Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
94 - 145
اوران دونوں اختلافوں کواختلاف رؤیت میں دخل بیّن ہے کہ اختلاف طول سے بعد نیرین کم وبیش ہوتاہے اوراختلاف عرض سے قمرکے ارتفاع مدار کے انتصاب اوربالائے افق  اس کی بقا میں تفاوت پڑتاہے اورکثرت بعدو زیادت انتصاب مدار وارتفاع قمروطول مکث سب معین رویت ہیں اوران کی کمی مخل رؤیت، مگربلدین کریمین کے طول وعرض میں چنداں تفاوت کثیر نہیں اورجوکچھ ہے یعنی طول میں دودرجے اورعرض میں تین درجے وہ مانحن فیہ میں ہرگز یہ نہ چاہے گا کہ مکہ معظمہ میں تورؤیت ہو اورمدینہ طیبہ میں نہ ہوبلکہ اگرمقتضٰی ہوگا تواس کے عکس کاکہ مقام جس قدرغربی ترہو امکان رؤیت بیشترہوگا کہ دورہ معدّل میں مواضع غربیہ پرنیرین کاگزرمواضع شرقیہ کے بعد ہوتاہے اورحرکت قمرتوالی بروج برغرب سے شرق کو ہے توجب موضع شرقی میں فصل قمرین حد رؤیت پرہو غربی میں اورزیادہ ہوگاکہ وہاں تک پہنچنے میں قمر نے قدرے اورحرکت شرق کوکی اورشمس سے اس کافاصلہ بڑھ گیا یوں ہی جب عرض مرئی قمرشمالی ہوجیساکہ یہاں تھاتوعرض بلد کاشمالی ترہونا موجب زیادت تعدیل الغروب زائدہوکر زیادت بعد معدل وطول مکث قمرہوگا مگرہے یہ کہ موانع رؤیت حدانضباط سے خارج ہیں تو دفع استحالہ وتوجیہ مقالہ کے لئے احتمال کافی اورقواعد پرنظرکیجئے توواقعی وہ دن مدینہ طیبہ میں رؤیت عادیہ کانہ تھا سلخ ذی القعدہ وسطیہ روزچارشنبہ کوغروب شرعی شمس کے وقت افق کریم مدینہ منورہ میں مؤامرہ رؤیت کے مقدمات یہ تھے۔
2626.jpg
پرظاہرکہ جب بُعد معدّل وبعد سوادونوں دس درجے سے کم ہیں تویہ حالت حالت رؤیت نہیں قریب قریب اسی حالت کے مکہ معظمہ میں تھی مگرازانجاکہ وہ نودرجے یہ آٹھ درجے سے زائدہے رؤیت پرحکم استحالہ بھی نہ تھا حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی برکات بے نہایات کے حضوریہ کیا بات تھی کہ ایسے امکان غیرمتوقع کی حالت میں فضل وقفہ جمعہ ملنے کے لئے بحکم الٰہی مکہ معظمہ میں شام چارشنبہ کورؤیت واقع ہوگئی افق مدینہ طیبہ میں حسب عادت معہودہ نہ ہوئی پھر روز رؤیت ایام حمل ثور وجوزا خصوصاً ان بلاد گرم سیرمیں گردوغبارہوناکوئی نامتوقع بات نہیں۔ یہ تحقیق کلام علما ہے مگرامام عسقلانی نے ان توجیہوں پر قناعت نہ کی، پہلی پرمخالفت محاورہ سے اعتراض فرمایاکہ اہل زبان جب یہ لفظ بولتے ہیں بارہ راتیں ہی گزرنا مرادلیتے ہیں، نہ بارہ دن کہ یہ تیرہویں پرصادق ہواوراول ودوم دونوں میں یہ استبعاد بتایاکہ چارمہینے متواتر تیس دن کے ہوئے جاتے ہیں۔
فی المواھب عن الفتح ھذا الجواب بعید من حیث انہ یلزم منہ توالی اربعۃ اشھر کوامل۱؎۔
مواہب میں فتح سے منقول ہے کہ یہ جواب اس لئے بعیدہے کہ اس سے چارمہینوں کاپے درپے کامل ہونا لازم آتاہے۔(ت)
 (۱؎ المواہب اللدنیۃ     آخر البعوث النبویۃ    المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۶۴۹)
اقول: اگرندرت مقصود توالزام مفقود کہ دفع استحالہ کواحتمال کافی، خود امام عسقلانی نے جوقول اختیارفرمایا اس پرتین مہینے متوالی ناقص آتے ہیں یہ کیانادرنہیں، اوراگرامتناع مرادتو ظاہرالفساد تین سے زیادہ متواتر ۲۹کے مہینے نہیں ہوتے تیس کے چارتک آتے ہیں ہاں پانچ نہیں ہوتے۔
تحفہ شاہیہ علامہ قطب الدین شیرازی وزیج الغ بیگی میں ہے: واللفظ لہ ''اہل شرع ماہ ہائے ایں تاریخ از رؤیت ہلال گیرند وآں ہرگزازسی روز زیادہ نباشد وازبست ونہ روزکمترنے وتاچہارماہ متوالی سی سی آید وزیادہ نے وتاسہ ماہ متوالی بست ونہ بست ونہ آید وزیادہ نے۔۲؎
اورلفط اس کے ہیں۔ اہل شرع اس تاریخ کے مہینوں کوچاند کی رؤیت سے لیتے ہیں اوروہ ہرگزتیس دن سے زائد اورانتیس سے کم نہیں ہوتے اورچارماہ تک متواتر تیس تیس کے ہوسکتے ہیں زیادہ نہیں، اورتین ماہ تک متواتر انتیس انتیس کے ہوسکتے ہیں زیادہ نہیں۔(ت)
 (۲؎ زیج الغ بیگ )
ثم اقول:  وباﷲ التوفیق
 (پھرمیں کہتاہوں اوراﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ۔ت) قول جمہور سے قول مہجور کی طرف عدول نامقبول ہونے کے لئے اسی قدربس تھاکہ اس کے لئے توجیہ وجیہ موجودہے نہ کہ جب وہ اقوال مہجور ودلائل قاطعہ سے باطل ہوں کہ اب توان کی طرف کوئی راہ نہیں۔ اوپرواضح ہواکہ ان دونوں حضرات کامنشائے عدول تمسک بالحساب ہے کہ پیرکادن یقینی تھا اور وہ بارہویں پرمنطبق نہیں آتا پہلی دوسری پرآسکتاہے مگرحساب ہی شاہد عدل ہے کہ اس سال ربیع الاول شریف کی پہلی یادوسری پیرکوہونا باطل ومحال ہے، فقیراس پر دوحجت قاطعہ رکھتاہے۔
دلیل اوّل: غرہ وسطیہ کہ علماء زیج بحساب اوسط لیتے ہیں نیریّن کے اجتماع وسطی سے اخذ کرتے ہیں اوربداہۃً واضح کہ رؤیت ہلال اجتماع قمرین سے ایک مدت معتدبہا کے بعد واقع ہوتی ہے توغرہ ہلالیہ کبھی غرہ وسطیہ سے مقدم نہ آئے گا
وانماغایتہ التساوی
 (اس کی غایت تومحض تساوی ہے) اوراجتماع ورؤیت میں کبھی اتنافصل بھی نہیں ہوتا کہ قمر ڈیڑھ دوبرج طے کرجائے لہٰذا تقدم وسطیہ کی نہایت ایک دودن ہے وبس،
کل ذٰلک ظاھر من لہ اشتغال بالفن
 (یہ سب ظاہرہے اس شخص کے لئے جوفن کے ساتھ مشغولیت رکھتاہے۔ت) اور آشنائے فن جانتاہے کہ ۱۱ھ ہجریہ میں ماہ مبارک ربیع الاول شریف کاغرہ وسطیہ روزسہ شنبہ تھاتوغرہ ہلالیہ یک شنبہ یادوشنبہ کیونکرمتصورکہ اگریہ سہ شنبہ متاخرہے توہلالیہ کاوسطیہ پرتقدم لازم آتاہے اور اگرمقدم ہے تو اجتماع سے چارپانچ روز تک رؤیت نہ ہونے کالزوم ہوتاہے اوردونوں باطل ہیں،
وبعین الدلیل یستحیل ماتقدم عن سلیمٰن التیمی من کون غرۃ صفر یوم السبت فان غرتہ الوسطیۃ یوم الاثنین فکیف یمکن ان تتقدمھا الھلالیۃ بیومین اوتتاخر عنھا بخمسۃ ایام وبہ یظھر استحالۃ ما اعتمدہ الحافظ بوجہ اٰخر فان مبناہ انما کان علی ھذا کما علمت۔
اوراسی دلیل سے سلیمان تیمی کے اس قول کا محال ہونا ثابت ہوتاہے جوپہلے گزرچکایعنی ماہ صفر کاآغاز بروزہفتہ ہوااس لئے کہ جب اس کا غرہ وسطیہ بروزپیرہے توغرہ ہلالیہ کا اس پردودن مقدم ہونا یا اس سے پانچ دن مؤخرہونا کیسے ممکن ہے اور اسی سے حافظ کے قول معتمد کامحال ہوناایک اوروجہ سے ظاہر ہوتاہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی اسی دلیل پرہے جیساکہ توجان چکاہے۔(ت)
دلیل دوم: فقیرنے شام دوشنبہ ۲۹صفر وسطے ۱۱ھ کے لئے افق کریم مدینہ طیبہ میں نیریّن کی تقویمات استخراج کیں اورحساب صحیح معتمد نے شہادت دی کہ اس وقت تک فصل قمرین حد رؤیت معتادہ پرنہ تھا آفتاب جوزاکے ۶ درجے سترہ دقیقے باون ثانیے پرتھا اورچاندکی تقویم مرئی جوزاکے پندرہ درجے ستائیس دقیقے اکتیس ثانیے، فاصلہ صرف ۹ درجے ۹ دقیقے  ۳۹ ثانیے تھا، اورحسب قول متعارف اہل عمل رؤیت کے لئے کم سے کم دس درجے سے زیادہ فاصلہ چاہئے۔
Flag Counter