Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
97 - 145
مسئلہ ۲۲۹ : ازگونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ سیٹھ عبدالستارصاحب قادری برکاتی رضوی  ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

حضرت مولائے مسلمین امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ نجف اشرف میں قبرشریف کے اندر پردہ پوش ہیں یاآنجناب رضی اﷲ تعالٰی عنہ مدفون نہیں ہوئے اورنجف شریف میں آپ کی قبرشریف نہیں ہے؟ برتقدیر ثانی حضور رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیت سے نجف اشرف جاناکیساہے؟ شیرخدا رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہاں آرام فرماتے ہیں؟
الجواب : روایات مختلف ہیں، یہ بھی روایت آئی کہ نعش مبارک کومدینہ طیبہ لے جانے کی غرض سے ایک بغلہ پررکھ کرچلے اوروہ چھوٹا اورغائب ہوگیا اورمنع زیارت کے لئے عدم مزارکایقین چاہئے اورجواززیارت کے لئے ایک روایت واحتمال کافی ہے اوریہ لوگ اﷲ کے نورہیں انہیں جہاں سے پکاروگے فیض پہنچائیں گے۔ حضرت بتول زہراصلی اﷲ تعالٰی علٰی ابیہا الکریم وعلیہا وعلٰی بعلہا وابنیہا وبارک وسلم کے مزاراطہر میں بھی دوروایتیں ہیں، بقیع شریف میں اورخاص جوارروضہ اقدس میں۔ ایک صاحب دل نے مدینہ طیبہ کے ایک عالم سے کہامیں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں انوارپاتاہوں۔ فرمایا: یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجہ چاہئے پھرنورباری ان کاکام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۰:  ازضلع خاندیش پچھم بھاگ تعلقہ ڈاک خانہ لگرمنداسوستان کاٹھی مقام علاکوا مرسلہ محمداسمٰعیل     ۱۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

حضرت پیران پیر دستگیر کے گیارہ نام کیاکیاہیں؟
الجواب : حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اسماء شریفہ یہ ہیں:
سیدمحی الدین سلطان، محی الدین قطب، محی الدین خواجہ، محی الدین مخدوم، محی الدین ولی، محی الدین بادشاہ، محی الدین شیخ، محی الدین مولٰنا، محی الدین غوث، محی الدین خلیل، محی الدین، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۱ : ازمقام کاٹھیاواڑ، ترسالی احمددادصاحب یکم جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ

یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ نے خواب دیکھاکہ ''حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میرا مذہب ضعیف ہواجاتاہے لہٰذاتم میرے مذہب میں آجاؤ میرے مذہب میں آنے سے میرے مذہب کوتقویت ہوجائےگی، اس لئے حضرت غوث پاک حنفی سے حنبلی ہوگئے۔
الجواب : یہ روایت صحیح نہیں، حضورہمیشہ سے حنبلی تھے اوربعد کو جب عین الشریعۃ الکبرٰی تک پہنچ کرمنصب اجتہاد مطلق حاصل ہوامذہب حنبل کوکمزورہوتاہوادیکھ کر اس کے مطابق فتوٰی دیا کہ حضورمحی الدین اوردین متین کے یہ چاروں ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتادیکھا اس کی تقویت فرمائی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۲:  ازحیدرآباد قریب ڈیوڑھی نواب نصرت جنگ بہادرمرسلہ سیدغلام فضل بیابانی قاضی درنگل یکم ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ

حضرت سیداحمد کبیررفاعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اولاد صلبی تھی یانہیں؟ مولانا کی تحقیقات میں جوبات ثابت ہو اس سے بھی بحوالہ کتب حسن ایما ہو۔
الجواب : حضرت سیداحمدکبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اولاد صلبی نہ تھی حضرت کے بھانجے تھے، وفیات الاعیان میں ہے:
لم یکن لہ عقب۱؂
 (آپ کاکوئی بیٹا نہ تھا۔ت)
 (۱؎ وفیات الاعیان     ترجمہ ابوالعباس احمدبن علی المعروف بابن الرفاعی۲۰    دارالثقافۃ بیروت ۱ /۱۷۲)
قلائدالجواہرمیں ہے:
قال العلامۃ شمس الدین بن ناصر الدین الدمشقی سیدی الشیخ الکبیر محی الدین سلطان العارفین ابوالعباس احمد بن الرفاعی لم یبلغنا انہ اعقب کما جزم بہ غیرواحد من الائمۃ المرضیۃ۲؂۔ واﷲ تعالٰی اعلم
علامہ شمس الدین بن ناصرالدین دمشقی نے فرمایا کہ ہمیں یہ خبرنہیں پہنچی کہ ہمارے سردار، شیخ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، ابوالعباس احمدبن رفاعی علیہ الرحمہ نے کوئی اولادچھوڑی ہو، جیساکہ متعدد پسندیدہ ائمہ نے اس پرجزم فرمایاہے، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے(ت)
 (۲؎ قلائدالجواہر     فی مناقب عبدالقادر )
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ غلام رسول ۱۱شوال محلہ بہاری پور

