں دو محرک اسے دو مختلف غیر متقابل اطراف کو حرکت دیں تو وہ ان دونون میں سے کسی طرف نہ جائے گا بلکہ دونوں جہتوں کے بیچ میں گزرے گا جیسا کہ ابھی مثال ششم کے رَد میں گزرا۔ تو یہ پتھر کہ زمین پر رکھا ہے اور تم عرضیہ سے بھاگ کر خود اس میں حرکت بھر چکے تو دونوں اس کی ذاتیہ ہوئیں اور ہم بیان کرچکے کہ اس کے حق میں وہ شرقی حرکت بھی وضعیہ نہیں اینیہ ہے تو وقت واحد میں سنگِ واہد دو مختلف جہت کو دو حرکت اینیہ ذاتیہ ہر گز نہ کرے گا بلکہ ان کے بیچ میں گزرے گا۔
27_36.jpg
اب زمین ج مقام ب پر پتھر ہے ز مین کی حرکت صاعدہ نے اس میں ج کی طرف جانے کی کوک بھری اور حرکت مستدیرہ نے ء کی طرف آنے کی کنجی دی تو پتھر نہ ج کو جائے گا نہ ء کو آئے گا بلکہ ہ کی طرف اڑے گا تو لازم کہ نہ ایک پتھر بلکہ تمام اسباب صندوق پٹارے برتن پلنگ وغیرہ وغیرہ بلکہ انسان حیوان سب کے سب ہر وقت ہوا میں اڑتے رہیں تم نے دیکھا کہ عرضیہ سے بھاگ کر خود اجسام میں کوک بھرتا اس سے بھی زیادہ کسی درجہ فاحش تھا (عہ۱)۔ لاجرم وہ گیارہ دلیلیں بھی لاجواب ہیں۔(زیاداتِ فضلیہ) خاتمہ کتب حکمت یونانیہ یعنی ہدیہ سعیدیہ میں حرکت ارض پر کلام مبسوط ہوا جس میں سے بہت اوپر اس کے ابطال پر آٹھ دلیلیں اپنی طبع زاد کرلیں جن میں سے ایک دفع دوم میں گزری۔اور دو تذییل میں آتی ہیں پانچ کی یہاں تلخیص کریں یہ دلیلیں مرعوم مخالف تحرک باقی ہمنوا بغرض ہو و ہوا بغرض فرض کُرہ کی حرکت وضعیہ پر کلام شدید ہے خصوصاً بطور طبیعات یونان جس میں ہدیہ سعیدیہ ہے بین بین ابطال بتوفیقہ تعالٰی اپنی تحقیق سے ان کا رُخ بدل کر تصحیح وتائید میں ۔لیں گے۔
عہ ۱ : ان پانچ کا طبغراد کرنا مشکوک ہوگیا کہ ان کے ماخذ شرح حکمۃ العین میں نظر آئے جن کا بیان دفع۷۔ ۸ میں گزرا  ،ہاں تو اردبعید نہیں بلکہ اظہر ہیں ورنہ شارح مذکور نے ان پر جو رد کیے ہدیہ سعید یہ میں ان کے دفع ی طرف توجہ ہوتی یا انہیں دیکھ کر یہ دلائل ذکر ہی نہ کیے جاتے۱۲ منہ غفرلہ۔
Flag Counter