اقول : رَدِّ چہارم مثال دوم میں آتا ہے۔
(۲) مسطول سے پتھر گراؤ تو سیدھا اس کے پاس گرے گا حالانکہ جب تک وہ اوپر سے نیچے آئے کشتی کتنی سرک گئی۔ ،لیکن یہ حرکت کشتی کا شریک ہو کر محاذات نہ چھوڑے گا۔(حدائق ص ۱۶۷ ۔۱۲)
اقول : سارا مدار خیال بندیوں پر ہے ضرور یہ مسطول پر چڑھے اور وہاں سے پھر پھینکنے اور ان خط عمود پر اُترنا آزماچکے وہ پتھر کتنے بھاری تھے ،ہوا کی کیا حالت تھی ہ کس رُخ کی تھی ،جہاز کتنی چال سے جارہا تھا ،سمت کیا تھی ،مسطولوں کی بلندی کتنی تھی ،اور جہاز کی حرکت سے کتنی بلندی تک ہوا متحرک ہوتی ہے ،تم کتنا بڑا پتھر لے کر یہاں تک چڑھے تھے دونوں ہاتھوں میں سیدھا محاذات پر رکھ کر آہستہ چھوڑ دیا تھا یا پھینکا تھا ،اس وقت ہاتھ نے کدھر کو حرکت کی تھی پتھر جہاں گرا وہیں جم گیا تھا یا اچھلا تھا ،اس حد کا کیا ثبوت ہے ان سوالوں کے جواب سے حقیقت کھل جائے گی یا معلوم ہوجائے گا کہ قطرے شیشہ ہی میں گرنے کی طرح خواب دیکھا تھا بعونہ تعالٰی دلائل قطعیہ ابھی آتے ہیں جن کے بعد آنکھ کھل جائے گی تو کچھ نہ تھا - نمبر ۱۲) پھر فصل دوم رد ۲۰ تا ۳۶ میں دیکھ چکے کہ یہ لوگ کیسی صریح باطل بات کو مشاہدہ کے سر تھوپ دیتے ہیں او راس سے بڑھ کر اس کی نظیر افضل چہار م میں آتی ہے ان شاء اللہ تعالی فصل چہارم میں انہیں لوگوں کا زعم آتا ہے کہ بڑے یورپین مہندسوں کے تجربے یے ہیں کہ پتھر بلندی سے پھینکو تو سیدھا وہاں نہیں گرتا بلکہ مشرق سے ہٹ کر ،اب یہاں یہ ادعا کہ مسطول سے پتھر پھینکو تو وہیں گرتا ہے۔ پتھر تو پتھر ہے قطرہ جو مسطول کی شیشی سے چھلکے سیدھا نیچے کی شیشی میں آتا ہے یہاں زمین کی حرکت کو بھول گئے غرض زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں جو چاہا کہہ ڈالا اور مشاہدے کے سر مارا۔
(۳)گھوڑا یا گاڑی چلتے چلتے دفعۃً تھم جائے تو سوار کا سر آگے جھک جاتا ہے ،کشتی جب کنارے لگتی ہے بیٹھنے والے نہ سنبھلیں تو منہ کے بل گر پڑیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ ان سواریوں کی حرکت سواروں میں بھی اتنی ہی ہوگئی تھی وہ تھیں اور انمیں حرکت باقی تھی جس کا اثر یہ ہوا۔
اقول : اولاً کشتی ساحل سے نہ ٹکرائے یا گھوڑا یا گاڑی آہستہ چلتے ہوں اور دفعۃً ٹھہر جائیں یا تیز چلے ہوں اور بتدریج ٹھہریں تو کچھ بھی نہیں ہوتا ،کیوں نہیں ہوتا؟ کیا اب حرکت نہ بھری تھی۔ اس کی وجہ محض جھٹکا لگنا ہے نہ یہ۔
ثانیاً : بارہ کا مشاہدہ ہے کہ دفعۃً ریل کے اسٹیشن سے چل دینے میں آدمی نہ سنبھلے تو گر پڑے اس وقت کونسی حرکت بھری تھیئ سبب وہی جھٹکا ہے۔
