Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
85 - 145
درمختاروتصحیح علامہ قاسم میں ہے:
اما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم۱؎، واﷲ سبحانہ تعالٰی اعلم۔
ہم پران کی ترجیح وتصحیح کی اتباع ضروری ہے جیساکہ وہ اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار    رسم المفتی     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۵)
مسئلہ ثانیہ: جبکہ یہاں اختلاف جہت کے وقت مذہب صحیح ومفتٰی بہ میں ولدیت وارث معتبرہے، آیا قوت قرابت معتبرہوگی یانہیں؟ علامہ شامی نے نفی کومفاد اطلاق روایت بتایا اورخود اثبات کااستظہارکیاکہ قوت قرابت ولدیت وارث سے اقوٰی ہے جب یہ معتبرتو اس کااعتباربدرجہ اولٰی ہے۔ عبارت عقودسائل فاضل کے پیش نظرہے فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے نسخہ عقودپریہاں یہ حاشیہ لکھاتھا:
قولہ رحمہ اﷲ تعالٰی یلزم ان یرجح بقوہ القرابۃ ایضا لانھا اقوی اقول: قد اجمعوا فی الروایات الظاھرۃ ان لانظربقوۃ القرابۃ مع اختلاف الحیزفلاتقدم العمۃ الشقیقۃ علی الخالۃ لام ولاالخالۃ العینیۃ عل العمۃ الام۔ وکون قوۃ القرابۃ اقوی من ولدیۃ الوارث فی حیز واحد لایوجب اعتبارھا مع اختلاف الحیز وھی ساقطۃ الاعتبار فیہ فجریان الاضعف فی محل لکونہ محل جریانہ لایستلزم جریان الاقوی فیہ مع انعدام المحلیۃ لہ، والحق ان لامعنی لقوۃ القرابۃ فی حیزالاکون قریب ذاجھتین کالعینی او ذاجھۃ اقوی کالعلاتی مع الاخیافی وظاھر ان اجتماع الجھتین فی حیزلایلغی الحیز الآخر واذاکان نفس احد الحیزین اعنی الاب اقوی من الآخر اعنی الام ثم لم تورث قوتہ الغاء الحیز الآخر فکیف تورث قوۃ جھتہ الغاء الاٰخر وتعلیل قوۃ القرابۃ انما ھو فی الحیزالواحد لاتقدیم ذی حیز علی ذی حیز آخر لقوۃ القرابۃ فی حیزہ  والایقدم الحیزالابوی مطلقا علی الامی وایضا لونظرالٰی قوۃ القرابۃ لعاد نقضا علی المقصود فان الاقوی غیرمعتبر مع اختلاف الحیز باجماع الروایات الظاھرۃ فکیف تعتبرون فیہ الاضعف ویؤول الامر الی الغاء کلا الترجیحین وھو خلاف ماقررتم انہ صحیح مفتی بہ وانما الجواب ماقدمت ان الاقوی لم یعتبر لعدم المحل فلایلغی الآخر مع حصول المحلیۃ وذٰلک لان ولدیۃ العصبۃ تسقی من العصوبۃ والعصوبۃ تقضی علٰی غیرھا مطلقا وان کان من غیرحیزھا کالعدم یحجب الخال فکذا ولدیۃ العصبۃ وبھٰذا تنحل الشبھتان معا اعنی وجوب اعتبار الاقوٰی کما ذھب الیہ العلامۃ الشامی ووجوب اسقاط الاضعف لسقوط الاقوی کما قررنا فی الالزام واﷲ تعالٰی اعلم ولی الانعام۔
مصنف علیہ الرحمہ کاقول ہے کہ قوت قرابت سے بھی ترجیح دیناضروری ہے کیونکہ وہ (عصبہ کی اولاد ہونے سے) زیادہ قوی ہے۔ میں کہتاہوں روایات ظاہرہ میں مشائخ اس پرمتفق ہیں کہ جہت مختلف ہونے کی صورت میں قوت قرابت کااعتبارنہیں ہوتالہٰذاحقیقی پھوپھی کواخیافی خالہ پرترجیح نہیں ہوگی اورنہ حقیقی خالہ کو اخیافی پھوپھی پرترجیح ہوگی۔ جہت واحدہ میں قوت قرابت کے ولدیت عصبہ سے زیادہ قوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اختلاف جہت کے وقت بھی اس کااعتبار کیاجائے۔ کیونکہ اس صورت میں قوت قرابت کااعتبارساقط ہوتاہے۔ چنانچہ اضعف کے برمحل معتبرہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہاں اقوٰی بے محل بھی معتبرہو۔ اورحق یہ ہے کہ ایک جہت میں قوت قرابت کامعنی فقط یہ ہے کہ ایک قریبی رشتہ دار دوجہتیں رکھتاہو جیسے سگا رشتہ داریاایک زیادہ قوی جہت رکھتاہو جیسے علاتی رشتہ دار اخیافی رشتہ دارکے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ ایک جانب میں دوجہتوں کااجتماع دوسری جانب کو محروم نہیں کرتا۔ جب خود ایک حیز یعنی باپ جوکہ اقوٰی ہے دوسرے حیزیعنی ماں سے۔ اس کے باوجود اس کی قوت دوسرے حیزکومحروم نہیں کرتی تواس کی جانب سے حاصل ہونے والی قوت دوسری جانب کو کیسے محروم کرسکے گی۔ قوت قرابت فقط ایک جہت میں معتبرہے۔ اس کی وجہ سے ایک جانب کو دوسری پرتقدیم حاصل نہ ہوگی ورنہ لازم آئے گا کہ باپ کی جانب کو مطلقاً ماں کی جانب پر تقدیم حاصل ہو، نیز قوت قرابت کااعتبارمقصود پربطور نقض لوٹے گا کیونکہ اختلاف جہت کے وقت تمام روایات ظاہرہ کے مطابق اقوٰی معتبرنہیں توتم اس میں اضعف کااعتبارکیسے کرتے ہو۔ چنانچہ معاملہ دونوں ترجیحوں کو لغو قراردینے کی طرف لوٹ آئے گا اوریہ خود تمہاری تقریر کے خلاف ہے کہ وہ (ولد عصبہ سے ترجیح) صحیح اورمفتٰی بہ ہے۔ اس کاجواب وہ ہے جو میں نے اس سے پہلے ذکرکیاکہ اقوٰی کااس لئے اعتبارنہیں ہے کہ اس کامحل نہیں۔لہٰذا دوسری ترجیح برمحل ہونے کی وجہ سے لغو نہ ہوگی۔ یہ اس لئے ہے کہ عصبہ کی اولاد کو عصوبت سے حصہ ملتاہے اورعصبہ کوغیرپر مطلقاً ترجیح ہوتی ہے اگرچہ جہت مختلف ہو مثلاً چچا (جوکہ عصبہ ہے) ماموں کومحروم کردے گا اسی طرح عصبہ کی اولاد بھی محروم کردیتی ہے۔ اس تقریرسے دونوں شبہے مندفع ہوجاتے ہیں یعنی اقوٰی کے اعتبار کاوجوب جیساکہ علامہ شامی اس کی طرف گئے ہیں اوراقوٰی کے سقوط کی وجہ سے اضعف کوساقط کرنے کاوجوب جیساکہ ہم نے الزام کی تقریر میں بیان کیا۔ اوراﷲ تعالٰی ہی انعام عطافرمانے والاہے۔(ت)
اس حاشیہ نے بحمدہٖ تعالٰی کشف شبہہ کردیا اس وقت تک مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اﷲ تعالٰی فقیرکے پاس نہ تھی۔ اب اس کے مطالعہ نے واضح کردیا کہ وہ صرف اطلاق روایت سرخسی نہیں بلکہ خاص نص صریح ہے بحث علامہ شامی مصادم نص واقع ہوئی اوربحث فقیربحمداﷲ القدیر نص کے موافق آئی وﷲ الحمد۔
مبسوط شریف کانص ملخص یہ ہے:
فی ظاھر المذھب ولد العصبۃ اولٰی سواء اختلفت الجھۃ اواتحدت، فان کان قوم من ھٰؤلاء من قبل الام من بنات الاخوال اوالخالات وقوم من قبل الاب من بنات الاعمام اوالعمات لام، فالمال مقسوم بین الفریقین اثلاثا، سواء من کل جانب ذوقرابتین اومن احد الجانبین ذوقرابۃ واحدۃ ثم مااصاب کل فریق فیما بینھم یترجح جھۃ ذی القرابتین علی ذی قرابۃ واحدۃ۱؎۔
ظاہرمذہب میں عصبہ کی اولاد اولٰی ہے چاہے جہت مختلف ہویامتحد۔ اگران میں سے ایک جماعت ماں کی طرف سے ہو مثلاً ماموں یاخالاؤں کی بیٹیاں اورایک جماعت باپ کی طرف سے ہومثلاً اخیافی پھوپھیوں یااخیافی چچوں کی بیٹیاں، تومال دونوں فریقوں میں تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا چاہے ہرجانب دوقرابتیں ہوں 

یاایک جانب فقط ایک قرابت ہو۔ پھرہرفریق کو جوملاہے وہ ان کے درمیان تقسیم کیاجائے گا درانحالیکہ دوقرابتوں والے کو ایک قرابت والے پرترجیح ہوگی۔(ت)
 (۱؎ مبسوط امام السرخسی     کتاب الفرائض     فصل فی میراث اولاد العمات الخ     دارالمعرفۃ بیروت    ۳۰/ ۲۱)
یہ نص صریح ہے وﷲ الحمد کہ اختلاف جہت کے وقت ولدیت وارث سے ترجیح ہے اورقوت قرابت سے نہیں تواولاد صنف رابع کاقانون صحیح ومعتمدیہ ہے۔
یقدم الاقرب مطلقا ثم ان اختلف الحیزفولد الوارث وان اتفق فالاقوی قرابۃ ثم ولدالوارث وبعد ھذہ الشرائط ان استحق الفریقان فلفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقرب ہرحال میں مقدم ہوگا پھراگرجہت مختلف ہوتوعصبہ کی اولاد کواوراگرمتحدہوتوپہلے اقوٰی کوپھرعصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی۔ ان شرائط کے بعد اگر دونوں فریق مستحق ہوں تو باپ کے فریق کودوتہائی اورماں کے فریق کو ایک تہائی ملے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter