Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
91 - 145
علامہ قسطلانی وفاضل زرقانی فرماتے ہیں:
المشھور انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاول وھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ۳؎۔
مشہوریہ ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروزپیرکو پیداہوئے، امام المغازی محمدبن اسحاق وغیرہ کایہی قول ہے۔(ت)
 (۳؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ    المقصدالاول    ذکر تزوج عبداﷲ آمنہ     دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۳۲)
شرح مواہب میں امام ابن کثیرسے ہے:
ھو المشھور عندالجمہور۱؎۔
جمہورکے نزدیک یہی مشہورہے۔(ت)
 (۱؎ شرح الزرقانی عل المواہب اللدنیۃ    المقصدالاول     ذکرتزوّج عبداﷲ آمنہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۳۲)
اسی میں ہے:
ھو الذی علیہ العمل۲؎
 (یہی وہ ہے جس پرعمل ہے۔ت)
 (۲؎شرح الزرقانی عل المواہب اللدنیۃ    المقصدالاول     ذکرتزوّج عبداﷲ آمنہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۳۲ )
شرح الہمزیہ میں ہے:
ھوالمشہور وعلیہ العمل۳؎
 (یہی مشہورہے اوراسی پرعمل ہے۔ت) اسی طرح مدارج وغیرہ میں تصریح کی۔
 (۳؎ الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الہمزیۃ    تحت قولہ لیلۃ المولد    جمالیہ قاھرہ ص۱۰)
وان کان اکثر المحدثین والمؤرخین علی ثمان خلون وعلیہ اجمع اھل الزیجات واختارہ ابن حزم والحمیدی وروی عن ابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنھم وبالاول صدرمغلطائی واعتمدہ الذھبی فی تہذیب التہذیب تبعا للمزی وحکم المشہور بقیل وصحح الدمیاطی عشراخلت اقول:  وحاسبنا فوجد ناغرۃ المحرم الوسطیۃ عام ولادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم الخمیس فکانت غرۃ شھر الولادۃ الکریمۃ الوسطیۃ یوم الاحدوالھلالیۃ یوم الاثنین فکان یوم الاثنین الثامن من الشھر، ولذا اجمع علیہ اصحاب الزیج ومجرد ملاحظۃ الغرۃ الوسطیۃ یظھر استحالۃ سائر الاقوال ماخلاالطرفین والعلم بالحق عند مقلب الملوین۔
اگرچہ اکثرمحدثین ومورخین کانظریہ ہے کہ ولادت باسعادت آٹھ تاریخ کوہوئی، اہل زیجات کا اسی پراجماع ہے۔ ابن حزم وحمیدی کایہی مختارہے اورابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی مروی ہے۔ مغلطائی نے قول اول سے آغاز فرمایا اورامام ذہبی نے مزی کی پیروی کرتے ہوئے تہذیب التہذیب میں اسی پراعتمادکیا اورقیل کے ساتھ مشہور کاحکم لگایا اوردمیاطی نے دس تاریخ کوصحیح قراردیا۔ اقول:  (میں کہتاہوں) ہم نے حساب لگایاتو حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت اقدس والے سال محرم کاغرہ وسطیہ (آغاز) جمعرات کے روز پایا تو اس طرح ماہ ولادت کریمہ کاغرہ وسطیہ بروزاتوار اورغرہ ہلالیہ بروزپیر ہوا اس طرح پیرکے روز ماہ ولادت مبارکہ کی آٹھ تاریخ بنتی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ اہل زیجات کااس پراجماع ہے۔ محض غرّہ وسطیہ کودیکھنے سے طرفین کے علاوہ تمام اقوال کامحال ہونا ظاہرہوجاتاہے اورحق کاعلم شب وروز کوبدلنے والے کے پاس ہے۔(ت)
اور شک نہیں کہ تلقی امت بالقبول کے لئے شان عظیم ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفطر یوم یفطر الناس  والاضحٰی یوم یضحی الناس، رواہ الترمذی۱؎ عن امّ المؤمننین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بسند صحیح۔
عیدالفطر اس دن ہے جس دن لوگ عیدکریں اورعیدالاضحی اس روزہے جس روزلوگ عید سمجھیں (اس کوامام ترمذی نے صحیح سندکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاسے روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الصوم        باب ماجاء فی الفطر والاضحی متی یکون    امین کمپنی دہلی      ۱/ ۹۹)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
فطرکم یوم تفطرون واضحاکم یوم تضحون۔ رواہ ابوداؤد۲؎ والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح ورواہ الترمذی وحسنہ فزاد فی اولہ ''الصوم یوم تصومون والفطر''۳؎ الحدیث وارسلہ الشافعی فی مسندہ والبیھقی فی سننہ عن عطاء فزاد فی اٰخرہ ''وعرفۃ یوم تعرفون۴؎''
تمہاری عیدالفطر اس دن ہے جس دن تم عیدالفطرکرواورتمہاری عیدالاضحی اس دن ہے جس دن کوتم عیدالاضحی سمجھو۔ اس کوابوداؤد اوربیہقی نے سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ترمذی نے اس کو روایت کرکے حسن قراردیااور اس کے شروع میں یہ بڑھایاکہ روزہ کادن وہی ہے جس کو تم سب روزے کا دن قراردواورعیدالفطرکادن وہ ہے (حدیث کے آخرتک)۔ امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اپنی مسند میں اس کو بطور ارسال ذکرفرمایا۔ بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عطاء سے روایت کرتے ہوئے آخرمیں یہ اضافہ کیاکہ یوم عرفہ وہ ہے جس کو تم یوم عرفہ سمجھو۔(ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الصیام    باب اذا اخطأ القوم الہلال    آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۱۸)

