حرمت والے مہینوں یارمضان میں ولادت مبارکہ نہیں ہوئی(ت)
(۴؎ شرح ام القرٰی)
یہاں تک کہ علامہ ابن الجوزی وابن جزار نے اسی پراجماع نقل کیا۔ نسیم الریاض میں تلقیح سے ہے:
اتفقوا علٰی انہ ولد یوم الاثنین فی شھر ربیع الاول۵؎۔
اس پرعلماء متفق ہیں کہ آپ ماہ ربیع الاول میں پیرکے روز پیداہوئے۔(ت)
(۵؎ نسیم الریاض فصل ومن ذٰلک ماظہر من الآیات عندمولدہ مرکزاہل سنت برکات رضا ۳/ ۲۷۵)
اسی طرح ان کی صفوہ میں ہے،
کما للزرقانی ثم عزاہ ایضا لابن الجزار
(جیسا کہ زرقانی کاقول ہے، پھر اس کو ابن جزار کی طرف منسوب کیا۔ت) پس اس کاانکار اگرترجیحات علماء واختیار جمہور کی ناواقفی سے ہوتو جہل ورنہ مرکب کہ اس سے بدتر، فقیرکہتاہے مگراس تقدیرپراستقرار حمل ماہ ذی الحجہ میں صریح اشکال کہ دربارہ حمل چھ مہینے سے کمی عادۃً محال، اورخود اوپرگزراکہ مدت حمل شریف نہ ماہ ہونااصح الاقوال ، تویہ تینوں تصحیحیں کیونکر مطابق ہوں
لکنی اقول: وباﷲ التوفیق
(لیکن میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) مہینے زمانہ جاہلیت میں معین نہ تھے اہل عرب ہمیشہ شہرحرم کی تقدیم تاخیر کرلیتے جس کے سبب ذی الحجہ ہرماہ میں دورہ کرجاتا،
قال اﷲ تعالٰی انما النسیئ زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطؤا عدۃ ماحرم اﷲ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا ان کامہینے پیچھے ہٹنانہیں مگراورکفرمیں بڑھنا، اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں۔ ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابرہوجائیں جواﷲ تعالٰی نے حرام فرمائی(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۳۷)
یہاں تک کہ صدیق اکبرومولٰی علی کرم اﷲ وجھہما نے جوہجرت سے نویں سال حج کیا وہ مہینا واقع (عہ) میں ذیقعدہ تھا سال دہم میں ذی الحجہ اپنے ٹھکانے سے آیاسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حج فرمایا اورارشاد کیا:
ان الزمان قد استدارکھیأتہ یوم خلق اﷲ السمٰوٰت والارض الحدیث۔ رواہ الشیخان۲؎۔
یعنی زمانہ دورہ کرکے اسی حالت پرآگیا جس پر روزتخلیق زمین وآسمان تھا اس حدیث کو امام بخاری وامام مسلم نے روایت فرمایاہے۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ برأۃ باب قولہ ان عدۃ الشہور الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۲)
(صحیح مسلم کتاب القسامۃ باب تغلیظ تحریم الدماء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰)
عہ: اس پراعتراض ہے کہ بروز عرفہ صدیق ومرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اعلان احکام الٰہیہ فرمایا جسے رب عزوجل نے
واذان من اﷲ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر انّ اﷲ بریئ من المشرکین ورسولہ۳؎
(اورمنادی پکاردیتاہے اﷲ اوراس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اﷲ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ت) فرمایا اگروہ ذی الحجہ نہ ہوتاایسانہ فرماتا۔
اقول: وفیہ نظر بوجوہ فتامل منہ غفرلہ
(میں کہتاہوں اس میں کئی وجوہ سے نظرہے پس غورکرو۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۳)
اس دن سے نسی نسیاً منسیا ہوا اوریہی دورہ دوازدہ ماہہ قیامت تک رہا توکچھ بعیدنہیں کہ اس ذی الحجہ سے ربیع الاول تک نومہینے ہوں شاید شیخ محقق اسی نکتہ کی طرف مشیرہیں کہ زمانہ استقرار مبارک کوایام حج سے تعبیر کیا نہ کہ ذی الحجہ سے، اگر چہ اس وقت کے عرف میں اسے ذی الحجہ بھی کہناممکن تھا۔ اقول: اب مسئلہ ثالثہ وخامسہ کی تصحیحوں پرمسئلہ اولٰی کاجواب ۱۲جمادی الآخرہ ہوگا مگرجاہلیت کادورنسیئی اگرمنتظم ماناجائے یعنی علی التوالی ایک ایک مہیناہٹاتے ہوں توسال استقرارحمل اقدس ذی الحجہ شعبان میں پڑتا ہے نہ کہ جمادی الآخرہ میں کہ ذی الحجہ حجۃ الوداع شریف جب عمراقدس حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تریسٹھواں سال تھا ذی الحجہ میں آیا تو۱۲،۱۲کے اسقاط سے جب عمراقدس سے تیسراسال تھا ذی الحجہ میں ہوا اوردوسراسال ذی القعدہ اورپہلاسال شوال، ولادت شریفہ رمضان ااورسال استقرارحمل مبارک شعبان میں لیکن ان نامنتظموں کی کوئی بات منظم نہ تھی جب جیسی چاہتے کرلیتے، لٹیرے لوگ جب لوٹ مارچاہتے اورمہینا ان کے حسابوں اشہرحرم سے ہوتا، اپنے سردارکے پاس آتے اورکہتے اس سال یہ مہینا حلال کردے، وہ حلال کردیتا، اوردوسرے سال گنتی پوری کرنے کوحرام ٹھہرادیتا
کمارواہ ابناء جریر والمنذر ومردویہ۱؎ وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما
(جیساکہ اس کوجریر، منذر، مردویہ اورابوحاتم کے بیٹوں نے سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) تو اس سال جمادی الآخرہ میں ذی الحجہ ہوناکچھ بعیدنہیں۔واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎ الدرالمنثور تحت الآیۃ ۹/ ۳۷ ۴/ ۱۷۳ )
فائدہ: سائل نے یہاں تاریخ سے سوال نہ کیا اس میں اقوال بہت مختلف ہیں، دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات قول ہیں مگراشہرواکثروماخوز ومعتبربارہویں ہے۔ مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولداقدس کی زیارت کرتے ہیں
کما فی المواھب ۲؎ والمدارج
(جیسا کہ مواہب لدنیہ اورمدارج النبوۃ میں ہے۔ت) اورخاص اس مکان جنت نشان میں اسی تاریخ مجلس میلاد مقدس ہوتی ہے۔