| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
المذکور فی الکتب المشہورۃ انہ ینبغی ان یکون البعد بین تقویمی النیرین اکثر من عشرۃ اجزاء وقیل ینبغی ان یکون مابین مغاربیھا عشرۃ اجزاء اواکثر حتی یکون القمرفوق الارض بعد غروب الشمس مقدار ثلثی ساعۃ اواکثر والمشھور فی ھذا الزمان بین اھل العمل انہ ینبغی ان یتحقق الشرطان حتی تمکن الرؤیۃ ویسمون البعد الاول بعد السواء والبعد الثانی بعد المعدل۱؎۔
مشہورکتابوں میں مذکورہے کہ نیریّن (شمس وقمر) کی تقویموں کے درمیان دس درجے سے زائد فاصلہ نہ چاہئے۔ اورکہاگیاہے کہ ان کی مغربوں کے درمیان دس درجے یااس سے زائد فاصل ہوناچاہئے یہاں تک کہ چاند غروب آفتاب کے بعد دوتہائی ساعت یا اس سے زائد مقدار پرزمین سے اوپرہو۔ اور اس زمانہ میں اہل عمل کے درمیان مشہوریہ ہے کہ دونوں شرطیں متحقق ہونی چاہئیں تاکہ رؤیت ممکن ہو۔ بعد اول کانام بعد سواء اوربعد ثانی کانام بعد معدل رکھتے ہیں۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ شرح چغمینی )
شرح زیج سلطانی میں ہے:
بایدکہ بعد معدل دہ درجہ باشد یازیادہ وبعد میان دوتقویم ایشاں ازدہ زیادہ باشد تا ہردوشرط وجودنگیرد ہلال مرئی نہ شود ومتعارف دریں زمان ایں ست۲؎۔
بُعد معدل دس درجے یااس سے زائد ہوناچاہئے اوران کی دوتقویموں کے درمیان بُعد دس سے زائد ہوگا۔ جب تک دونوں شرطیں موجودنہ ہوں چانددکھائی نہیں دے گا۔ اس زمانہ میں یہی متعارف ہے۔(ت)
(۲؎ شرح زیج سلطانی )
جزئیات موامرہ کی جدول یہ ہے
26_49.jpg
جب شب سہ شنبہ تک نیریّن کایہ حال تھا کہ وقوع رؤیت ہلال ایک مخفی غیرمتوقع احتمال تھا تواس سے دوایک رات پہلے کاوقوع بداہۃً محال تھا جب اس رات قمرصرف نودرجے آفتاب سے شرقی ہواتھا توشام یک شنبہ کوقطعاً کئی درجے اس سے غربی تھا اورغروب شمس سے کوئی پاؤ گھنٹے پہلے ڈوبا اورشام شنبہ کوتوعصرکااعلٰی مستحب وقت تھا جب چاندحجلہ نشین مغرب ہوچکاپھررات کورؤیت ہلال کیازمین چیرکر ہوئی۔ غرض دلائل ساطعہ سے ثابت ہے کہ اس ماہ مبارک کی پہلی یادوسری دوشنبہ کی ہرگزنہ تھی اورروز وفات اقدس یقینا دوشنبہ ہے تووہ دونوں قول قطعاً باطل ہیں اورحق وصواب وہی قول جمہوربمعنی مذکورہے یعنی واقع میں تیرہویں اوربوجہ مسطورتعبیرمیں بارہویں کہ بحساب شمسی نہم جزیران ۹۴۳ رومی نوسوتینتالیس رومی اسکندررانی ہشتم (عہ) جون ۶۳۲ چھ سوبتیس عیسوی تھی۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
عہ: یعنی اس وقت جوشمار رائج تھا اس کے حساب سے ۸جون اوراصلی حساب سے ۱۲ تھی زیج بہادر خانی سے بستم جون آتی ہے مگریہ اس کی غلطی ہے کہ ہم نے اپنے رسالہ ''تحقیقات سال مسیحی میں واضح کیاہے ۱۲منہ غفرلہ
مسئلہ ۲۲۴ : ازفیروزپور محلہ پیراں والا مسئولہ غیاث اﷲ شاہ دبیرانجمن تعلیم الدین والقرآن علی مذہب النعمان ۷رمضان ۱۳۳۹ھ مشہورہے کہ حضورپرنورشافع یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت بارہویں ربیع الاول ۱ کوہوئی ہے چنانچہ تواریخ حبیب الٰہ اورمولود برزنجی میں یہی لکھاہے اوراذاقۃ الآثام کے ص۱۰۱ پرلکھاہے کہ: ''مولٰینا رفیع الدین خاں مرادآبادی اپنے سفر کے حالات میں تحریرکرتے ہیں کہ بارہویں تاریخ ربیع الاول کوحرمین شریفین میں یہ محفل منعقد ہوتی ہے''۲؎
(۱؎ عقدالجوہرفی مولدالنبی الازہر جامعہ اسلامیہ لاہور ص۳۱) (۲؎ اذاقۃ الاثام )
مگرزیدکہتاہے کہ دراصل پیدائش کی تاریخ ۹ربیع الاول ہے اورسال فیل کے حساب کرنے سے ۹تاریخ ربیع الاول کی آتی ہے اس لئے ۱۲ربیع الاول جو روزوفات ہے عیدمیلاد کرنی ممنوع ہے اورایک کتاب رحمۃ للعالمین ایک شخص نے پٹیالہ میں حال میں لکھی ہے اس میں بھی ۹تاریخ ولادت بحساب سال فیل تحریرکیاہے اورشبلی نعمانی نے بھی اپنی سوانح میں ایسادرج کیاہے تواب ان میں صحیح اورمعتبرکون سی تاریخ ہے؟ اوراگردراصل ۹تاریخ ولادت توکیاعیدمیلاد ۹کوکی جایاکرے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرماؤ اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : شرع مطہرمیں مشہور بین الجمہور ہونے کے لئے وقعت عظیم ہے اورمشہور عندالجمہور ہی ۱۲ربیع الاول ہے اورعلم ہیأت وزیجات کے حساب سے روزولادت شریف ۸ربیع الاول ہے
کما حققناہ فی فتاوٰنا
(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) یہ جوشبلی وغیرہ نے ۹ربیع الاول لکھی کسی حساب سے صحیح نہیں۔ تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصروشام بلاداسلام وہندوستان میں۱۲ ہی پرہے اس پرعمل کیاجائے،، اورروزولادت شریف اگرآٹھ یابفرض غلط نو یاکوئی تاریخ ہوجب بھی بارہ کوعیدمیلاد کرنے سے کون سی ممانعت ہے وہ وجہ کہ اس شخص نے بیان کی خودجہالت ہے، اگرمشہور کااعتبارکرتاہے توولادت شریف اوروفات شریف دونوں کی تاریخ بارہ ہے ہمیں شریعت نے نعمت الٰہی کاچرچاکرنے اورغم پرصبرکرنے کاحکم دیا، لہٰذا اس تاریخ کوروزماتم وفات نہ کیا روزسرورولادت شریفہ کیا
کما فی مجمع البحارالانوار
(جیساکہ مجمع البحارالانوارمیں ہے۔ت) اوراگرہیأت وزیج کاحساب لیتاہے توتاریخ وفات شریف بھی بارہ نہیں بلکہ تیرہ ربیع الاول
کماحققناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) بہرحال معترض کااعتراض بے معنی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم