| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
پھر مبسوط امام سرخسی کا فی امام حاکم شہید کی شرح حامل المتن ہے جس میں انہوں نے کتب ظاہرالروایہ کوجمع فرمایاہے اس میں انہوں نے صرف اسے ظاہر الروایۃ ہی نہ فرمایا بلکہ قول اول کے روایت نادرہ ہونے کی بھی تصریح فرمائی اسی طرح تکملۃ البحر للعلامۃ الطوری میں ہے نیزہندیہ میں اسے مقرررکھا۔
مبسوط کی عبارت یہ ہے:
ان کان احدھما ولد عصبۃ اوولد صاحب فرض فعنداتحاد الجہۃ یقدم ولدالعصبۃ وصاحب الفرض وعند اختلاف الجھۃ لایقع الترجیح بھذا بل یعتبر المساواۃ فی الاتصال بالمیت، بیانہ فیما اذا ترک ابنۃ عم لاب وامٍّ اولابٍ وابنۃ عمۃ فالمال کلہ لابنۃ العم لانھا ولد عصبۃ،، ولوترک ابنۃ عم و ابنۃ خال اوخالۃ فلابنۃ العم الثلثان ولابنۃ الخال اوالخالۃ الثلث لان الجھۃ مختلفۃ ھنا فلا یترجح احدھما بکونہ ولد عصبۃ وھذا فی روایۃ ابن ابی عمران عن ابی یوسف فاما فی ظاھرالمذھب ولدالعصبۃ اولٰی سواء اختلفت الجھۃ اواتحدت لان ولدالعصبۃ اقرب اتصالابوارث المیت فکان اقرب اتصالا بالمیت فان قیل فعلٰی ھذا ینبغی ان العمۃ تکون احق بجمیع المال من الخالۃ لان العمۃ ولد العصبۃ وھو اب الاب، والخالۃ لیست بولد عصبۃ ولاولد صاحب فرض لانھا ولد اب الام، قلنا لاکذٰلک فان الخالۃ ولدام الام وھی صاحبۃ فرض فمن ھذا الوجہ تتحقق المساواۃ بینھما فی الاتصال بوارث المیت، الا ان اتصال الخالۃ بوارث وھی امّ، فتستحق فریضۃ الام واتصال العمۃ بوارث وھو اب فتستحق نصیب الاب، فلھذا کان المال بینھما اثلاثا۱؎۔
اگردونوں میں سے ایک عصبہ یاصاحب فرض کی اولادہے تواتحاد جہت کی صورت میں عصبہ اور صاحب فرض کی اولاد کومقدم کیاجائے گا۔ اختلاف جہت کی صورت میں اس سے ترجیح نہیں ہوگی بلکہ میت سے تعلق میں مساوات کااعتبار کیاجائے گا اس کابیان یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص حقیقی یاعلاتی چچاکی بیٹی اورپھوپھی کی بیٹی چھوڑکرفوت ہوا توتمام مال چچا کی بیٹی کوملے گا کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے۔ اوراگرچچا کی بیٹی اورماموں یاخالہ کی بیٹی چھوڑکرفوت ہواتو چچا کی بیٹی کودوتہائی اورماموں یاخالہ کی بیٹی کوایک تہائی ملے گا، کیونکہ یہاں جہت مختلف ہے۔ دونوں میں سے ایک کوعصبہ کی اولادہونے کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی۔ یہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے ابن ابی عمران کی روایت ہے۔ لیکن ظاہر مذہب میں عصبہ کی اولاد اولٰی ہے چاہے جہت مختلف ہویامتحد، کیونکہ عصبہ کی اولاد کامیت کے وارث سے زیادہ قریبی تعلق ہے گویا میت سے اقرب ہے۔ اگرکہاجائے اس بناء پرچاہئے کہ پھوپھی خالہ کی بنسبت تمام مال کی زیادہ حقدار ہوکیونکہ پھوپھی عصبہ یعنی دادا کی اولاد ہے جبکہ خالہ نہ توعصبہ کی اولاد ہے اورنہ ہی صاحب فرض کی، کیونکہ وہ نانا کی اولادہے۔ توہم کہیں گے کہ اس طرح نہیں کیونکہ خالہ نانی کی اولادہے اوروہ صاحب فرض ہے۔ اس اعتبار سے پھوپھی اورخالہ میں میت کے وارث سے متصل ہونے میں مساوات پائی جائے گی مگرخالہ کاجس وارث کے ذریعے تعلق ہے وہ ماں (نانی) ہے لہٰذا ماں کے حصے کی مستحق ہوگی اورپھوپھی کاجس وارث کے ذریعے تعلق ہے وہ باپ (دادا) ہے لہٰذا وہ باپ کے حصے کی مستحق ہوگی۔ اسی لئے ان میں مال تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا(دوحصے پھوپھی کے اورایک حصہ خالہ کا)۔(ت)
