Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
83 - 145
یونہی علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہرمیں نص ملتقی پرتقریرکی۔یہ ہیں وہ عبارات جواس قول پرنظر حاضرمیں ہیں اوریہاں چندضروری تنبیہات ہیں۔

فاقول: ظاہرعبارت خیریہ سے متوہم ہوتاہے کہ یہ قول ہدایہ وکنزمیں ہے اوران دونوں کے اکثر شراح نے اس پرمشی کی پھرملتقی وسراجیہ اسی پرہیں لہٰذا علامہ حامدآفندی نے اسے مسئلہ متون قراردیا مگراولا وہ ہدایہ میں نہیں بلکہ امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب ''فرائض عثمانی'' میں کہ رسالہ فرائض شیخ عثمانی کاتکملہ ہے ذکرفرمایا۔ ہدایہ میں سرے سے کتاب الفرائض ہی نہیں حالانکہ اس کے ماخذ ثانی مختصرالقدوری میں فرائض ہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
ھذا ظاھرالروایۃ کما فی السراجیۃ والفرائض العثمانیۃ لصاحب الھدایۃ۴؎۔
یہ ظاہرالروایہ ہے جیساکہ سراجیہ اورصاحب ہدایہ کی فرائض عثمانیہ میں ہے۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض     باب توریث فی الارحام     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۷)
ثانیاً شروح ہدایہ سے کفایہ امام کرمانی وعنایہ امام اکمل وبنایہ امام عینی وغایۃ البیان امام اتقانی ونتائج الافکار قاضی زادہ تکملہ فتح القدیر پیش نظرہیں۔ ان میں مثل ہدایہ کے فرائض نہیں اورمعراج الدرایہ میں قول دوم کی تصحیح نقل کی۔ غالباً یہ زیادت کتاب الفرائض میں ہو جس طرح نہایہ نے اسے تکمیلاً اضافہ کیا اورمحقق بابرتی نے اس کی تلخیص میں پھرحذف فرمادیا توظاہراً غالب شروح ہدایہ کہناخیریہ کاسبق قلم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ثالثاً کنزکی عبارت یہ ہے:
وذورحم وھو قریب لیس بذی سھم وعصبۃ (الٰی ان قال) وترتیبھم کترتیب العصبات والترجیح بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا وعند اختلاف جہۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام۱؎۔
ذورحم وہ قریبی رشتہ دارہے جوصاحب فرض اورعصبہ نہ ہو(یہاں تک کہ فرمایا) او ان کی ترتیب عصبات کی ترتیب کی طرح ہے اورترجیح قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے سے ہے جہت قرابت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کو ماں کی قرابت سے دوگناملے گا۔(ت)
 (۱؎ کنزالدقائق    کتاب الفرائض     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۳۷)
حضرت علامہ شامی اس میں محل استدلال جملہ اخیرہ کااطلاق اوراسی بناء پر اسے متون وشروح کی طرف نسبت کیاجانابتاتے ہیں۔ ردالمحتارمیں بعد عبارت مذکورہ آنفاً ہے:
وھو ظاھر اطلاق المتون والشروح حیث قالوا وعند اختلاف جھۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام فلم یفرقوا بین ولد العصبۃ وغیرہ۲؎۔
وہ متون وشروح کاظاہر اطلاق ہے جہاں مشائخ نے فرمایا کہ جہت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کوماں کی قرابت سے دوگناملے گا۔ چنانچہ انہوں نے عصبہ کی اولاد اوراس کے غیرمیں کوئی فرق نہیں کیا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار        کتاب الفرائض     باب توریث ذوی الارحام     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۸۔۵۰۷)
اقول: یہ جملہ دوقاعدہ ترجیح کے بعد مذکورہے وہ قواعد عامہ تھے کہ جمیع اصناف واحوال ذوی الارحام کوشامل تھے تویہ قطعاً ان سے مقیدہے ورنہ اختلاف جہت کے وقت قرب درجہ سے بھی ترجیح نہ ہو اوروہ بالاجماع باطل ہے وعلی التنزیل وہ دونوں قاعدے بھی مطلق ہیں وہاں بھی اختلاف واتحاد جہت سے فرق نہ فرمایا تویہ اطلاق اس اطلاق سے معارض ہے۔
رابعاً مختصر امام اجل قدوری میں صاف فرمایا ذوی الارحام کے اقسام بیان کرکے حکم عام ارشاد فرماتے ہیں:
واذا استوی وارثان فی درجۃ واحدۃ فاولٰھم من ادلٰی بوارث واقربھم اولٰی من ابعدھم۱؎۔
جب دو وارث ایک درجے میں برابرہوں تو وارث کے ذریعے میت کی طرف منسوب ہونے والا اولٰی ہوگا اورذوی الارحام میں سے اقرب کوابعد پرترجیح ہوگی۔(ت)
 (۱؎ القدوری     کتاب الفرائض    باب توریث ذوی الارحام     مطبع مجتبائی دہلی     ص۳۱۸)
خامساً اسی طرح متن تنویرمیں تمام اصناف ذکرکرکے فرمایا:
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث واذا اختلفت الاصول اعتبر محمد من الاصول وقسم علیھم اثلاثا۲؎ الخ۔ (ملتقطاً)
جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا، اورجب اصول مختلف ہوں توامام محمدعلیہ الرحمہ اصول کااعتبارکرتے ہوئے مال کے تین حصے بناکر ان پرتقسیم کرتے ہیں الخ (ملتقطاً)۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب الفرائض     مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۳۶۴)
اس نے بھی صاف کردیاکہ بعداستواء درجہ تقدم ولدوارث کاحکم عام ہے اس کے بعد مسئلہ اختلاف جہت نہ لائے جس سے اشتباہ ہوبلکہ مسئلہ اختلاف اصول ذکورۃ وانوثۃ میں یہی نکتہ ہے کہ ان تینوں متون اعنی قدوری وکنزوتنویرنے یہاں قوت قرابت کی ترجیح ذکرنہ فرمائی کہ منظورافادہ قواعد عامہ ہے اور وہ عام نہ تھی بلکہ اتحاد(حیز) سے خاص
ھکذا ینبغی ان یفھم کلام الکرام
 (بزرگوں کے کلام کویوں ہی سمجھناچاہئے۔ت)اوریہیں سے ظاہرہواکہ
واذا استووافی درجۃ
(جب درجہ میں برابرہوں۔ت) کے بعد درمختارکا
''واتحدت الجھۃ''۳؎
 (اورجہت متحد ہو۔ت) کی طرف خود ان کامیل برخلاف متن ہے۔
 (۳؎ الدرالمختار             کتاب الفرائض     مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۳۶۴)
سادساً ہدایہ، وقایہ، نقایہ، اصلاح، غرر ان متون میں مسئلہ کاذکرنہیں۔
قدوری، کنزوتنویر کاحال معلوم ہوا سراجیہ اگرچہ ابتدائی کتاب ہے مگراصطلاح فقہ پرمتن نہیں اس کامرتبہ فتاوٰی یاغایت درجہ شروح کاہے جیسے منیہ واشباہ بھی ابتدائی کتب ہیں اورمرتبہ متون میں ہرگزنہیں بلکہ فتاوی میں
کما بیّناہ فی فتاوٰنا
 (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔ت) متون وہ مختصرات ہیں کہ ائمہ حفظ مذہب کے لئے لکھتے ہیں جیسے مختصرات طحاوی وکرخی وقدوری اور سراجیہ میں بکثرت روایات نادرہ بلکہ بعض اقوال مشائخ کے ذکر تک تنزل ہے، لاجرم علامہ سیدشریف نے نقل فرمایاکہ سراجیہ درحقیقت فرائض امام احمدعلاء الملت والدین سمرقندی کی شرح ہے۔
ان المصنف لما خرج من فرغانۃ الی بخارا وجد فیھا الفرائض المنسوبۃ الی القاضی الامام علاء الدین السمرقندی فی ورقتین فاستحسنھا واخذ فی تصنیف ھذاالکتاب شرحالھا۱؎۔
مصنف علیہ الرحمہ جب فرغانہ سے بخاراگئے تووہاں قاضی امام علاء الدین السمرقندی کی طرف منسوب فرائض کودوورقوں میں پایاجو انہیں پسندآئے توان کی شرح کے طورپراس کتاب (سراجیہ) کولکھنا شروع کیا(ت)
 (۱؎ الشریفیۃ شرح السراجیۃ     باب ذوی الارحام     مطبع علیمی لاہور    ص۹۶)
تونہ رہی مگرایک ملتقی، اس میں بیشک یہ قول مصرح ہے:
حیث قال یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم یکون الاصل وارثا عنداتحاد الجھۃ۲؎۔
جہاں فرمایا کہ اتحاد جہت کے وقت وہ قرب درجہ پھر قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں(ت)
 (۲؎ ملتقی الابحر    کتاب الفرائض    فصل ذوالرحم قریب    مؤسسۃ الرسالہ بیروت ص ۳۵۱)
تواسے مسئلہ متون ٹھہراکر قول ثانی پرترجیح دینی صحیح نہیں بلکہ اکثر متون قول ثانی ہی پرہیں۔

سابعاً شروح ہدایہ کاحال معلوم ہوااورشروح کنز نے مسئلہ متن کومقرررکھا اوراس کا مفاد ظاہرہولیاوﷲ الحمد۔

قول دوم کو مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی وفتاوٰی امام تمرتاشی ومجمع الفتاوٰی وفتاوٰی خلاصہ میں ظاہرالروایۃ ومذہب کہا۔ مواریث الملتقط للامام نصروتاتارخانیہ میں اسی پر مشی کی۔
ضوء السراج میں ہے:
علیہ الفتوی۳؎۔
جامع المضمرات میں ہے:
ھو الصحیح۴؎۔
معراج الدرایہ میں ہے:
ھو الاولٰی بالاخذ للفتوی۵؎
 (فتوی کے لئے اخذ کرنے کے زیادہ لائق یہ ہے۔ت)
علامہ محقق خیرالدین رملی۱؎
نے اسی پرفتوٰی دیا۔
 (۳؎ و ۴؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الفرائض     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۲۴۲)

(۵؎ العقودالدریۃ     کتاب الفرائض      ارگ بازار قندھارافغانستان    ۲/ ۳۴۰)

(۱؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الفرائض     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۲۴۲)
اقول: بلکہ مبسوط امام سرخسی جلد ثلاثین ص۷ میں ہے:
اجمعنا انہ لوکان احدھما ولد عصبۃ اوصاحب فرض کان اولی من الاٰخر۲؎۔
ہمارا اس پراجماع ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک عصبہ یاصاحب فرض کی اولادہوتو وہ دوسرے سے اولٰی ہوگا(ت)
 (۲؎ مبسوط الامام السرخسی     کتاب الفرائض     باب میراث ذوی الارحام     دارالمعرفۃ بیروت     ۳۰ / ۷)
اسی کے صفحہ ۵ میں ہے:
من کان منھم ولد عصبۃ اوصاحب فرض فانہ یقدم علی من لیس بعصبۃ ولاصاحب فرض۳؎۔
ان میں سے جوعصبہ یاصاحب فرض کی اولاد ہووہ مقدم ہوگا اس پرجوعصبہ یاصاحب فرض نہیں۔(ت)
 (۳؎مبسوط الامام السرخسی     کتاب الفرائض     باب میراث ذوی الارحام     دارالمعرفۃ بیروت     ۳۰/ ۵)
اسی طرح علامہ سیدشریف نے زیرقول مصنف
اولٰھم بالمیراث اقربھم۴؎
 (ان میں میراث کازیادہ حقداروہ ہے جومیت کے زیادہ قریب ہے۔ت) نقل فرمایا اورمقرررکھا۔
 (۴؎ الشریفیۃ شرح السراجیۃ        باب ذوی الارحام     فصل فی الصنف الاول      مطبع علیمی لاہور    ص۱۰۰)
Flag Counter