Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
87 - 145
مسئلہ ۲۱۰ : ازملک بنگال ضلع فریدپور موضع ٹپوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب 

اعراب قرآنی کی ایجاد کس سنہ میں ہوئی اور اس کابانی کون ہے؟ یہ بدعت حسنہ ہے یاسیئہ؟ اگربدعت حسنہ ہے تو
''کل بدعۃ ضلالۃ''
 (ہربدعت گمراہی ہے۔ت) کے کیا معنی؟بیّنواتوجروا۔
الجواب: زمن عبدالمالک بن مروان میں اس کی درخواست سے مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے شاگردرشید حضرت ابوالاسود دُئلی نے یہ کارنیک کیا، بدعت حسنہ تھا، اورتمام ممالک عجم میں یقینا واجب کہ عام لوگ بے اس کے اس کی صحیح تلاوت نہیں کرسکتے۔ بدعت ضلالت وہ ہے کہ رَدّ ومزاحمت سنت کرے، اوریہ تومؤید ومعین سنت، بلکہ ذریعہ ادائے فرض ہے،
فان اللحن حرام بلاخلاف کما فی العٰلمگیریۃ۱؎ فترکہ فرض وھذا سبیلہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ لحن بلاخلاف حرام ہے جیساکہ عالمگیری میں ہے۔ لہٰذا اس کاچھوڑنا فرض ہے اوریہ اس سے بچنے کاراستہ ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ    الباب الرابع        نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۱۷)
مسئلہ ۲۱۱: ازبھوپال مکان منشی سیدسعیداحمدصاحب متصل نورمحل مرسلہ سیداحمدعلی 

مکرم ومعظم بعدآداب نیازکے گزارش ہے کہ اگربرائے مہربانی ان واقعات کے جن کی بناء پر حضرت منصور کے بارے میں فتوٰی دیاگیاتھا، مطلع فرمائیں توبہت ممنون ہوں۔ اگرفتوٰی میں کسی آیت شریف کاحوالہ دیاگیاہو تواس کوبھی لکھ دیجئے گا۔ اس تکلیف دہی کومعاف فرمائیے گا۔ ایک معاملہ میں اس کی بہت ضرورت ہے۔
الجواب : حضرت سیدی حسین بن منصورحلاج قدس سرہ جن کوعوام منصورکہتے ہیں، منصور ان کے والد کانام تھا، اوران کااسم گرامی حسین (عہ) ،اکابر اہل حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدرجہا مرتبہ ولایت ومعرفت میں زائدتھیں، وہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادالٰہی میں مصروف ہوتیں۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی بہن کونہ پایا، گھرمیں ہرجگہ تلاش کیا، پتانہ چلا، ان کووسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے، وہ اپنے وقت پراُٹھ کرچلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہولئے، دیکھتے رہے آسمان سے سونے کی زنجیر یاقوت کاجام اُترا اوران کے دہن مبارک کے برابرآلگا، انہوں نے پیناشروع کیا، ان سے صبرنہ ہوسکاکہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے بے اختیارکہہ اُٹھے کہ بہن تمہیں اﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدو، انہوں نے ایک جرعہ چھوڑدیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔ انہوں نے کہناشروع کیا ''اَنا لَاَحَق'' بیشک میں سب سے زیادہ اس کازیادہ سزاوارہوں۔ لوگوں کے سننے میں آیا ''انا الحق'' (میں حق ہوں۔ت)، وہ دعوی خدائی سمجھے، اور یہ کفرہے۔ اور مسلمان ہوکر جوکفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بدل دینہ فاقتلوہ، رواہ احمد۱؎ والستۃ الامسلما عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔ اس حدیث کواصحاب ستہ میں سے مسلم کے علاوہ سب نے اورامام احمدنے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
عہ:  فی الاصل منصور
 (۱؎ جامع الترمذی     ۱/ ۱۷۶ وسنن ابی داؤد     ۲/ ۲۴۲    وسنن ابن ماجہ باب المرتدعن دینہ ص۱۸۵)

(مسنداحمد بن حنبل    عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ         المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۲۱۷ و ۲۸۲ و ۲۸۳)

(صحیح البخاری         کتاب المغازی    باب لایعذب بعذاب اﷲ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴۲۳)
مسئلہ ۲۱۲: ازبریلی بازار لال کرتی مرسلہ حاجی غلام نبی صاحب ساکن پاکپتن شریف معرفت حاجی ابوالحسن صاحب ۲۸رجب ۱۳۳۰ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم،
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت خواجہ خضر علیہ السلام اورحضرت الیاس علیہ السلام کاآپس میں کیارشتہ ہے اور ان دونوں کو اﷲتعالٰی نے کس کس کام پرمختارکیاہے اورکیاکیا مرتبہ دیاہے؟ فقط
الجواب : سیدنا الیاس علیہ السلام نبی مرسل ہیں،
قال اﷲ تعالٰی انّ الیاس لمن المرسلین۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:بے شک الیاس (علیہ السلام) مرسلین میں سے ہیں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۷/ ۱۲۳)
اورسیدنا خضرعلیہ السلام بھی جمہورکے نزدیک نبی ہیں اوران کوخاص طورسے علم غیب عطاہواہے،
قال اﷲ تعالٰی وعلمناہ من لدنا علما۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اورہم نے اسے اپنا علم لدنی عطافرمایا۔(ت)
 (۲؎القرآن الکریم    ۱۸/ ۶۵)
یہ دونوں حضرات ان چارانبیاء میں ہیں جن کی وفات ابھی واقع ہی نہیں ہوئی، دوآسمان پرزندہ اٹھالئے گئے، سیدنا ادریس وسیدنا عیسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام۔ اوریہ دونوں زمین پرتشریف فرماہیں دریاسیدنا خضرعلیہ السلام کے متعلق ہے اور خشکی سیدنا الیاس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے۔ دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیں، بعدحج آب زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کوکفایت کرتاہے۔ دونوں صاحب اورتمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام آپس میں بھائی ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء بنوعلات۱؎۔
سارے نبی آپس میں بھائی ہیں۔(ت)اس کے سوا ان دونوں صاحبوں کااورکوئی رشتہ معلوم نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ مسنداحمد بن حنبل    عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۳۱۹،۴۳۷،۴۶۳، ۵۴۱)

(صحیح البخاری        کتاب الانبیاء    باب قول اﷲ تعالٰی واذکر فی الکتاب مریم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴۸۹)

(صحیح مسلم         کتاب الفضائل    باب فضائل عیسٰی علیہ السلام      قدیمی کتب خانہ کراچی       ۲/ ۲۶۴ و۲۶۵)
Flag Counter