(۱؎ مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ۳۰/ ۲۱)
بعینہٖ یہی مضمون تمام وکمال تکملہ بحرمیں ہے اور ہندیہ میں لفظ اتصالا بالمیت تک۔ اس میں امام جلیل نے دلیل قول اول سے جواب کابھی افادہ فرمادیا: اقول: ولایقدح فی تحقق المساواۃ ان العمۃ اذا کانت لاب وام کانت ولد الوارث من کلا الجھتین و یستحیل ھذا فی الخالۃ لان ھذا قوۃ القرابۃ ولانظرالیھا عنداختلاف الحیز کما صرحوابہ قاطبۃ نعم رایتنی کتبت علٰی ھامش تکملۃ البحر مانصہ۔ اقول: لایتمشٰی اذاکانت الخالۃ اخت الام لاب اھ ای فانھا لاحظ لھا من ولدیۃ وارث اصلا۔ لایقال نصوا انھا اقوٰی من الخالۃ لام فاذا مات عن خالۃ بالاب واخرٰی لام احرزت الاولٰی جمیع المال ولاشیئ للاخرٰی والخالۃ لام لاتحجبھا العمۃ لاستوائھا معھا فی ولدیۃ الوارث فاذالم تحجب الاضعف وجب ان لاتحجب الاقوٰی لانی اقول انما قوتھا قوۃ قرابتھا فان الانتماء بالاب اقوی من الانتماء بالام وھٰذہ قوۃ لانظر الیھا عنداختلاف الجھۃ فتبقی ولدیۃ العمۃ للوارث قوۃ بلامعارض فیلزم ان تحجب الخالۃ لاب وھو باطل فعلم ان ولدیۃ الوارث ایضا لاتلاحظ فی الحیز المختلفۃ۔
میں کہتاہوں مساوات کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکیونکہ پھوپھی جبکہ حقیقی ہوتو وہ دونوں جہتوں سے وارث کی اولاد ہے اوریہ بات خالہ میں محال ہے(کیونکہ وہ صرف ایک جہت سے وارث کی اولاد ہے) اس لئے کہ یہ قرابت کی قوت ہے جس کااختلاف جہت کی صورت میں اعتبارنہیں ہوتا جیساکہ تمام مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ہاں مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے تکملہ بحر کے حاشیہ پرلکھاہے کہ میں کہتاہوں یہ جواب اس وقت نہیں چلے گا جب خالہ ماں کی علاتی بہن ہو الخ کیونکہ وہ بالکل وارث کی اولادنہیں۔ یوں نہ کہاجائے کہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہے کہ علاتی خالہ اخیافی خالہ سے اقوی ہے لہٰذا اگرکوئی شخص علاتی خالہ اخیافی خالہ چھوڑ کر مراتوسارا مال پہلی خالہ لے گی دوسری کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔ پھوپھی اخیافی خالہ کو محروم نہیں کرسکتی کیونکہ وارث کی اولادہونے میں وہ اس کے ساتھ شریک ہے۔ جب پھوپھی اضعف کومحروم نہیں کرسکتی توضروری ہے کہ اقوٰی یعنی علاتی خالہ کوبھی محروم نہ کرے اس لئے کہ میں کہتاہوں پہلی خالہ کی قوت قوت قرابت ہے کیونکہ باپ کے ذریعے سے میت کی طرف منسوب ہوناماں کے ذریعے منسوب ہونے سے زیادہ قوی ہے لیکن اختلاف جہت کے وقت اس قوت کااعتبارنہیں۔ لہٰذا پھوپھی کے اولاد وارث ہونے والی قوت کسی معارض کے بغیر باقی رہے گی۔ اورلازم آئے گا کہ پھوپھی علاتی خالہ کومحروم کردے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ معلوم ہواکہ جہت مختلف ہونے کی صورت میں وارث کی اولاد ہونے کابھی اعتبارنہیں۔
