Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
89 - 145
رسالہ

نطق الہلال بارخ ولادالحبیب والوصال

(حبیب خداصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تاریخ ولادت ووصال پرہلال کی گواہی)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ  ونصلی علٰی رسولہ الکریم
فصل اوّل
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

مسئلہ ۲۱۷ :  اولٰی استقرار نطفہ زکیہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کس ماہ وتاریخ میں ہوا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب: بعض غرہ رجب کہتے ہیں
رواہ الخطیب عن سیّدنا سھل التستری قدس سرہ
 (اس کو خطیب نے سیدنا سہل تستری قدس سرہ سے روایت کیا۔ت) اوربعض دہم محرم،
اخرج ابونعیم وابن عساکر عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدۃ قال حمل برسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی عاشوراء المحرم وولد یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من رمضان۱؎ اقول:  فیہ مسیب بن شریک ضعیف جدا۔
اس کوابونعیم اورابن عساکر نے عمروبن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کااستقرار حمل دس محرم ہوا اورولادت باسعادت بروز پیردس رمضان المبارک کو ہوئی۔ میں کہتاہوں اس میں مسیب بن شریک ہے جوانتہائی ضعیف ہے۔(ت)
 (۱؎ تاریخ دمشق الکبیر    باب ذکرمولدالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹)
اورصحیح یہ ہے کہ ماہ (عہ) حج کی بارہویں تاریخ
ھکذا صححہ فی المدارج کماسیأتی
 (مدارج میں اسی کی تصحیح فرمائی ہے جیساکہ عنقریب آئے گا۔ت)
عہ: اس کی تحقیق مسئلہ پنجم میں آتی ہے۔۱۲منہ
اقول:  (میں کہتاہوں۔ت) اس کی مؤیدہے حدیث ابن سعدوابن عساکرکہ زن خثعمیہ نے حضرت عبداﷲ کو اپنی طرف بلایا، رمی جمارکا عذرفرمایا، بعد رمی حضرت آمنہ سے مقاربت کی، اورحمل اقدس مستقرہوا، پھر خثعمیہ نے دیکھ کرکہاکیا ہمبستری کی؟ فرمایا ہاں، کہاکہ وہ نورکہ میں نے آپ کی پیشانی سے آسمان تک بلنددیکھاتھا نہ رہا آمنہ کومژدہ دیجئے کہ ان کے حمل میں افضل اہل زمین ہے۔
قال ابن سعد انا وھب بن جریر ابن حازم ثنا ابی سمعت ابایزید المدینی قال نبئت ان عبداﷲ ابارسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم اتی امرأۃ من خثعم فرأت النور بین عینیہ نوراساطعا الی السماء فقالت ھل لک فیّ قال نعم حتّی ارمی الجمرۃ۲؎ الحدیث۔
ابن سعد نے کہا ہمیں وہب بن جریر بن حازم نے خبردی، انہوں نے کہا مجھے میرے باپ نے بتایا کہ میں نے ابویزید مدینی کوکہتے ہوئے سنامجھے خبردی گئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے والد ماجد سیدنا حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قبیلہ بنی خثعم کی ایک عورت کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نورآسمان تک بلند دیکھا اورکہاکہ کیا آپ کومجھ میں کوئی رغبت ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہاں تک کہ میں جمرات کو رمی کرلوں،حدیث۔(ت)  ظاہرہے کہ رمی جمارنہیں ہوتی مگر حج میں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎تاریخ دمشق الکبیر    باب ذکرطہارۃ مولدہ وطیب اصلہ الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۲۲۸)
مسئلہ ۲۱۸ : ثانیہ دن کیاتھا؟

الجواب: کہاگیا
روزدوشنبہ ذکرہ الزبیر بن بکار وبہ جزم فی مجمع البحار۱؎
 (اس کو زبیرنے ذکرکیااور مجمع البحارمیں اسی پرجزم فرمایا۔ت) اوراصح یہ ہے کہ شب جمعہ تھی، اسی لئے امام احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل کہتے ہیں کہ یہ خیروبرکت وکرامت وسعادت جو اس میں اُتری اس کے ہمسرنہ کبھی اُتری نہ قیامت تک اُترے، وہاں
تنزل الملٰئِکۃ والروح فیھا۲؎
 (اس میں فرشتے اورروح الامین اترتے ہیں۔ت) یہاں مولائے ملائکہ وآقائے روح کانزول اجلال عظیم الفتوح ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (۱؎ مجمع بحارالانوار    بیان نسبہ صلی اﷲ علیہ وسلم     مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ    ۵/ ۲۶۵)

(۲؎ القرآن الکریم    ۹۷/ ۴)
مدارج النبوۃ میں ہے:
استقرار نطفہ زکیّہ درایّام حج برقول اصح دراوسط ایام تشریق شب جمعہ بود، وازیں جہت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ لیلۃ الجمعہ رافاضل تر ازلیلۃ القدر داشتہ ۳؎ الخ۔
اصح قول کے مطابق نطفہ مطہرہ کااستقرارحج کے دنوں میں ایام تشریق کے درمیان جمعہ کی رات کوہوا۔ اسی وجہ سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل سمجھتے ہیں الخ(ت)
 (۳؎ مدارج النبوۃ    باب اول نورمصطفی     استقرار نطفہ زکیہ الخ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھرملتان    ۲/ ۱۳)
مسئلہ ۲۱۹ : ثالثہ مدت حمل شریف کس قدرتھی؟

الجواب:  دہ ونہ ہفت وشش ماہ سب کچھ کہاگیا اورصحیح نومہینے ہیں،
فی شرح الزرقانی للمواھب اختلف فی مدۃ الحمل بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیل تسعۃ اشھر کاملۃ وبہ صدر مغلطائی قال فی الغرر وھو الصحیح ۴؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔
مواہب کی شرح زرقانی میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مدت حمل میں اختلاف ہے، چنانچہ کہاگیاکہ پورے نوماہ ہے۔ مغلطائی نے اسی قول کومقدم کیا۔ غررمیں فرمایا کہ یہی صحیح ہے الخ، اﷲ تعالٰی درست بات کوخوب جانتاہے اوراسی کی طرف لوٹناہے۔(ت)
(۴؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ        المقصدالاول    ذکرتزوج عبداﷲ وآمنہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۳۶)
مسئلہ ۲۲۰:  رابعہ ولادت شریف کادن کیاہے؟
الجواب: بالاتفاق دوشنبہ صرح بہ العلامۃ ابن حجر فی افضل القری
 (علامہ ابن حجرنے افضل القرٰی میں اس کی تصریح فرمائی۔ت) سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پیرکے دن کو فرماتے ہیں:
ذٰلک یوم ولدت فیہ، رواہ مسلم۱؎ عن ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
میں اسی دن پیداہواہوں(اس کوامام مسلم نے ابوقتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الصیام    باب استحباب صیام ثلاثہ الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۶۸)
Flag Counter