فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
98 - 145
مسئلہ ۲۴۲: ازموصل تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفورصاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
سورہ فاتحہ کاشان نزول کہیں نہیں ملتا، شان نزول بیان فرمائیں۔
الجواب : سورہ فاتحہ رحمت الٰہی ہے، دعاوثناہے کہ رب عزوجل نے اپنے بندوں کوتعلیم فرمائی، کسی خاص واقع کے لئے اس کانزول نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۳ : حافظ نجم الدین صاحب نجم چترھائی نیب ۲۹صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیات:
الجواب : یہ خطاب عام ہے خاص اشخاص اس سے مرادنہیں، سب مسلمانوں سے فرمایاجاتاہے کہ تمہارے مال واولاد آزمائش ہیں ایسانہ ہوکہ ان کے سبب یادالٰہی سے تم غافل ہوجاؤ اورجوایساکرے گا وہ نقصان پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۴ : ازشہرگیامحلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمداﷲ خاں ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خضرعلیہ السلام مالک بری ہیں یابحری؟ اورادریس علیہ السلام اب کہاں ہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : مالک بحروبرہرخشک وتراﷲ عزوجل ہے اوراس کی عطا سے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، حضورکی نیابت سے خضرعلیہ السلام کے تصرفات خشکی ودریادونوں میں ہیں۔ ادریس علیہ السلام آسمان پرہیں،
قال اﷲ تعالٰی ورفعنٰہ مکانًا علیا۱؎
(اﷲ تعالٰی کافرمان ہے اورہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن الکریم ۱۹/۵۷)
مسئلہ ۲۴۵: ازشفاخانہ فریدپورڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتمبرپور مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جنید ایک بزرگ کامل تھے انہوں نے سفرکیا، راستے میں ایک دریاپڑااس کوپارکرتے وقت ایک آدمی نے کہاکہ مجھ کوبھی دریاکے پارکردیجئے، تب ان بزرگ کامل نے کہا ''تم میرے پیچھے یاجنید یاجنیدکہتے چلو اور میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گا'' درمیان میں وہ آدمی بھی اﷲ اﷲ کہنے لگا تب وہ ڈوبنے لگا، اس وقت ان بزرگ نے کہا کہ تو اﷲ اﷲ مت کہہ یاجنیدیاجنیدکہہ، تب اس آدمی نے یاجنیدیاجنیدکہاجب وہ نہیں ڈوبا۔ یہ درست ہے یانہیں؟ اوربزرگ کامل کے لئے کیاحکم ہے اورآدمی کے لئے کیاحکم ہے؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : یہ غلط ہے کہ سفرمیں دریا ملابلکہ دجلہ ہی کے پارجاناتھا، اوریہ بھی زیادہ ہے کہ میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گا، اوریہ محض افتراہے کہ انہوں نے فرمایا تواﷲ اﷲ مت کہہ۔ یاجنیدکہنا خصوصاً حیات دنیاوی میں خصوصاً جبکہ پیش نظرموجودہیں اسے کون منع کرسکتاہے کہ آدمی کاحکم پوچھاجائے اورحضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے حکم پوچھنا کمال بے ادبی وگستاخی ودریدہ دہنی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶ : ازسہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سیدپرورش علی صاحب ۲۸شوال ۱۳۳۹ھ
بخدمت جناب فیض درجت خدام ذوی الاحتشام حضرت نعمان الزمان مولانا وبالفضل اولٰینا مولوی احمدرضاخاں صاحب دامت شموس افاداتہ بازغہ معروض باد۔ معراج میں ایک قطار اونٹوں کی کہ ہرایک پردوصندوق، ہرصندوق میں انڈے بھرے، ہرانڈے میں ایک عالم مثل اس عالم کے، اس قطار کوحضرت جبرئیل علیہ السلام نے رواں ہی دیکھا ابتداء انتہانہیں دیکھی، حضرت کی درخواست پرمنظورہوکر اجازت دی اورانڈا کھولاگیا، حضرت ایک شہرکی ایک مسجدمیں تشریف لے گئے وہاں ایک واعظ حضرت خاتم النبیین کاذکرفرماتے تھے واعظ نے یہ بھی کہاکہ حضرت اس جہاں میں ایک بارتشریف لائیں گے، سراٹھاکر دیکھا اورقدمبوسی کی۔ اس سے معلوم ہواکہ عالم تو بے شمار مگرخاتم ایک ہی ہے۔ یہ روایت کس کتاب میں ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب : روایت بعض کتب ۱؎ تصوّف میں ہے، حدیث میں اس کی کچھ اصل نہیں، اورہوتو وہ عالم مثال کی تصویریں ہیں۔
(۱؎ رہبرحق ص۴۰)
قال اﷲ تعالٰی وان من شیئ الا عندنا خزائنہ وماننزلہ الا بقدر معلوم۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اورکوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں، ہم اسے نہیں اتارتے مگرایک معلوم اندازے سے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۵/ ۲۱)
مسئلہ ۲۴۷: ازوزیرآباد محلہ لکڑمنڈی ضلع گوجرانوالہ مسئولہ نظام الدین عثمانی ۱۲شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سیدعبدالقادرجیلانی رحمۃ اﷲ علیہ سیدنہیں اورنہ حسن مثنّٰی کی اولادمیں ہیں۔ مہربانی فرماکر کتب معتبرہ شیعہ وسنی سے نقل عبارت مع صفحہ ونام کتاب تحریرفرمائیں۔بیّنواتوجروا
الجواب : سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقینا قطعاً اجل سادات کرام سے ہیں، حضورکی سیادت متواترہے، حضرت سیدی امام اوحدابوالحسن لخمی قدس سرہ کی بہجۃ الاسرار شریف اورامام جلیل عبداﷲ بن اسعد یافعی شافعی کی اسنی المفاخر وعلامہ علی قاری کی نزہۃ النواظر اورمولینا نورالدین جامی کی نفحات الانس اورشیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی کی زبدۃ الآثار وغیرہم اجلہ اکابر کی معتمدات اسفارملاحظہ ہوں۔ فقیر بوجہ علالت تبدیل ہواکے لئے پہاڑ پرآیاہواہے ورنہ کتابوں کے حوالے اورصفحات کے نشان لکھتا۔ رافضیوں کی کتابیں میرے کتب خانہ میں نہیں، نہ مسلمانوں کو ان کی بات پرکان رکھناجائز، میں رسالہ ردالرفضہ میں کتب معتمدہ کثیرہ ودلائل قاطعہ منیرہ سے ثابت کرچکاہوں کہ روافض زمانہ سب کفارمرتدین ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۱؎۔
ان سے دوررہو اورانہیں اپنے سے دورکرو کہیں وہ تمہیں بہکانہ دیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالدیں۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰)
رافضیوں کے یہاں تومعیارسیادت رفض ہے، سنی کیسا ہو جلیل القدرسیدہو اسے ہرگزسیدنہ مانیں گے اورکوئی کیساہی رذیل ذلیل قوم کاآج رافضی ہوجائے کل سے میرصاحب ہے
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۲؎
(اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پرپلٹاکھائیں گے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