اقول: وباﷲ التوفیق توریث الخالۃ مع العمۃ اثلاثا عند الفقہاء رضی اﷲ تعالٰی عنھم لاقامۃ العمۃ مقام العم والخالۃ مکان الام قال الامام شمس الائمۃ اعلم بان العمۃ بمنزلۃ العم عندنا والخالۃ بمنزلۃ الام، وقال اھل التنزیل العمۃ بمنزلۃ الاب و الخالۃ بمنزلۃ الام، قالوا اتفقت الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم علی ان للعمۃ الثلثان وللخالۃ الثلث اذا اجتمعتا ولاوجہ لذلک الا بان تجعل العمۃ کالاب باعتبار ان قرابتھا قرابۃ الاب والخالۃ کالام باعتبار ان قرابتھا قرابۃ الام، وجہ قول علمائنا رحمھم اﷲ تعالٰی ان الاصل ان الانثٰی متی اقیمت مقام ذکرفانھا تقوم مقام ذکر فی درجتھا۔ والذکر الذی فی درجۃ العمۃ العم و ھو الوارث فتجعل العمۃ بمنزلۃ العم، والخالۃ لو اقمناھا مقام ذکرفی درجتھا وھو الخال لم ترث مع العمۃ فلھذہ الضرورۃ اقمناھا مقام الام فالعمۃ ترث الثلثین وللخالۃ الثلث بھذا الطریق بمنزلۃ مالوترک امّا وعمّا۱؎ اھ (مختصراً)
میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں کہ فقہائے کرام کے نزدیک خالہ کوپھوپھی کی موجودگی میں اس لئے تہائی حصہ ملتاہے کہ پھوپھی کوچچاکے اور خالہ کو ماں کے قائمقام رکھاجاتاہے، امام شمس الائمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک پھوپھی، چچااورخالہ ماں کے مرتبہ میں ہے۔ اہل تنزیل نے کہاکہ پھوپھی بمنزلہ باپ کے اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہے۔ مشائخ نے کہاکہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اس پرمتفق ہیں کہ جب خالہ اورپھوپھی جمع ہوں تو پھوپھی کے لئے دوتہائی اورخالہ کے لئے ایک تہائی ہوگا۔ اس کی وجہ سوائے اس کے کوئی نہیں ہوسکتی کہ پھوپھی کوباپ کے قائم مقام رکھاجائے اس اعتبارسے کہ اس کی قرابت باپ کی قرابت کی وجہ سے ہے۔ اورخالہ کوماں کے قائم مقام رکھاجائے اس اعتبارسے کہ اس کی قرابت ماں کی قرابت کی وجہ سے ہے۔ ہمارے علماء کے قول کہ ''خالہ ماں کی طرح ہے'' کی وجہ یہ ہے کہ قاعدہ کی روسے عورت کو جب کسی مرد کے قائم مقام کیاجائے تو اپنے ہم مرتبہ مرد کے قائم مقام ہوگی۔پھوپھی کاہم مرتبہ مرد چچا ہے جوکہ وارث ہے لہٰذا اسے چچا کے قائم مقام کیاجاتاہے اورخالہ کواگر اس کے ہم درجہ مرد یعنی ماموں کے قائم مقام کیاجائے تو وہ پھوپھی کے ساتھ وارث نہیں بن سکے گی۔ اس ضرورت کے پیش نظرہم نے اسے ماں کے قائم مقام کیا، لہٰذا اس طرح پھوپھی کودوتہائی اورخالہ کوایک تہائی ملے گا جیساکہ ماں اورچچا کوچھوڑ کر فوت ہونے کی صورت میں ہوتا(اختصار)
(۱؎ مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث العمات والاخوال والخالات دارالمعرفۃ بیروت ۳۰/ ۱۸و۱۹)
فاذاکان الامر علی ھذا سقط تقدم العمۃ لولدیۃ العصبۃ فانّھا قداقیمت مقام العصبۃ فضلا عن الوالدیۃ ولم تحجب الخالۃ لاقامتھا مقام الام والام لاتحجب بالعم وفی ھذہ الحالات کلھن سواء قدرأینا ان مثل الاقامۃ تمنع الحجب بما ھو اقوی اسبابہ وھو قرب درجۃ، الاتری ان من خلف بنتا وبنات ابن فلھن السدس تکملۃ للثلثین لاقامتھن مقام بنت فلم یحجبھن بعد درجتھن عن درجۃ البنت وکذلک اذا مات عن بنتین وبنت ابن وبنت ابن ابن وابن ابن ابن لم یحجب بنت الابن وبنت ابن الابن لانھما اقیمتا فی درجۃ الذکر کی تتعصب بہ فھذا ھو السرفی وراثۃ الخالۃ لاب مع العمّات واﷲ تعالٰی اعلم ثم اقول: لایذھبن عنک ان ھذہ الاقامۃ تقتصر علی الذوات ولاتتعدی الی الاولاد فاولاد الخالۃ لایجعلون کاولادالام الاتری ان ذکورھم لایساوون اناثھم بل للذکرمثل حظ الانثیین وھذا کولدیۃ العصبۃ لاتسری من الولد الی ولد الولد کما فی ردالمحتار وغیرہ عن سکب الانھر وغیرہ فا بنت العم لایقدم علی بنت ابن العمۃ اوالخال اوالخالۃ فاحفظ۔
جب معاملہ اس طرح ہے توپھوپھی کوعصبہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ترجیح نہیں ہوگی کیونکہ اس کو عصبہ کی اولاد کے بجائے خود عصبہ کے قائم مقام قراردیاگیاہے پھوپھی خالہ کومحروم نہیں کرسکے گی کیونکہ خالہ کوماں کی جگہ رکھاگیاہے اورماں چچا سے محروم نہیں ہوتی۔ ان حالات میں تمام برابر ہیں۔ تحقیق ہم نے دیکھاکہ قائم مقام قراردینے کی وجہ سے قرب درجہ جیساقوی ترین سبب بھی محروم نہیں کرسکتا۔ کیاتونہیں دیکھتاکہ کوئی شخص اگر ایک بیٹی اورچندپوتیاں چھوڑ کرمرجائے تو دوتہائی کی تکمیل کے لئے پوتیوں کوچھٹا حصہ ملے گا، کیونکہ انہیں بیٹی کے قائم مقام رکھاگیاہے لہٰذا بیٹی کے درجہ سے دوری انہیں محروم نہیں کرے گی۔ اسی طرح اگرکوئی شخص دوبیٹیاں، ایک پوتی، ایک پوتے کی بیٹی اورایک پوتے کابیٹاچھوڑکرمرگیا توپوتی اورپوتے کی بیٹی محروم نہ ہوں گی کیونکہ ان کو مرد کے درجے میں رکھاگیاہے تاکہ اس کے ذریعے وہ عصبہ بن جائیں۔ علاتی خالہ کے پھوپھیوں کے ساتھ وارث بننے میں یہی راز ہے، اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ میں پھرکہتاہوں تجھے ہرگزیہ نہ بھولے کہ قائم مقام قراردینا صرف ذوات تک محدودہے اولاد کی طرف یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔ لہٰذا خالہ کی اولاد کو ماں کی اولاد کی طرح نہیں بنایا جائے گا۔ کیاتونے نہیں دیکھاکہ خالہ کی اولاد میں مذکر ومؤنث آپس میں برابرنہیں بلکہ لڑکے کاحصہ دولڑکیوں کے حصے کے برابرہے۔ یہ عصبہ کی ولدیت کی طرح ہے کہ اولاد سے اولاد کی اولاد کی طرف منتقل نہیں ہوتی جیساکہ ردالمحتار وغیرہ میں سکب الانہر وغیرہ سے منقول ہے۔ چنانچہ چچاکانواسہ، پھوپھی، ماموں یاخالہ کی پوتی سے مقدم نہ ہوگا۔ پس اس کویاد کرلے۔(ت)
بالجملہ قول دوم پرہی اکثر متون ہیں اور اسی کو اکثرنے ظاہرالروایۃ اورمذہب بتایا اور تصحیحات صریحہ اسی کے لئے ہیں،
خصوصا آکد تصحیحات علیہ الفتوٰی،
تواسی پراعتماد واجب ہے اور اس سے عدول ساقط وذاہب۔