Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
10 - 212
یہاں اجمالاً معروض :
دہلوی مجتہدکی حدیث دانی اور ایک ہی مسئلہ میں اتنی گُل فشانی
 (۱) ضرت کو ضعیف محض متروک میں تمیز نہیں۔

(۲) تشیّع و رِفض میں فرق نہیں۔

(۳) فلان یغرب وفلان غریب الحدیث میں امتیا زنہیں۔

(۴) غریب و منکر میں تفرقہ نہیں۔

(۵) فلان یھم کو وہمی کہنا جانیں۔

(۶) لہ اوھام کا یہی مطلب مانیں

(۷) حدیث مرسل تو مردود و مخذول و عنعنہ مدلس ماخوذ و مقبول

(۸) ستم جہالت کہ وصل متاخر کو تعلیق بتائیں، مثلاً محدث کہے:
رواہ مالک عن نافع عن ابن عمر حدثنا بذلک فلان عن فلان عن مالک ۔
اس کو امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ، ہم کو ایسے ہی حدیث بیان کی فلاں نے فلاں سے اور اس نے امام مالک سے۔(ت)
حضرت اسے معلق ٹھہرائیں اور حدّثنا بذٰلک کو ہضم کرجائیں۔
 (۹) صحیح حدیثوں کو نری زبان زوریوں سے مردود و منکر و واہیات بتائیں۔

(۱۰) حدیث ضعیف جس کے منکر و معلول ہونے کی امام بخاری وغیرہ اکابرائمہ نے تصریح کی محض بیگانہ تقریرون سے اسے صحیح بنائیں۔

(۱۱) ضعفِ حدیث کو ضعفِ رواۃ پر مقصور جانیں۔ ہنگام ثقہ رواۃ علل قوادح کو لاشیئ مانیں۔

(۱۲) معرفتِ رجال میں وہ جوش تمیز کہ امام اجل سلمٰین اعمش عظیم القدر جلیل الفخر تابعی مشہور ومعروف کو سلیمن بن ارقم ضعیف سمجھیں۔

(۱۳) خالد بن الحارث ثقہ ثبت کو خالد بن مخلد قطوانی کہیں۔

(۱۴)  ولید بن مسلم ثقہ مشہور کو ولید بن قاسم بنالیں۔

(۱۵) مسئلہ تقوٰی طرق سے نرے غافل۔

(۱۶) راوی مجروح و مرجوع کے فرق بدیہی سے محض جاہل۔

(۱۷) متابع و مدار میں تمیز دو بھر صاف صاف متابعت ثقات، وہ بھی باقرب وجوہ پیش نظر، مگر بعض طرق میں بزعم شریف وقوع ضعیف سے حدیث سخیف۔

(۱۸) جا بجا طریق جلیلہ موضحۃ المعنی مشہور و متداول کتابوں خود صحیحین و سنن اربعہ میں موجود۔انہیں تک رسائی محال، باقی کتب سے جمع طرق و احاطہ الفاظ اور مبانی و معانی کے محققانہ لحاظ کی کیا مجال۔

(۱۹) تصحیح و تصنیف میں قولِ ائمہ جبھی مقبول کہ خود اُن کی تصانیف میں مذکور و منقول، ورنہ نقل ثقات مردود و مخذول۔

(۲۰) اجلہ رُواۃ بخاری و مسلم بے وجہ وجیہہ و دلیل ملزم کوئی مردود و خبیث کوئی متروک الحدیث مثل امام بشر بن بکر تنیسی و محمد بن فضیل بن غزوان کو فی وخالد بن مخلد ابوالہیثم بجلی، بھلا یہ تو بخاری و مسلم کے خاص خاص رجال بے مساغ و مجال پر فقط منہ آئے۔ اس سے بڑھ کر سنیئے کہ حضرت کی حدیث دانی نے صحاح ستّہ کے ردوابطال کو قواعد سبعہ و ضع فرمائے کہ جس راوی کو تقریب میں صدوق رمی بالتشیع یا صدوق متشیع یا ثقہ یغرب یا صدوق یخطیئ یا صدوق یہم یا صدوق لہ اوہام لکھا ہو وہ سب ضعیف و مردود الروایت و متروک الحدیث ہیں، حالانکہ باقی صحاح درکنار ، خود صحیحیں میں ان اقسام کے راوی دو چار نہیں، دس بیس نہیں سینکڑوں ہیں چھ قاعدے تو یہ ہوئے۔ جس سند میں کوئی راوی غیر منسوب واقع ہو۔ مثلاً  حدثنا خالد عن شعبۃ عن سلیمن اسے برعایت قرب طبقہ و روایات مخرج جو ضعیف راوی اُس نام کا ملے رجماً با لغیب جزماً بالترتیب اس پر حمل کرلیجئے۔ اور ضعفِ حدیث و سقوط روایت کا حکم کردیجئے
مسلمانو! حضرت کے یہ قواعد سبعہ پیش نظر رکھ کر بخاری و مسلم سامنے لائیے اور جو جو حدیثیں ان مخترع محدثات پر رد ہوتی جائیں کاٹتے جائیے۔ اگر دونوں کتابیں آدھی تہائی بھی باقی رہ جائیں تو میرا ذمہ خدا نہ کرے کہ مقلدین ائمہ کا کوئی متوسط طالب علم بھی اتنا بوکھلایا ہو۔ معاذ اللہ جب ایک مسئلہ میں یہ کوتک تو تمام کلام کا کمال کہاں تک۔ العظمۃ اﷲ ! جب پرانے پرانے چوٹی کے سیانے جنہیں طائفہ بھر اپنی ناک مانے، اونچے پائے کا مجتہد جانے ، ان کی لیاقت کا یہ اندازہ کہ نری شیخی اور تین کانے، تو نئی امت چھٹ بھیوں کی جماعت کس گنتی شمار میں ہیں۔ کس شمار قطار میں ۔
  لافی العیر ولا فی النفیر والعیاذ باللہ من شرالشرّ
 ( نہ عیر میں اور نہ ہی نفیر میں ( نہ تین میں نہ تیرہ میں) شریر کے شر سے اللہ تعالٰی کی پناہ ت) مرزا صاحب و شاہ صاحب کیا عیاذا باللہ ان جیسے بدعقل وعدیم الشعور تھے کہ اثبات احکام شریعت الہی و فہم احادیث رسالت پناہی صلوات اللہ تعالٰی و سلامہ علیہ کی باگ ایسے بے مہاروں بےخرد نابکاروں کے ہاتھ میں دیتے ۔ ان کا مطلب بھی وہی ہے کہ جو اس کا اہل ہو اسے عمل کی اجازت بلکہ ضرورت نہ کہ کو دن نااہل بکھاری ترمجی مسکوۃ کے ترجمے میں ہلدی کی گرہ پائیں اور پنساری بن جائیں یا بنگالی بھوپالی کسی مذہب کو اپنے زعم میں خلاف حدیث بتائیں تو اللہ عزوجل تقلید ائمہ حرام کرکے فرض فرمادے کہ بھوپالی بنگالی پر ایمان لے آئیں۔جانِ برادر یہ بودی تقلید تواب بھی رہی۔ ابوحنیفہ و محمد کی تو نہ ہوئی۔ بھوپالی بنگالی کی سہی۔ وائے بے انصافی کہ شاہ صاحب و مرزا صاحب کے کلام کے یہ معنی مانیں اور انہیں معاذا للہ دائرہ عقل سے خارج جانیں، 