(۳؎ جامع الترمذی    ابواب الصیام    باب ماجاء ان الفطر یوم تفطرون الخ     امین کمپنی دہلی     ۱/ ۸۸)

(۴؎ السنن الکبرٰی    کتاب الحج        باب خطأ الناس یوم عرفہ     دارصادربیروت    ۵/ ۱۷۶)
یعنی مسلمانوں کاروزعیدالفطروعیدالاضحی روزعرفہ سب اس دن ہے جس دن جمہورمسلمین خیال کریں اسے
وان لم یصادف الواقع ونظیرہ قبلۃ التحری
 (اگرچہ وہ واقع کے مطابق نہ ہواس کی نظیرقبلہ تحری ہے۔ت) لاجرم عیدمیلاد والابھی کہ عیداکبرہے قول وعمل جمہورمسلمین ہی کے مطابق بہترہے
فلاوفق العمل ماعلیہ العمل
 (بہترین ومناسب ترین عمل وہی ہے جس پرجمہورمسلمانوں کاعمل ہو۔ت) یہ ہے ان مسائل میں کلام مجمل، اورتفصیل کے لئے دوسرامحل۔
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجوع والمآب۔
مسئلہ ۲۲۲:  سادسہ شمسی تاریخ کیاتھی؟

الجواب : ولادت اقدس ہجرت مقدسہ سے تریپن ۵۳ برس پہلے ہے، مرفوع ۶۰سال ۵نداک، مرفوع ۷ سال مرکا۔ ۵لح۱ کہ ۱۸۷۸۱ یوم ہوئے یعنی اس سال کامحرم وسطے سال ہجرت کے محرم وسطے سے اتنے دن پہلے تھا، سات پرتقسیم کئے سے کچھ نہ بچا اورابتدائے سال ہجری بحساب اوسط پنجشنبہ ہے توان ایام مذکورہ کاپچھلادن چارشنبہ تھا اورجبکہ یہ پورے ہفتے ہیں تو ان کاپہلادن پنجشنبہ تھا، اور جب اس سال کامدخل پنجشنبہ ہواتو اس ربیع الاول کامدخل یکشنبہ تودوشنبہ کونویں تھی یعنی یکم وسطے وہ ہلالی سے ایک دن پہلے ہوئی اب مابین التاریخین ہماری تحقیق میں اح ح لط ہے ۵ لح ۱۔ نرھہ لح ۔ محرم وصفر نط۔ ط ربیع الاول۔ نرنامو۔ ۵۰۰۵ سال ھہ مح مط ررضر۷۰ سال رور۱ھہ مارچہ ال ک تاریخ مطلوب بستم اپریل ۵۷۱ء معرفت یوم ہماری جداول سے ۵۷۱۔۳۳۶۔۲۳۵۔۲۸باقی ۱۱پس جدول رمیں مقابل ۱۱دیکھامدخل ۵۷۱؁پنجشنبہ ہواورمدخل اپریل چارشنبہ پس بستم اپریل دوشنبہ،
وھوالمطلوب واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter