| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۲۵: مرسلہ جناب قاضی ارشاد علی صاحب ازبیلپور ضلع پیلی بھیت ۱۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استن حنانہ یعنی وہ چوب خشک جس سے حضورپرنورعلیہ الصلوٰۃ والسلام تکیہ لگاکر وعظ فرمایاکرتے تھے اورجس کاقصہ مولانا روم رحمہ اﷲ تعالٰی نے مثنوی شریف میں تحریرفرمایاہے، کیا اس کوحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دفن کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی؟ الجواب : نمازجنازہ پڑھناغلط ہے اورمنبرشریف کے نیچے دفن کرنا ایک روایت میں آیاہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: ازپورسہ پوسٹ آفس نیت پورضلع دیناج پور مرسلہ محمدحافظ علی صاحب،اِم اِم رجسترار پورسہ ۲۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ شخصے می گوید کہ سوائے قصہ ابن الصیاد رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم با دجال ملاقات کردہ بودند ودجال برصورت خودکہ بوقت خروج باشدہ بود وحضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ ممانعت آنحضرت گوش نہ کردہ برآں دجال تلوار زدہ بودند اما بردجال نہ افتادہ برپیشانی مبارک حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اوفتادہ بودبنابرآں ازآں پیشانی مبارک بے انتہا خون جاری شدہ بودوہم برآں نشانے باقی ماندہ ایں روایتش صحیحہ است یاغلط؟
ایک شخص کہتاہے کہ ابن صیاد کے قصہ کے علاوہ رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دجال کے ساتھ ملاقات کی جبکہ دجال اپنی اصلی صورت پر تھاجیسا کہ خروج کے وقت وہ ہوگا۔ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ممانعت پرکان نہ دھرتے ہوئے دجال کوتلوار ماردی جو اس کونہ لگی بلکہ خود حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی مبارک پیشانی پرجالگی جس سے بہت زیادہ خون جاری ہوا اورپیشانی پرزخم کانشان باقی رہا، کیایہ روایت صحیح ہے یاغلط؟
الجواب: ایں کذب وافترائے محض ست ماناکہ ازمختلقات اہل رفض ست
قاتلھم اﷲ انّٰی یؤفکون۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ خالص جھوٹ اورافترأہے۔ یقینا رافضیوں کی من گھڑت روایتوں میں سے ہے۔ اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۴۶)
مسئلہ ۲۲۷ : ازشہر محلہ قلعہ مرسلہ حامد حسین خاں مؤرخہ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ مخدومی مکرمی محتشمی دامت برکاتہ سلام علیکم۔ جناب مہربانہ توجہ مبذول فرماکر تحریرفرمائیں کہ مفتیان ذیل کس مذہب وملت واعتقاد کے لوگ ہیں اور ان کے افعال واقوال کس درجہ تک قابل تسلیم ہیں؟ خادم نوازی سے ممنون ہوں گا۔ اوریہ ان کی کتب مندرجہ ذیل بطور استدلال ہیں کس پایہ کی سمجھی جاتی ہیں؟ زیادہ والسلام ، علامہ طبرانی، صاحب عقدالفرید، صاحب خلل ایام فی الخلفاء الاسلام۔
الجواب: وعلیکم السلام، محمدبن جریرطبرانی دوگزرے ہیں: ایک مفسر، محدث، سنی، شافعی المذہب، ان کی تاریخ کبیر کمیاب ونادرالوجودہے۔ دوسرارافضی مصنف مطاعن صحابہ وایضاح المسترشد۔ اکثرلوگوں کودھوکاہوتاہے اس کے اقوال کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں، پھرتاریخ کسی کی تصنیف ہو مدارعقیدہ نہیں ہوسکتی، مورخ رطب، یابس، مسند، مرسل، مقطوع، معضل سب کچھ بھردیتے ہیں۔ ایک عقدالفرید تودر بارہ تقلیدعلامہ ابوالاخلاص حسن شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی تالیف ہے یہ گیارہویں صدی کے ایک متاخر سنی عالم فقیہ حنفی ہیں، فقہ حنفی میں نورالایضاح ومراقی الفلاح وامداد الفتاح وغیرہ بہت کتب ورسائل ان کی تصنیف ہیں، عقد الفرید میں ان کی رائے نہ محققین کوقبول نہ خود ان کی معمول۔ دوسرارسالہ اس نام کاشیخ عطاء الدین علی سمہودی کااس باب میں ہے، تیسرا انساب، چوتھا علم تجوید، پانچواں کلام، چھٹا اخلاق ہیں۔ صاحب کشف الظنون نے اورذکرکئے جن کے نام اس کتاب میں دیکھے جاتے ہیں وبس۔ خلل ایام کسی کتاب کانام بھی سننے میں نہ آیا، نہ کشف الظنون میں کوئی کتاب اس نام کی لکھی شایدحال کے کسی شخص کی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۸ : ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہورہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ حضرت امام حسن وحضرت امام حسین وحضرت امام مہدی کے کسی اورامام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃً یاصراحۃً کوئی خبرآئی ہے؟ امامت ان کی ولایت کے درجے پرمانناچاہئے ان کے عقائد واحکام واعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایک کے مشابہ تھے یاسب سے الگ؟ یہ خود مجتہدتھے یامقلد؟ بعض اعمال وجفروغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تک صحیح ہیں؟ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کاخاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کوکہاں تک واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنّت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے؟
الجواب : امام باقررضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابربن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کاذکر فرمایاکہ ان سے ہماراسلام کہنا۔ سیدنا امام محمدباقررضی اﷲ تعالٰی عنہ طلب علم کے لئے سیدناجابررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اورکہا:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسلّم علیک۱؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کوسلام فرماتے ہیں، اور
اخرج منکما الکثیر الطیب۲؎
(اﷲ تعالٰی تم دونوں کوکثیرپاکیزہ اولاد عطافرمائے) میں ان سب حضرات کی بشارت ہے۔
(۱؎ تاریخ دمشق الکبیر ترجہ ۶۹۰۱ محمدبن علی بن حسین داراحیاء التراث العربی بیروت ۵۷/ ۲۱۵،۲۱۶) (۲؎ تنزیہ الشریعۃ باب فی مناقب السبطین وامہما وآل البیت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۱۱)
امامت اگربمعنی مقتدٰی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اورغلاموں کے غلام مقتدٰی فی الدین ہیں، اوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہرغو ث کے دووزیرہوتے ہیں عبدالملک و عبدالرب، انہیں امامین کہتے ہیں، توبلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے۔ اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مرادہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولٰی علٰی وسیدناامام حسن مجتبٰی کوملی اوراب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، باقی جومنصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہے جس کوفرمایا
انّی جاعلک للناس اماما۱؎
(میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں۔ت) وہ امامت کسی غیرنبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی،
اطیعوااﷲ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۲؎
(حکم مانو اﷲ کا اورحکم مانورسول اﷲ کااوران کا جوتم میں حکومت والے ہیں۔ت) ہرغیرنبی کی امامت اولی الامرمنکم تک ہے جسے فرمایا:
وجعلنٰھم ائمۃ یھدون بامرنا۳؎
(اورہم نے انہیں امام کیاکہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت) مگر اطیعوا الرسول کے مرتبے تک نہیں ہوسکتی اس حد پرماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے۔ امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالٰی عنہ تک توبلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین وائمہ مجتہدین تھے، اورباقی حضرات بھی غالباً مجتہد ہوں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۲۴)(۲؎القرآن الکریم ۴/ ۵۹)(۳؎القرآن الکریم ۲۱/ ۷۳)
یہ نظربظاہرہے ورنہ باطنی طورپر کوئی شک کامقام نہیں کہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبرٰی تک واصل تھے، جوبسند صحیح ثابت یاکسی فقہ معتمد کی نقل ہے اس کاثبوت ماناجائے گاورنہ مجاہیل یاعوام یاایسی کتاب کی نقل جورطب ویابس سب کی جامع ہوتی ہے کوئی ثبوت نہیں۔ صحاح میں صدیق اکبروفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی روایات بھی بہت کم ہیں، رحمت الٰہی نے حصے تقسیم فرمادیئے ہیں کسی کوخدمت الفاظ، کسی کوخدمت معانی، کسی کو تحصیل مقاصد، کسی کوایصال الی المطلوب، نہ ظاہری روایت کی کثرت وجہ افضلیت ہے نہ اس کی قلت وجہ مفضولیت۔ صحیحین میں امام احمد سے صدہااحادیث ہیں اورامام اعظم وامام شافعی سے ایک بھی نہیں، اورباقی صحاح میں اگران سے ہیں بھی توبہت شاذونادر، حالانکہ امام احمدامام شافعی کے شاگردہیں، اورامام شافعی امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، بلکہ امام احمد کامنصب بھی بہت ارفع واعلٰی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں رُبع اسلام کہا ہے۔ ہزاروں محدثین جوفقیہ تک نہ تھے ان سے جتنی روایات صحاح میں ملیں گے صدیق وفاروق بلکہ خلفائے اربعہ سے اس کادسواں حصہ بھی نہ ملے گا رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ یہ محض غلط وافتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں، اہلسنّت کی جتنی کتابیں بیان حالات اکابرمیں ہیں سب ان پاک مبارک محبوبان خدا کے ذکرسے گونج رہی ہیں اور خود ان کے ذکرمیں مستقل کتابیں ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم