فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
92 - 145
فصل دوم
مسئلہ ۲۲۳ : ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وفات شریف حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تاریخ کیا ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : قول مشہور ومعتمد جمہوردوازدہم ربیع الاول شریف ہے، ابن سعد نے طبقات میں بطریق عمربن علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت کی:
قال مات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من ربیع الاول۱؎۔
یعنی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات شریف روزدوشنبہ بارہویں تاریخ ربیع الاول شریف کوہوئی۔
(۱؎ الطبقات الکبرٰی ابن سعد ذکرکم مرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ دارصادربیروت ۲/ ۲۷۲)
شرح مواہب علامہ زرقانی آخرمقصد اول میں ہے:
الذی عند ابن اسحٰق والجمہور انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مات لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول۲؎۔
امام ابن اسحاق اورجمہورکے نزدیک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاوصال اقدس ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کوہوا۔(ت)
(۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۱۰)
اسی میں آغاز مقصددہم میں ہے:
قول الجمہور انہ توفی ثانی عشر ربیع الاول۳؎۔
جمہورکاقول یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے بارہ ربیع الاول کو وصال فرمایا۔(ت)
(۳؎ شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالعاشرہ دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۵۰)
خمیس فی احوال انفس نفیس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم الاثنین نصف النھار لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول سنۃ احدی عشرۃ من الھجرۃ ضحٰی فی مثل الوقت الذی دخل فیہ المدینۃ۴؎۔
نبی اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاوصال مبارک بارہ ربیع الاول شریف ۱۱ھ بروزپیردوپہرکے وقت ہوا جس وقت آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے۔(ت)
(۴؎ تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ذکروقت موتہ علیہ السلام موسسۃ شعبان بیروت ۲/ ۱۶۶)
اسی میں امام ابوحاتم رازی وامام رزین عبدری وکتاب الوفاء امام ابن جوزی سے ہے:
مرض فی صفر لعشربقین منہ وتوفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاثتنی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول یوم الاثنین۱؎۔
حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیس صفرکوبیمارہوئے اوربارہ ربیع الاول پیرکے روز آپ کاوصال ہوا۔(ت)
(۱؎ تاریخ الخمیس ابتداء مرضہ علیہ الصلوٰۃ والسلام مؤسسۃ شعبان بیروت ۲/ ۱۶۱)
کامل ابن اثیرجزری میں ہے:
کان موتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول۲؎۔
(۲؎ الکامل فی التاریخ ابن اثیر ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادربیروت ۲/ ۳۲۳)
مجمع بحارالانوارمیں ہے:
وصل بالحق فی نصف نھارہ لاثنی عشر من ربیع الاول وقیل لمستھلہ وقیل للیلتین خلتا منہ والاول اکثر من الاخیرین۳؎۔
آپ بارہ ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئے، ایک قول یکم ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئے، ایک قول دوربیع الاول کاہے مگرپہلاقول (۱۲ربیع الاول) آخری دونوں سے اکثرہے۔(ت)
(۳؎ مجمع بحارالانوار فصل فی السیر من سیرنا المختصر فی سبب قدوم الحبشہ الخ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ۵/ ۲۹۴)
اسعاف الراغبین فاضل محمدصبان میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی بیت عائشۃ یوم الاثنین قبیل الزوال للیلتین مضتا من ربیع الاول وقیل لیلۃ مضت منہ وقیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت منہ وعلیہ الجمہور۴؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حجرہ مبارکہ میں دوربیع الاول شریف بروزپیرزوال سے تھوڑی دیرپہلے وصال فرمایا۔ ایک قول میں یکم اورایک قول میں بارہ ربیع الاول ہے اورجمہوراسی قول پرہیں۔(ت)
(۴؎ اسعاف الراغبین )
اورتحقیق یہ ہے کہ حقیقۃً بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرہویں تھی مدینہ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی لہٰذا ان کے حساب سے بارہویں ٹھہری وہی رواۃ نے اپنے حساب کی بناپر روایت کی اورمشہور ومقبول جمہورہوئی، یہ حاصل تحقیق امام بارزی وامام عماد الدین بن کثیروامام بدرالدین بن جماعہ وغیرھم اکابر محدثین ومحققین ہے، اس کے سوادوقول ایک یکم ربیع الاول شریف
ذکرہ موسٰی بن عقبۃ واللیث والخوارزمی وابن زیر۱؎
(اس کوموسٰی بن عقبہ، لیث، خوارزمی اورابن زیرنے ذکرکیا۔ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول آخر البعوث النبویۃ دارالمعرفۃبیروت ۳/ ۱۱۰)
دوسرادوم ربیع الاول شریف کہ دورافضیان کذاب ابو مخنف و کلبی کاقول ہے،
ففی الزرقانی بعد عزوالاول الٰی من ذکرنا وعندابی مخنف والکلبی فی ثانیہ۲؎۔
زرقانی میں یکم ربیع الاول کی نسبت ان حضرات کی طرف کرنے کے بعد جن کاہم نے ذکرکیاہے فرمایاکہ ابومخنف اورکلبی کے نزدیک دوربیع الاول کووصال ہوا۔(ت)
(۲؎شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول آخر البعوث النبویۃ دارالمعرفۃبیروت ۳/ ۱۱۰ )
یہ دونوں اقوال محض باطل ونامعتبربلکہ سراسرمحال ونامتصورہیں،
وان میل الٰی کل نظرالی الحساب لامن حیث ان روایتھا اثبت فی الباب وانما یقضی الحساب علی القولین بالبطلان والذھاب کما ستعرف بعون الملک الوھاب، ووقع فی الکامل حکایۃ ثالث حیث قال بعد مااعتمد قول الجمھور کما نقلنا وقیل مات نصف النھار یوم الاثنین للیلتین بقیتا من ربیع الاول۳؎ اقول: وھو وھم وکانہ شبہ علیہ خلتا بقیتا فان الحفاظ انما یذکرون ھٰھنا سوی المشھور قولین لاغیر۔
ان دونوں قولوں میں سے ہرایک کامیلان نظرحساب کی طرف ہے، اس حیثیت سے نہیں کہ ان کی روایت اس باب میں اثبت ہے، جبکہ حساب تو ان کے بطلان کاتقاضاکرتاہے جیساکہ عنقریب تواس کی مدد سے جان لے گا جو بہت عطافرمانے والابادشاہ ہے۔ کامل میں ایک تیسری حکایت واقع ہوئی ہے جہاں صاحب کامل نے جمہور کامعتمدقول جیساکہ ہم نے ذکرکیاہے نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ایک قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اٹھائیس ربیع الاول بروزپیروصال فرمایا اقول: (میں کہتاہوں) یہ وہم ہے گویاکہ قائل کو خَلَتَا کے بجائے بقیتا کااشتباہ ہواکیونکہ حفّاظ نے یہاں پرقول مشہورکے علاوہ فقط دوہی قول ذکرکئے ہیں(ت)
(۳؎ الکامل فی التاریخ ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دارصادربیروت ۲/ ۳۲۳)