| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
تفصیل مقام وتوضیح مرام یہ ہے کہ وفات اقدس ماہ ربیع الاول روزدوشنبہ میں واقع ہوئی، اس قدرثابت ومستحکم ویقینی ہے جس میں اصلاً جائے نزاع نہیں۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری و مواہب لدنیہ وشرح زرقانی میں ہے:
(ثم ان وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی یوم الاثنین) کما ثبت فی الصحیح عن انس ورواہ ابن سعد باسانیدہ عن عائشۃ وعلی وسعد وعروۃ وابن المسیب وابن شھاب وغیرھم (من ربیع الاول بلاخلاف) کماقال ابن عبدالبربل کادیکون اجماعاً۱؎۔الخ
(پھرحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاوصال پیرکے روزہے) جیساکہ صحیح میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ہے۔ اس کو ابن سعد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ سیدنا عائشہ صدیقہ، علی مرتضٰی، سعد، عروہ، ابن مسیب اورابن شہاب وغیرہ سے روایت کیاہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم (ربیع الاول میں وصال مبارک کے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں) جیساکہ ابن عبدالبرنے کہابلکہ تقریباً اس پراجماع ہے الخ(ت)
(۱؎ المواہب اللدنیۃ آخرالبعوث النبویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۶۴۹) (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۱۱)
ادھریہ بلاشبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جوذی الحجہ تھا اس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالاجماع روزجمعہ ہے،
وقد ثبت ذٰلک فی احادیث صحاح لامنازع لھا فلاحاجۃ بنا الی اطالۃ الکلام بسردھا۔
تحقیق یہ ایسی صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکاہے جن کاکوئی مزاحم نہیں لہٰذا ہمیں اس کی تفصیل میں طویل کلام کی کوئی ضرورت نہیں۔(ت)
اورجب ذی الحجہ ۱۰ھ کی ۲۹روزپنجشنبہ تھی توربیع الاول ۱۱ھ کی ۱۲کسی طرح روزدوشنبہ نہیں آتی کہ اگرذی الحجہ، محرم، صفرتینوں مہینے ۳۰ کے لئے جائیں توغرہ ربیع الاول روزچارشنبہ ہوتاہے اورپیرکی چھٹی اورتیرہویں، اوراگرتینوں ۲۹ کے لیں توغرہ روزیکشنبہ پڑتاہے اورپیرکی دوسری اورنویں، اوراگران میں کوئی ساایک ناقص اورباقی دوکامل لیجئے توپہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اورپیرکی ساتویں چودھویں، اوراگرایک کامل دوناقص مانئے توپہلی پیرکی ہوتی ہے پھرپیرکی آٹھویں پندرھویں، غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی، اوران چارکے سواپانچویں کوئی صورت نہیں، قول جمہور پریہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اوراسے لاحل سمجھ کرانہوں نے قول یکم اور امام ابن حجرعسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا۔
فی المواہب بعد ذکرالقول المشھور (استشکلہ السھیلی وذٰلک انھم اتفقوا ان ذا الحجہ کان اولہ یوم الخمیس) للاجماع ان وقفۃ عرفۃ کانت الجمعۃ (فمھما فرضت الشھور الثلٰثۃ توام اونواقص اوبعضھا لم یصح) ان الثانی عشر من ربیع الاول یوم الاثنین (قال الحافظ ابن حجروھو ظاھر لمن تاملہ وقد جزم سلیمٰن التیمی احد الثقات بان ابتداء مرضہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یوم السبت الثانی و العشرین من صفر ومات یوم الاثنین للیلتین خلتا من ربیع الاول فعلی ھذا یکون صفر ناقصا ولایمکن ان یکون اول صفر السبت الا ان یکون ذوالحجہ والمحرم ناقصین فیلزم منہ نقص ثلٰثۃ اشھر متوالیۃ) وھی غایۃ مایتوالی قال الحافظ واما من قال مات اول یوم من ربیع الاول فیکون اثنان ناقصین وواحد کاملا ولذارجحہ السھیلی (والمعتمد ماقالہ ابو مخنف) الاخباری الشیعی قال فی المیزان وغیرہ کذاب تالف متروک، وقد وافقہ ابن الکلبی (انہ توفی ثانی ربیع الاول وکان سبب غلط غیرہ انھم قالوا مات فی ثانی شھر ربیع الاول فغیرت فصارت ثانی عشر واستمرالوھم بذٰلک یتبع بعضھم بعضا من غیرتامل۱؎ اھ) مختصرا۔ مزیدا من الشرح اقول: ویظھر لمن تامل ھذا الکلام منشأ اختلاف نظرالامامین فی اللیل الی القولین فکان السھیلی نظر ان قول ابی مخنف لایتأتی الا ان تتوالی الاشھر الثلثۃ ذوالحجۃ ومحرم وصفر نواقص وھذا فی غایۃ الندرۃ بخلاف القول الاول فان علیہ یکون شھرا کاملا وشھران ناقصین وھذا کثیر فترجح ذٰلک فی نظرہ مع انہ اشد ثبوت بالنسبۃ الی ذٰلک وکان الحافظ نظران علی القول الاول لایبقی للجمہور عذر فی الباب فالمیل الٰی مایکون فیہ ابداء عذرلھم کما ذکر من وقوع تصحیف شھر بعشر احسن او امتن۔
مواہب لدنیہ میں قول مشہورکے ذکرکے بعد ہے۔ سہیلی نے اس پراعتراض واردکیاہے وہ یہ ہے کہ علماء ذوالحجہ کے جمعرات کوشروع ہونے پرمتفق ہیں کیونکہ وقوف عرفہ بروزجمعہ ہونے پراجماع ہے۔ تواب اگرتینوں مہینے (ذوالحجہ، محرم، صفر) کامل (تیس تیس دن کے) فرض کئے جائیں یا تینوں ناقص(انتیس انتیس دن کے) فرض کئے جائیں یابعض کامل اوربعض ناقص فرض کئے جائیں کسی صورت میں یہ صحیح نہ ہوگا کہ بارہ ربیع الاول شریف پیرکے دن ہو۔ حافظ ابن حجرنے کہایہ اشکال اس شخص پرظاہرہے جوتامل کرے۔ سلیمان تیمی جوکہ ثقہ ہیں قطعی طورپرکہاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بیماری کاآغاز بائیس صفربروزہفتہ ہوااور آپ کاوصال دوربیع الاول شریف کوہوا، اس حساب سے ماہ صفر ناقص ہوگا اورجب تک ذوالحجہ اورمحرم ناقص نہ ہوں صفرکاآغاز ہفتہ کے روزہوناممکن نہیں۔ اس طرح تین مسلسل مہینوں کاناقص ہونالازم آئے گا جوکہ مسلسل ناقص ہونے کی آخری حد ہے۔ حافظ نے فرمایا جس شخص نے کہاہے کہ آپ کاوصال یکم ربیع الاول کوہے تو اس حساب سے دومہینے ناقص اورایک کامل ہوگا۔ اسی لئے سہیلی نے اس کوترجیح دی ہے۔ اس باب میں ابومخنف مؤرخ شیعہ کا قول معتمدہے۔ میزان وغیرہ میں ہے کہ وہ کذاب، تالف اورمتروک ہے۔ابن کلبی نے اس کی موافقت کی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ۲ربیع الاول کوہوا۔ ابومخنف کے غیرکی غلطی کاسبب یہ ہے کہ علماء نے کہاحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاوصال شہر(ربیع الاول) کی ثانی (دو) کوہے، اس میں تغیرکردیاگیا تویہ اس طرح ہوگیاکہ آپ کاوصال ربیع الاول کی ثانی عشر(بارہ) کو ہے(یعنی لفظ شھر کی بجائے لفظ عشر ہوگیا) پھریہ وہم چلتارہا اور اس میں بعض علماء بعض کی بلاتامل پیروی کرتے رہے اھ اختصار شرح میں کچھ اضافے کے ساتھ۔ اقول: (میں کہتاہوں) اس کلام میں تامل کرنے والے پردونوں اماموں کے دوقولوں کی طرف میلان کے بارے میں نقطہ نظرکے اختلاف کامنشا ظاہرہوجاتاہے، سہیلی نے دیکھاکہ ابومخنف کاقول تب ہی متحقق ہوسکتاہے جب تینوں مہینے یعنی ذوالحجہ، محرم اور صفر پے درپے ناقص ہوں اوریہ انتہائی نادرہے بخلاف قول اول کے کہ اس پرایک مہینہ کامل اور دوناقص ہوتے ہیں اوریہ کثیر الوقوع ہے۔ چنانچہ سہیلی کی نظرمیں یہ راجح ہے باوجودیکہ یہ ثبوت میں اس کی بنسبت اقوٰی ہے جبکہ حافظ نے اس بات کوملحوظ رکھاکہ قول اول پرجمہورکے لئے اس باب میں کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ اس قول کی طرف میلان کرنا جس میں ان کے لئے عذر کااظہار ہوزیادہ بہتراورزیادہ قوی ہے جیساکہ لفظ شھر کے لفظ عشر کے ساتھ تبدیل ہوجانے کاذکرگزرچکاہے۔(ت)
(۱؎ المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۹۔۶۴۸) (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویہ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۱۰ و۱۱۱)
مگرامام بدربن جماعہ نے قول جمہور کی یہ تاویل کی کہ اثنی عشر خلت سے بارہ دن گزرنا مرادہے نہ کہ صرف بارہ راتیں، اورپرظاہرکہ بارہ دن گزرنا تیرہویں ہی تاریخ پرصادق آئے گا اوردوشنبہ کی تیرہویں بے تکلف صحیح ہے جبکہ پہلے تینوں مہینے کامل ہوں کما علمت، اورامام بارزی وامام ابن کثیرنے یوں توجیہ فرمائی کہ مکہ معظمہ میں ہلال ذی الحجہ کی رؤیت شام چارشنبہ کوہوئی پنجشنبہ کاغرہ اورجمعہ کاعرفہ مگرمدینہ طیبہ میں رؤیت دوسرے دن ہوئی توذی الحجہ کی پہلی جمعہ کی ٹھہری اور تینوں مہینے ذی الحجہ، محرم، صفر تیس تیس کے ہوئے توغرہ ربیع الاول پنجشنبہ اوربارہویں دوشنبہ آئی
ذکرھا الحافظ فی الفتح
(اس کوحافظ نے فتح میں ذکرکیا۔ت)
اقول: مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے اگرچہ طول میں غربی اورعرض میں شمالی ہے،
اما الثانی فظاھر معروف لکل من حج وزار واما الاول فثابت مثبت کالثانی فی الزیجات والاطالس من قدیم الاعصار۔
لیکن قول ثانی ہراس شخص کے لئے ظاہراور معروف ہے جوحج وزیارت کی سعادت سے بہرہ ورہواجبکہ قول اول قول ثانی کی طرح زمانہ قدیم سے زیجات واطلس میں ثابت ومثبت ہے۔(ت)