حالانکہ ان دونوں صاحبوں کے ہادی بالامرشد اعلٰی دونوں صاحبوں کے آقائے نعمت مولائے بیعت دونوں صاحبوں کے امام ربانی جناب شیخ مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
مخدوما ! احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام دربابِ جواز اشارت سبابہ بسیار وارد شدہ اندو بعضے از روایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وغیر ظاہر مذہب است، وآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اللہ تعالٰی علیہ وسلم یشیرو نصنع کما یصنع النبی علیہ وعلٰی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہماازروایات نوادر است نہ روایات اصول ، ہرگاہ در روایات معتبرہ حرمت اشارہ واقع شد باشد، وبرکراہت اشارتِ فتوٰی دادہ باشند، مامقلدان رانمی رسد کہ بمقضائے احادیث عمل نمودہ جرات دراشارت نمائیم مرتکبِ ایں امراز حنیفہ یا علمائے مجتہدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی آیدیا انگارد کہ اینہا بمقضاء آراء خود برخلافِ احادیث حکم کردہ اند، ہر دو شق فاسد است تجویز نہ کندآنرا مگر سفیہ یا معاند حسن ظن مابہ ایں اکابر آنست کہ تادلیل برایشاں ظاہر نشدہ است حکم بحرمت یا کراہت نہ کردہ اند، غایت ما فی الباب مارا علم بآں دلیل نیست، وایں معنے مستلزم قدح اکابر نیست اگر کسے گوید کہ ماعلم بخلاف آں دلیل داریم، گوئیم کہ علم مقلد دراثبات حل و حرمت معتبر نیست ، دریں باب ظن بہ مجتہد معتبراست احادیث را ایں اکابر بواسطہ قربِ عہد ووفور علم وحصول ورع و تقوی ازمادور افتادگاں بہتر مے دانستند، وصحت وسقم ونسخ وعدم نسخ آنہارا، بیشتر از مامی شناختند، البتہ وجہ موجہ داشتہ باشند درترک عمل بمقضائے احادیث علی صاحبہا الصلوۃ والسلام و آنچہ از امام اعظم منقول است کہ اگر حدیثے مخالف قول من بیابند برحدیث عمل نمائید مراد از اں حدیثے است کہ بحضرت امام نرسیدہ است و بنا برعدم علم ایں حدیث حکم بخلافِ آں فرمودہ است و احادیث اشارت ازاں قبیل نیست، اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوے دادہ اند بمقتضائے فتاوائے معارضہ بہر طرف عمل مجوز باشند گوئیم اگر تعارض درجواز وعدم جواز واقع شود ترجیح عدمِ جواز رااست ۔۱؂ ملتقطاً
اے مخدومِ گرامی ! احادیثِ نبوی ( ان کے مصدر پر درود و سلام ہو) تشہد میں اشارہ سبابہ کے جواز کے باب میں بہت وارد ہوئی ہیں اور اس باب میں فقہ حنفی کی بھی بعض روایات آئی ہیں جو کہ ظاہر مذہب کے غیر ہیں۔ اور وہ جو امام محمد شیبانی نے کہا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انگلی شہادت سے اشارہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی طرح اشارہ کرتے ہیں جس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کرتے تھے۔ پھر امام محمد نے فرمایا یہی میرا قول اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول ہے روایات نوادر میں سے ہے نہ روایات اصول میں سے، جب کہ معتبر روایات میں اشارے کی حرمت واقع ہوچکی ہے اور اشا رےکے مکروہ ہونےپر فتوی دیا گیاہے۔ ہم مقلدوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حدیث کے متقضا کے مطابق عمل کرکے اشارہ کرنے کی جرات کریں ۔حنفیہ میں سے اشارہ سبابہ کا ارتکاب کرنے والا دو حال سے خالی نہیں، یا تو ان علمائے مجتہدین کے لیے جوازِ اشارہ میں معروف احادیث کا علم تسلیم نہیں کرتا یا ا ن کو ان احادیث کا عالم جانتا ہے۔ لیکن ان بزرگوں کے لیے ان احادیث کے مطابق عمل جائز تسلیم نہیں کرتا۔ اور خیال یہ کرتا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے خیالات کے مطابق احادیث کے خلاف حرمت اور کراہت کا حکم صادر فرمایا ہے یہ دونوں شقیں فاسد ہیں انہیں وہی جائز قرار دے گا جو بے وقوف ہو یا ضدی، ان اکابر کے ساتھ ہمارا حسن ظن یہ ہے کہ اس باب میں جب تک ان پر حرمت یا کراہت کی دلیل ظاہر نہیں ہوئی حرمت یا کراہت کا انہوں نے حکم نہیں لگایا۔ زیادہ سے زیادہ اس باب میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس دلیل کا علم نہیں ہے اور یہ معنی اکابر میں کسی عیب کو مستلزم نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہم اس دلیل کے خلاف علم رکھتے ہیں تو کہیں گےکہ حلت وحرمت کے اثبات میں مقلد کا علم معتبر نہیں ہے بلکہ اس باب میں مجتہد کے ظن کا اعتبار ہے ،یہ اکابر حدیث کو قرب زمانہ نبوی ،زیادتی علم ،اور ورع وتقوی سے آراستہ ہونے کی وجہ سے ہم دور افتادوں سے بہتر جانتے تھے ،اور احادیث کی صحت وسقم اور ان کے نسخ وعدم نسخ کو ہم سے زیادہ پہچانتے تھے انھیں ضرور کوئی معتبر دلیل ملی ہوگی تب ہی انھوں احادیث علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے مقتضی کے مطابق عمل نہیں کیا ،اوروہ جو امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی حدیث میرے قول کے مخالف پاؤ تو میرے قول کو چھوڑ دو اور حدیث پر عمل کرو تو اس حدیث سے مراد وہ حدیث ہے جو حضرت امام کو نہ پہنچی ہو۔ اور اس حدیث کو نہ جاننے کی بنا پر اس کے خلاف حکم فرمایا ہے اور اشارے کی حدیث اس قبیلہ سے نہیں۔ اگر کہیں کہ علمائے حنفیہ نے جوازِ اشارہ کا فتوٰی دیا ہے۔ لہذا متعارض فتاوٰی کے مطابق جس بات پر بھی عمل کرلیا جائے جائز ہے۔ ہم کہتےہیں کہ اگر جواز و عدم جواز اور حلت و حرمت میں تعارض واقع ہو تو تعارض کی صورت میں ترجیح عدم جواز اور جانب حرمت کی ہوتی ہے اھ التقاط (ت)
 ( ۱ ؎ مکتوبات امام ربّانی     مکتوب ۳۱۲    نولکشور  ۱/ ۴۴۸     تا ۴۵۱ )
Flag Counter