Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
88 - 145
مسئلہ ۲۱۳ :    ۱۷/رجب ۱۳۳۲ھ

حائکہ کاپیشہ کون سے اولیاء وعلماء نے کیاہے؟ مع حدیث حوالہ کتاب سے تحریرفرمائیے گا۔

الجواب : بعض اولیاء وعلماء نے جس طرح بضرورت جوتاسینے کاپیشہ کیاہے جیسے امام خصاف۔ یوں ہی بعض نے بضرورت کپڑابھی بناہے جیسے ابوالخیر نسّاج وعلامہ اسماعیل حائک مفتی دمشق وشام رحمہم اﷲ تعالٰی، مگر اس سے یہ سمجھنا کہ وہ قوم کے جلاہے تھے جہالت ہے
ویظھر الفرق بمطالعۃ رسالتنا ارائۃ الادب لفاضل النسب (ف)
 (اور ہمارے رسالے ''ارائۃ الادب لفاضل النسب کے مطالعہ سے فرق ظاہرہوجاتاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
ف: رسالہ ''ارائۃ الادب لفاضل النسب''
فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور، کی تئیسویں جلدکے صفحہ ۲۰۱ پرموجودہے۔
مسئلہ ۲۱۴: ازضلع سیالکوٹ تحصیل ڈسکہ ڈاکخانہ دبانوں مسئولہ محمدقاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دبانوں روزدوشنبہ ۱۹/صفرالمظفر۱۳۳۴ھ

نسب نامہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کاصحیح تحریرفرماکرممنون فرمائیں۔

الجواب: سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اولادسلاطین کیان سے ہیں اوران کامرتبہ اس سے اجل واعظم ہے کہ نسب سے انہیں فخرہو۔ ان کایہ شرف نہیں کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی اولاد ہیں، ان کایہ فضل ہے کہ وہ ہزارہا دینی بادشاہوں کے باپ ہیں۔ سیدناامام شافعی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
الفقہاء کلھم علی عیال ابی حنیفۃ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تمام مجتہدین امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے بال بچوں کی طرح ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ الخیرات الحسان     الفصل الثالث عشرفی ثناء الائمۃ علیہ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۷۴)

(تاریخ بغداد        ترجمہ ۷۲۹۷    نعمان بن ثا بت     دارالکتاب العربی بیروت ۱۳/ ۳۴۶)
مسئلہ ۲۱۵: مسئولہ حاجی کریم نورمحمد جنرل مرچنٹ اتواری چوک ناگپور بروزپنجشنبہ بتاریخ ۹صفرالمظفر۱۳۳۴ھ

شہادت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نہرفرات پرہوئی یانہیں؟ علمائے حنفیہ کااس پراتفاق ہے یانہیں؟

الجواب: امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت ضرور برحق ہے، نہ فقط حنفیہ بلکہ جملہ اہلسنت کااس پراجماع ہے، اس کامنکر مبتدع گمراہ ہے۔
مسئلہ ۲۱۶:  ازعلی گڑھ مرسلہ مولانا سیدسلیمان اشرف بہاری    ۲۵صفر۱۳۳۸ھ

مولانا المعظم وبرادر محترم مولانا مصطفی رضاخاں صاحب ارفع اﷲ شانہم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،،کالج کاایک کام آگیا ہے جس میں ضرورت ہے چنداسماء ان علمائے کرام کے لکھے جانے کی، جو سندھ کے تھے یاسندھ میں آئے کم ازکم پانچ نام ہوناچاہئے۔ انساب سمعانی میں بعض اسماء ملے لیکن صرف نام، اس کی خبرنہ ملی کہ انہوں نے کیاخدمت انجام دی۔ طبقات حنفیہ کی فہرست میں کوئی نام نہ ملا۔ آنجناب براہ کرم اعلٰی حضرت سے استفسارفرمائیں۔ متقدمین یامتاخرین علماء اہلسنت، محدثین میں ہوں یافقہاء میں۔ اگراس قدرفرصت نہ ہو تو صرف ان کتابوں کے نام لکھ بھیجئے جن میں تلاش کروں۔ آپ کی خدمت میں نیازنامہ اس لئے لکھا کہ آپ کواعلٰیحضرت کی حضوری حاصل ہے۔ فقیرکا سلام وقدمبوسی فرمادیجئے۔ مستحق دعاہوں اوربڑا محتاج ہوں۔
الجواب: 

(۱) مولانا رحمت اﷲ سندھی تلمیذ امام ابن ہمام مصنف منسک کبیر، منسک صغیرومنسک متوسط معروف بہ لباب المناسک جس کی شرح ملا علی قاری نے کی ہے المسلک المتقسط فی شرح المنسک المتوسط۔
 (۲) مولانا محمدعابدسندھی مدنی محدث صاحب ''حصرالشارد''۔

(۳) مولانا محمدحیات سندھی شارح کتاب الترغیب والترھیب۔

(۴) مولانا محمدہاشم سندھی، یہ بھی فقہ میں صاحب تصنیف ہیں۔

(۵) علامہ محمدابن الہادی سندھی محشی فتح القدیر وصحاح ستہ ومسندامام احمد، استاذعلامہ محمدحیات سندھی متوفی ۱۱۳۸ھ

(۶) شیخ نظام الدین سندھی نزیل دمشق تلمیذجلیل ومحبوب حضرت قدوۃ العارفین سیدصبغۃ اﷲ بروحی

(۷) علامہ سندھی مصنف غایۃ التحقیق جن سے سیدعلامہ طحطاوی مصری نے حاشیہ درمختار باب الامامۃ میں استنادکیا۔

(۸) شیخ محمدحسین انصاری سندھی عم شیخ عابدسندھی محدثین ورجال اسانید حصرالشارد سے ہیں۔ اس وقت یہی نام خیال میں آئے۔
Flag Counter