Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
86 - 145
کتاب الشّتّی (حصہ اول)

(متفرق موضوعات)

تاریخ وتذکرہ وحکایات صالحین
مسئلہ ۲۰۵: ازتوپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبہ دار مدرسہ فیض احمدی کانپور بروزچہارشنبہ بتاریخ ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ مولوی عبیداﷲ صاحب 

یہ مسئلہ کس کتاب میں ہے کہ حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے سورہ بقرکے ختم فرمانے کے شکریہ میں دعوت فرمائی؟ اورنسیم الریاض کے کس جلد کے کس صفحہ میں ہے کہ جوشخص مخلوق میں سے کسی کے علم کو حضرت سیدالسادات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی آلہٖ واصحابہ وبارک وسلم کے علم سے اشرف واوسع کہے گا؟
الجواب : وہ عبارت نسیم الریاض کی جلد رابع ص۳۷۷ طابع قسطنطنیہ میں ہے:
من قال فلان اعلم منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقد عابہ ونقصہ (الٰی قولہ) فھو ساب ای کالساب والحکم فیہ حکم الساب من غیر فرق بینھما۱؎۔
جس شخص نے کہا فلاں شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ علم والاہے اس نے آپ کو عیب لگایا اورتنقیص کی(مصنف کے اس قول تک) چنانچہ وہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالی دینے والا ہے یعنی گالی دینے والے کی مثل ہے اس کاحکم گالی دینے والے کی طرح ہے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ نسیم ا لریاض     القسم الرابع        الباب الاول         مرکزاہلسنت برکات رضا    ۴/ ۳۳۵)
خطیب نے رواۃ مالک میں عبداﷲ بن عمرفاروق علیہما الرضوان سے روایت کی:
قال تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمھا نحر جزورا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کہاکہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بارہ سال میں سورۃ بقرہ سیکھی، جب مکمل کرلی تو (شکرانے کے طورپر) اونٹ ذبح فرمایا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ الجامع لاحکام القرآن للقرطبی     بحوالہ مالک     باب کیفیۃ التعلم والفقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۰)
مسئلہ ۲۰۶،۲۰۷:  ازبمبئی مرسلہ مولوی محمدعثمان صاحب بوساطت ضیاء الاسلام پیلی بھیت ۱۸/رجب ۱۳۲۴ھ

(۱) شیطان کے انڈادینے کاثبوت۔

(۲) نمازخمسہ معراج میں نہیں فرض ہوئیں۔
الجواب :

(۱) مفسرین نے ذریت شیطان میں چنداقوال لکھے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ انڈے دیتاہے اس سے اس کی نسل پھیلتی ہے۔
 (۲) یہ محض غلط ہے،
صحیحین ۳؎ وغیرہما
کی احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ شب معراج ہی میں پانچوں نمازیں فرض ہوئیں۔
 (۳؎ صحیح البخاری     باب کیف فرضت الصلوٰۃ فی الاسراء ۱/۵۱  و صحیح مسلم باب الاسراء برسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ۱/ ۹۱)
مسئلہ ۲۰۸:  ازشہرکہنہ مرسلہ منشی قاضی عبدالحق صاحب    ۳۰/ربیع الآخر۱۳۲۷ھ

بشرف ملاحظہ خدامان بارگاہ شریعت پناہ، صاحب حجۃ قاہرہ، مجددمائۃ حاضرہ، حامی ملت، حضرت عالم اہلسنت مدظلہم الاقدس السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کمترین عقیدت گزیں عبدالحق عرض پرداز ہے کہ اگر خادمان عالی کاحرج اوقات نہ ہوتو تفصیل اس امر کی فرمادی جائے کہ ہاروت وماروت جوچاہ بابل میں قیدہیں فرشتے ہیں یاجن یاانسان؟ اگران کو فرشتہ ماناجائے توعصمت فرشتوں کی کس دلیل سے ثابت کی جائے؟ اوراگرجن وانس کہاجائے تودرازی عمر کے واسطے کیاحجت پیش کی جائے؟ اورجلال الدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے جوتاریخ الخلفاء میں لکھاہے کہ آسمان میں ایک دروازہ پیداہوا اورایک فرشتہ طوق وزنجیر پہنے ہوئے وسط میں حاضرہوا، اورمنادی نے نداکی کہ اس فرشتہ نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کی یہ سزا ملی، کہاں تک صحیح ہے؟ چونکہ قدیم سے میرے تمام اسقام کاچارہ اسی آستانے سے ہوتارہاہے اس واسطے اس سمع خراشی کی جرأت پڑگئی۔والسلام
الجواب : جناب من! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔ قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکارشدید ہے، جس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:
ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم۱؎۔
یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔ ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔ سیدناخضروسیدناالیاس وسیدناعیسٰی صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔
 (۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ     المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ     ۲/ ۱۷۰)
اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ :
انما نحن فتنۃ فلاتکفر۲؎۔
ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۰۲)
اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔
بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف۳؎۔
اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے(ت)
 (۳؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی    فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ    المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۱۷۱)
اوریہ روایت کہ تاریخ الخلفاء کی طرف نسبت کی قطعا باطل اوربے اصل محض ہے، نہ اس وقت تاریخ الخلفاء میں اس کاہونا یادِ فقیرمیں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔،
مسئلہ ۲۰۹: مسئولہ ازمولوی نوراحمدکانپوری ملازم کارخانہ میل کاٹ واقع ریواں ۹محرم الحرام ۱۳۳۸ھ

ماقولکم یاعلماء الملۃ السمحۃ البیضاء ومفاتی الشریعۃ الغراء فی ھذہ
(اے ملت مقدسہ نورانیہ کے علماء کرام اورروشن شریعت کے مفتیان عظام آپ کاکیاارشاد ہے اس بارے میں کہ۔ت) مولوی غلام امام شہیدنے ص ۵۹ سطر۱۱ میں لکھاہے کہ شب معراج میں حضرت غوث الاعظم شیخ محی الدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی روح پاک نے حاضر ہوکرگردن نیازصاحب لولاک کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اورخواجہ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم گردن غوث اعظم پرقدم مبارک رکھ کربراق پرسوارہوئے اوراس روح پاک سے استفسارفرمایا کہ توکون ہے؟ عرض کیاکہ میں آپ کے فرزندوں اورذریات طیبات سے ہوں اگرآج نعمت سے کچھ منزلت بخشے گا توآپ کے دین کوزندہ کروں گا۔ فرمایاکہ تومحی الدین ہے اورجس طرح آج میراقدم تیری گردن پرہے اسی طرح کل تیراقدم تمام اولیاء کی گردن پرہوگا۔ اوراس روایت کی دلیل یہ لکھی ہے کہ صاحب منازل اثناء عشریہ بھی تحفہ قادریہ سے لکھتے ہیں۔ اسی کتاب کے ص۸ سطر۵ میں مرقوم ہے کہ خواجہ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خوش ہوکرسوارہونے لگے براق نے شوخی شروع کی۔ جبرائیل  امین علیہ السلام نے کہایہ کیابے حرمتی ہے تونہیں جانتاکہ تیراراکب کون ہے، خلاصہ ہیجدہ ہزارعالم محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ براق نے کہا اے امین وحی الٰہی! تم اس وقت خفگی مت کرو مجھے رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں ایک التماس کرنی ہے۔ فرمایابیان کرو۔ عرض کیا آج میں دولت زیارت سے مشرف ہوں، کل قیامت کے دن مجھ سے بہتربراق آپ کی سواری کے واسطے آئیں گے امیدوارہوں کہ حضور سوائے میرے اورکسی براق کوپسندنہ فرمائیں۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے التجا اس کی قبول فرمائی۔ صاحب تحفۃ القادریہ لکھتے ہیں کہ وہ براق خوشی سے پھولانہ سمایا اوراتنابڑھا اوراونچا ہواکہ صاحب معراج کاہاتھ زین اور پاؤں رکاب تک نہ پہنچا۔
میرااستفساراس امرکا ہے کہ آیایہ روایت صحاح ستہ وغیرہ کتب احادیث میں وشفائے قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ فن سِیَرمیں موجودہے یانہ؟
بیّنواتوجروا ببیان کاف وشاف بالاسانید من المعتبرات المعتمدات بالبسط والتفصیل جزاکم اﷲ خیرالجزأ
 (قابل اعتبارواعتماد اسانیدکے ساتھ مکمل وضاحت وتفصیل کی روشنی میں تسلی بخش طورپربیان فرمائیں اجرپاؤگے۔ اﷲ تعالٰی تمہیں بہترین صلہ عطافرمائے۔ت)
الجواب: کتب احادیث وسیر میں اس روایت کانشان نہیں۔ رسالہ غلام امام شہید محض نامعتبر بلکہ صریح اباطیل وموضوعات پرمشتمل ہے۔ منازل اثناعشریہ کوئی کتاب فقیرکی نظرسے نہ گزری، نہ کہیں اس کاتذکرہ دیکھا۔ تحفہ قادریہ شریف اعلٰی درجہ کی مستندکتاب ہے، میں اس کا مطالعہ بالاستیعاب سے بارہا مشرف ہوا، جونسخہ میرے پاس ہے یاجومیری نظرسے گزرا اس میں یہ روایت اصلاً نہیں۔ باایں ہمہ اس زمانے کے بعض مفتیان جہول یعنی دیوبندیان نامعقول اورمخطیان غفول نے جو اس کابطلان اس طرح ثابت کرناچاہا ہے کہ سدرۃ المنتہٰی سے بالاعروج کیسااور اس میں معاذاﷲ حضوراقدس وانورسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرحضور پرنورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بوئے تفضیل نکلتی ہے، یہ محض تعصب وجہالت ہے جس کارَد فقیرنے ایک مفصل فتوٰی میں سترہ سال ہوئے کہ کیا، جبکہ ۱۶رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ کوکھٹورضلع سورت سے اس کاسوال آیاتھا، ہاں فاضل عبدالقادر قادری ابن شیخ محی اہلی نے کتاب تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں یہ روایت لکھی ہے اور اسے جامع شریعت وحقیقت شیخ رشیدابن محمدجنیدی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی کتاب ''حرزالعاشقین'' سے نقل کیا، اورایسے امورکواتنی ہی سندبس ہے۔ اس کابیان فقیرکے دوسرے فتوٰی میں ہے جس کاسوال ۱۷ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ کواوجین سے آیاتھا وباﷲ التوفیق(اورتوفیق اﷲ تعالٰی سے حاصل ہوتی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter