Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
100 - 212
جواب دوم :
ہیئت جدیدہ نے جب حرکت عرضیہ میں اپنی اماننہ پائی ناچار ایک ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰اور ادعائے (عہ۱) باطل پر آئی کہ جو جسم کسی متحرک جسم میں ہو اس کی حرکت اسی قدر ان میں بھی بھرجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی حرکت تھمنے پر بھی بلکہ اس سے جدا ہو کر بھی اس میں باقی رہتی ہے ۔
عہ ۱ : یہ ادعا مفتاح الرصد میں نقل کیا اور نمبر۱ حدائق میں بھی اس کی طرف میل ہوا اور نظارہ عالم ۲۱۔۲۲ میں اس پر بہت زور دیا جو مثالیں ہم کسی کتاب کی طرف نسبت نہ کریں وہ اسی سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول :  یعنی پتھر ہوا میں بالعرض متحرک نہیں بلکہ یہ گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ مشرق کو بھاگنے اور ایک منٹ میں گیارہ سو میل سے زائد اوپر چڑھنے کا سودا خود پتھر کے سر میں پیدا ہوگیا ہے۔

 انصاف والو ! کیا اس سے عجیب تر بات زائد سنی ہوگی۔ مخالف آدابِ مناظرہ سے ناواقف اس پر دلیل دینے سے عاجز ہے ناچار چھ مثالون سے اس کا ثبوت دینا چاہتا ہے ہم ہر مثال کے ساتھ بالائی کلمہ تبرعاً ذکر کریں جس کی حاجت نہیں ،پھر بتوفیقہ تعالٰی جامع وقامع رد بیان کریں ،وہ مثالیں یہ ہیں۔

(۱) شیشہ پانی سے بھر کر جہاز کے مسطول میں باندھیں ،دوسرا اس کے نیچے رکھیں ،حرکتِ جہاز سے پانی کے جو قطرے اوپر کے شیشے سے چھلکیں گے نیچے کے شیشے باہر نہ گریں گے۔(حدائق ص ۱۶۷ ۔۱۲) یعنی اس کا یہی سبب ہے کہ جہاز کی حرکت ان قطروں میں بھی پیدا ہوگئی ہے یہ خود بھی اسی قدر سفینہ کے ساتھ متحرک ہیں لہذا محاذات نہیں چھوڑتے اس کے لفظ مثال دوم میں یہ ہیں۔

درحرکت سفینہ مشارک بودہ پائے ستون می افتد ۱ ؎۔ کشی کی حرکت میں مشارک ہو کر ستون کے پاس گرتا ہے۔ (ت)
 (۱؂حدائق)
اس سے ظاہر وہی ہے جو اور جدیدہ والوں نے تصریح کی کہ خود اس جسم میں وہ حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر عرضیہ سے یعنی جہاز کی حرکت سے مسطول تک ہوا اور ہوا کی حرکت سے یہ قطرے بالعرض متحرک ہیں تو قطع نظر اس سے کہ مسطول تک ہوا کی حرکت عرضیہ کیونکر پہنچی ہوگی تو اتنی ہوا کہ جو جہاز میں بھرتی ہے اس کے جواب کو وہی بس ہے کہ پانی کی یہی بوندا اگر ہوا میں حرکت عرضیہ سے بالعرض متحرک ہوتی تو سومن کے پتھرکا اس پر قیاس کیونکر صحیح جسے ہوا کسی طرح سنبھالنا درکنار سہارا تک نہیں دے سکتی۔ مفتاح الرصد میں اس پر تین ردہیں۔

یکم مضمر کہ بفرض و تسلیم اگر ایسا ہو بھی ،اقول :  یعنی کون سا مشاہدہ اس پر شاہد ہے کہ قطرے اس سے باہر نہیں گرتے تو منزل پر کھڑے ہو اور زمین پر شیشہ رکھ کر اپنے ہاتھ میں کٹورے کو جنبش دو کہ قطرے چھلکیں ہر گز اس کی ذمہ داری نہیں دے سکتے کہ شیشے ہی میں گریں گے بلکہ اکثر باہر ہی جائیں گے۔یہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ اپنے تخیلات کو مشاہدات و تجربات کے رنگ میں دکھاتے ہیں۔
دوم : جو ہوا جہاز کو حرکت دیتی ہے ان قطروں کو بھی دے گا۔ اقول :  یعنی دُخانی جہازوں پر بھی ہوا کی مدد ہے اگر اس سمت کی نہ ہو پردے باندھ کر کی جاتی ہے۔

سوم : اُوپر کا شیشہ جہاز میں بندھاہوا ہے ،اس کی حرکت سے اسی طرف جھٹکا کھاتا ہے اس کا جھٹکا ان چھلکتے قطروں کو اسی سمت متوجہ کرتا ہے اور اپنی پہلی محاذات پر نہیں گرنے دیتا ہاتھ پانی میں بھر کر ایک طرف کو جھٹکو تو قطرے جھٹکے کیطرف جائیں گے نہ کہ جس جگہ ہاتھ سےجدا ہوئے اس کی محاذات میں سیدھے اُتریں۔
Flag Counter