Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
99 - 145
رسالہ

جمع القراٰن وبِمَ عزوہ لعثمان(۱۳۲۲ھ)

(قرآن کوجمع کرنا اور اس کی نسبت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف کیوں کرتے ہیں)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ ۲۴۸ : ازشہرکہنہ بریلی     ۱۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امرمیں کہ قرآن شریف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جمع کیاتھایاان سے پہلے بھی کسی نے جمع کیا؟ اوریہ جوسناجاتاہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جمع کیا، اوران کاجمع کیاہوامدفون کردیاگیا، یہ سچ ہے یاغلط؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : قرآن عظیم کی جمع وترتیب آیات وتکمیل وتفصیل سُوَر زمانہ اقدس حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم میں بامرالٰہی حسب بیان جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم وارشاد وتعلیم حضورسیدالمرسلین واقع ہوئی تھی، مگرقرآن عظیم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے  سینوں اورمتفرق کاغذوں، پتھرکی تختیوں، بکری، دنبے کی پوستوں، شانوں، پسلیوں وغیرہا میں تھا ایک جگہ ساراقرآن عظیم مجموع نہ تھا۔ جب جنگ یمامہ میں کہ مسیلمہ کذاب ملعون مدعی نبوت سے زمانہ حضرت صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہوئی صدہا صحابہ کرام حفاظ قرآن نے شہادت پائی، امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے دل الہام منزل میں حق جل وعلانے القاءکیاکہ حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوکر گزارش کی کہ اس لڑائی میں بہت صحابہ جن کے سینوں میں قرآن عظیم تھا شہیدہوئے۔ یونہی جہادوں میں حفّاظ صحابہ شہیدہوتے گئے اورقرآن عظیم متفرق رہاتوبہت قرآن جاتے رہنے کااندیشہ ہے میری رائے میں حکم دیجئے کہ قرآن عظیم کی سب سورتیں یکجاکرلی جائیں۔ خلیفہ رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی رائے پسندفرمائی اورحضرت زیدبن ثابت وغیرہ حفاظ صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کواس امرجلیل کاحکم دیاکہ بحمداﷲ تعالٰی ساراقرآن عظیم یکجاہوگیا، ہرسورت ایک جدا صحیفے میں تھی، وہ صحیفے تاحیات صدیقی حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اورا ن کے بعد حضرت امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم اوران کے بعد حضرت ام المومنین حفصہ بنت الفاروق زوجہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہم وسلم کے پاس رہے۔ عرب میں ہرقوم وقبیلہ کی زبان بعض الفاظ کے تلفظ میں مختلف تھی، مثلاً حرف تعریف میں کوئی الف لام کہتاتھا کوئی الف میم کہ اسی لغت پر حدیث:
لیس من امبر الصیام فی امسفر۱؎۔
سفرمیں روزہ رکھناکوئی نیکی نہیں ہے۔(ت) واردہے علامات مضارع حروف "اتین" کوکوئی مفتوح پڑھاتاتھاکوئی مکسور، مامشبہہ بلیس کی خبرکوکوئی منصوب کرتاکوئی مرفوع، اِنَّ و اَنَّ وغیرہما کے اسم کوکوئی نصب دیتاکوئی رفع پررکھتا، بعض قبائل ہرجگہ (ب) کو(م) بولتے (م) کو (ب)، تاء رحمۃ ونحوہا کوئی حالت وقفی میں کوئی (ہ) کہتاکوئی(ت) منصوب منوّن پر، کوئی الف سے وقف کرتاکوئی صرف سکون سے، بعض مرفوع ومجرور پربھی واو ویا سے وقف کرتے۔ بعض قومیں حروف مدہ حرکات موافقہ پرقناعت کرتیں اَعُوْذُ کو اَعُذْ، تَعَالٰی کو تَعَالَ وغیر ذلک کہتیں۔ اسی قسم کے بہت سے تفاوت لہجہ وطرزاداتھے، قرآن عظیم خاص لغت قریش پراُتراتھا کہ صاحب قرآن صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قریشی تھے ؎
گلبن توکہ زگلزارقریشی گل کرد    زان سبب آمدہ قرآن بزبان قرشی
 (آپ کاشجرہ گلاب چونکہ قریش کے باغ سے ظاہرہوا، اسی سبب سے قرآن مجید قریش کی لغت پرآیا۔ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار    کتاب الصیام     باب الصیام فی السفر    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱/ ۳۸۵)
زمانہ اقدس حضورپرنورصلوات اﷲ وسلامہ علیہ میں کہ قرآن عظیم نیانیا اُتراتھا اورہرقوم وقبیلہ کواپنے مادری لہجہ قدیمی عادات کادفعۃً بدل دینا دشوارتھا آسانی فرمائی گئی تھی کہ ہرقوم عرب اپنے طرزولہجہ میں قرأت قرآن عظیم کرے، زمانہ نبوت کے بعد شدہ شدہ اقوام مختلفہ سے بعض بعض لوگوں کے ذہن میں جم گیا جس لہجہ ولغت میں پڑھتے ہیں اس میں قرآن کریم نازل ہواہے یہاں تک کہ زمانہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں بعض لوگوں کواس بات پرباہم جنگ وجدل وزدوکوب کی نوبت پہنچی یہ کہتاتھا قرآن اس لہجہ میں ہے وہ کہتاتھانہیں بلکہ اس دوسرے میں ہے، ہرایک اپنے لغت پردعوٰی کرتاتھا جب یہ خبرامیرالمومنین عثمان غنی کوپہنچی فرمایا ابھی سے تم میں یہ اختلاف پیداہواتوآئندہ کیاامیدہے۔ لہٰذا حسب مشورہ امیرالمومنین سیدنا علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ الکریم ودیگر اعیان صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم یہ اقرار پایاکہ اب ہرقوم کواس کے لب ولہجہ کی اجازت میں مصلحت نہ رہی بلکہ فتنہ اٹھتاہے لہٰذاتمام امت کو خاص لغت قریش پرجس میں قرآن عظیم نازل ہواہے جمع کردینا اورباقی لغات سے بازرکھنا چاہئے، صحیفہائے خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ حضرت ام المومنین بنت الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے پاس محفوظ ہیں منگاکر ان کی نقلیں لے کرتمام سورتیں ایک مصحف میں جمع کریں اوروہ مصاحف بلاداسلام میں بھیج دیں کہ سب اسی لہجہ کااتباع کریں اس کے خلاف اپنے اپنے طرزادا کے مطابق جوصحائف یامصاحف بعض لوگوں نے لکھے ہیں دفع فتنہ کے لئے تلف کردئیے جائیں، اسی رائے صائب کی بناء پرامیرالمومنین رضی اللہ تعالی عنہ نےحضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنھا سے کہلا بھیجا کہ صحیفہائے صدیقی  بھیج دیجئے، امیرالمومنین نے زیدبن ثابت وعبداﷲ بن زبیروسعیدبن عاص وعبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کونقلیں کرنے کاحکم دیا، وہ نقلیں مکہ معظمہ وشام ویمن و بحرین وبصرہ وکوفہ کوبھیجی گئیں اورایک مدینہ طیبہ میں رہی اوراصل صحیفے جمع فرمودہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ جس سے یہ نقلیں ہوئی تھیں حضرت ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاکوواپس دئیے ان کی نسبت معاذاﷲ دفن کرنے یاکسی طرح تلف کرادینے کابیان محض جھوٹ ہے وہ مبارک صحیفے خلافت عثمانی پھرخلافت مرتضوی پھرخلافت امام حسن پھرخلافت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم  تک بعینہا محفوظ تھے یہاں تک کہ مروان نے لے کرچاک کردئیے۔
بالجملہ اصل جمع قرآن تو بحکم رب العزّۃ حسب ارشاد حضور پُرنور سید الاسیاد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہو لیا تھا سب سُوَر کا یکجا کرنا باقی تھا امیرالمومنین صدیق اکبر نے بمشورہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنھما کیا پھر اسی جمع فرمودہ صدیقی کی نقلوں سے مصاحف بنا کر امیر المومنین عثمان غنی نے بمشورہ امیر المومنین مولی علی رضی اللہ تعالی عنھما بلاد اسلام میں شائع کئے اور تمام امت کو اصل لہجہ قریش پر مجتمع ہونےکی ہدایت فرمائی اسی وجہ سے وہ جناب جامع القرآن کہلائے ورنہ حقیقۃً جامع القرآن رب العزۃ تعالی شانہ ہے ،
کما قال عز من قائل :
ان علینا جمعہ وقراٰنہ ،۱؂
بےشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم   ۷۵/ ۱۷)
اوربنظر ظاہر حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور ایک جگہ اجتماع کے لحاظ سے سب میں پہلے جامع القرآن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ، حاکم مستدرک میں بشرط بخاری ومسلم حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال کنا عند رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نؤلف القراٰن من الرقاع ۲؂
یعنی ہم زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں قرآن پارچوں میں جمع کرتے تھے۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم  کتاب التفسیر  جمع القرآن لم یکن مرۃ واحدۃ     دارالفکر بیروت     ۲/ ۲۲۹)
امام جلال الدین سیوطی اتقان شریف میں فرماتے ہیں :
قد کان القراٰن کتب کلہ فی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لکن غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور ۳؂۔
سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد اقدس میں لکھا گیا تھا لیکن وہ ایک جگہ جمع نہیں تھا اور سورتیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔(ت)
 (۳؎ الاتقان النوع الثامن عشرفی جمعہ و ترتیبہ  مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۷)
Flag Counter