(۴)جس طرف میں پانی بھرا ہو تھوڑا ہلا کر یکایک روک لو پانی ہلتا رہے گا کہ وہ حرکت ہنوز اس میں بھری ہے۔
اقول : اولاً آٹا بھرا ہو تو وہ کیوں نہیں ہلتا رہتا۔ حرکت جب پتھر میں بھر جاتی ہے آٹے میں کیوں نہ بھری۔
ثانیاً پانی لطیف ہے اس ہلانے کے صدمہ نے بالذات اسے حرکت دی اور اس کے اجزاء کی تماسک کم ہونے کے باعث دیر تک رہی نہ یہ کہ طرف کی حرکت اس میں بھر گئی کچھ بھی عقل کی کہتے ہو ۔
(۵)انگریز نٹ زمین میں دو لکڑیاں گاڑ کر ان میں اتنی اونچی رسی باندھتا ہے کہ گھوڑا نیچے سے نکل جائے۔ پھر گھوڑے پر کھڑے ہو کر گیند اچھالتا گھوڑا دوڑاتا ہے اسی کے قریب آکر گھوڑا نیچے سے اور سوار گیند اچھالتا اوپر سے اچھل کر پھر گھوڑے پر آجاتا ہے۔ اس کا یہی سبب ہے کہ گھوڑے کی حرکت سوار اور سوار کی گیند میں برابر موجود تھی صرف اسے اچھلنے کی حرکت اور کرنی ہوئی۔
اقول : اولاً : نٹ یا بھان متی کے کرتبوں سے جو محسوس ہوا اس سے استدلال تمہارا یہی ہے اس کے سب اسباب خفیہ ہوتے ہیں۔
ثانیاً گھوڑے کی پیٹھ ختم گردن سے پٹھوں تک ڈیڑھ گز فرض کیجئے اگر رسی پشت اسپ سے بارہ گرہ اونچی ہے اور نَٹ گھوڑے کی گردن کے پاس کھڑا ہے ،تو جتنی دیر میں گھوڑے کی پیٹھ رسی کے نیچے سے گزرے گی اتنی دیر میں نٹ سی کے اوپر گھوڑے کے اوپر آجائے گا اور اگر بارہ گرہ سے کم اونچی ہے تو اور آسانی ہے اور اگر زائد ہی ہو بہرحال نٹ کے قد سے ضرور کم ہوگی ورنہ اچھلنا نہ پڑتا تو غایت یہ کہ اتنی خفیف مسافت میں اسی نسبت سے نٹ کی اچھال گھوڑے کی چال سے زائد ہو ،یہ کیا محال ہے ،خصوصا سدھائے ہوئے گھوڑے کو تھپکی دے کر ا س کا اچھلنا اتنی دیر گھوڑی کے جھجکنے کو کافی ہے۔
اور اگر یہ نہ مانو اور وہی صورت بتاؤ جس میں اس کے جانے آنے کی مسافت گزرا سپ کی مسافت سے بہت زائد ہوجائے اور جو تو جیہ ہم نے کی اس کی گنجائش نہ رہے تو اور بھی بہتر کہ تمہارا استناد خود ابتر۔ تم نٹ میں گھوڑے کی چال تو پھر ہی رہے تو پھر اس سے کتنے ہی گز زائد کہاں سے آگئی۔ مثلاً رسی دو گز اونچے پراور یہ اس کے متصل آکر اچھلا پھر پشت اسپ کے اسی حصے پرآگیاجہاں تھا تو گھوڑے نے اتنی دیر میں صرف رسی کا عرض طے کیا جسے انگل بھر رکھ لیجئے۔ اور نَٹ اتنی ہی دیر میں ایک سوترانوے انگل طے کر آیا۔
۹۶ جاتے ۹۶ آتے اور ایک انگل رسی ،تو نٹ کا ہے کو ہے وہ انجن ہے جس میں ۹۳ا گھوڑوں کا زور ہے جب ۱۹۲ زور اور کہیں سے آگئے تو وہ بچا ہوا ایک اور کہیں سے نہیں آسکتا۔ اس گھوڑے ہی کا بھر نا کیا ضرور ہے۔
رہی گیند تو وہ نٹ کے اپنے ہاتھ کا کھیل ہے ،اڑتے جانور پر بندوق چلانے والا پہلے اندازہ کرلیتا ہے کہ اتنی دیر میں کہاں تک اڑ کر جائے گا۔