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے کہ امام حسین علیہ السلام کے واقعہ شہادت میں جتنی روایتیں ہیں سب کی سب ضعیف ہیں کیونکہ اس وقت تمام مخالفین موجودتھے وہ ہی راوی ہوں گے لہٰذاکوئی ثقہ نہ پایاگیا اورنیزاصحاب رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین موجودنہ تھے بالفرض مان لیاجائے کہ موجودتھے تواپنی اپنی جگہ، لہٰذا ان کوخبرملے توان مخالفین سے اس وجہ سے یہ بھی ضعیف ہوگی۔ اوربکرکہتاہے کہ ایسے مواقع میں خبرصحیح ہوسکتی ہے۔ زین العابدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ موجودتھے اورحرم محترم بھی موجودتھے اورموافقین تھے لہٰذا روایتیں صحیح ہوسکتی ہیں ان دونوں سے کون حق پرہے؟بینواتوجروا۔

الجواب : بکرحق پرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ تا ۲۴۱:  ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی پرگنہ اجاؤں ضلع بریلوی مرسلہ امیرعالم حسن صاحب ۱۶شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) زیدکہتاہے کہ میں اولادسیدبدیع الدین صاحب عرف شاہ مدار کے ہوں اوران ہی سے ہمیں خلافت بھی ہے۔ عمرونے اس پرجواب دیاکہ سید بدیع الدین صاحب نے نہ شادی کی نہ ان کی اولادہوئی پھرتم کہاں سے پیداہوئے اورتمہیں خلافت کس نے دی۔ زیدنے اس پرجواب دیاکہ نہیں سیّدبدیع الدین صاحب نے دوخلیفہ کئے ہم انہیں کی اولاد میں ہیں اورانہیں سے خلافت چل رہی ہے۔

(۲) زیدکہتاہے کہ ہم مدارصاحب کے بھتیجوں کی اولاد میں ہیں۔

(۳) زیدکہتاہے کہ سیدمدارصاحب نے ایک نقش لکھ کرایک عورت کودکھایا کہ جس کے دیکھنے سے وہ حاملہ ہو گئی اوراس سے جواولاد پیداہوئی ہم اس کی اولاد میں ہیں یہاں تک کہ ایک گاؤں اس کی اولاد سے آبادہے۔

(۴) زیدکامرید مع زیدیہ بات کہتاہے کہ جب ہماری خلافت ثابت نہیں تو آج تک کسی عالم نے کیوں نہیں منع کیا۔

(۵) یہ کہ اب علماء فرمائیں کہ سیدمدارصاحب نے کسی کوخلیفہ کیایانہیں یاشادی کی یانہیں یاکوئی بھتیجا ہمراہ آیاتھا یانہیں، اوراگرکسی کوخلیفہ کیاتو اس کی اولاد ہوئی یانہیں اور وہ خلیفہ کہاں گئے اورکیاہوئے؟

(۶) سیدمدارصاحب کاوصال مکن پورہوایاکہیں اور؟ اوروہ خلیفہ کہاں مدفون ہیں؟

(۷) یہ کہ وہ خلیفہ ہندوستان میں گئے یاعرب میں یاکہاں؟

(۸) یہ کہ وہ خلیفہ سیدمدارصاحب سے پہلے رحلت کرگئے یابعد کو؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیں، سبع سنابل شریف میں ہے: حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد ۱؎، میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ سبع سنابل     مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۴۱)
Flag Counter