| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
بخدمت جناب ابوالعلامہ امجدصاحب سلمہ المذہب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ! مسئلہ قاعدہ تحریم صنف رابع ذوی الارحام مندرجہ لفافہ ہمارے علماء گردونواح کامختلف فیہ واقع ہواہے کوئی متون کوترجیح دیتے ہیں دیوبندیوں کا فتوی بھی یہ ہے حتی کہ کتاب مفیدالوارثین میں بالتصریح مذکورہے اور کوئی فتاوٰی خیریہ کو مقدم سمجھتے جس کی شامی نے بھی تائید کی۔ اب مسئلہ معرکہ آرابن گیاہے ایک نقل اس استفتاء کامولوی عبدالغفور ہمایونی کو بھیجا گیا ہے مگر افسوس ہےکہ وہ فوت ہوگئےہیں باقی دیوبندی علماء غیرمقلد ہیں ان کے فتوے پراعتبارنہیں آتا۔ آج کل فقہ حنفی کاعالم متبحر بغیرمولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب کے علاوہ اورکوئی نظرنہیں آتا، ایک خط پہلے دربارہ استفتائے مذکور مولوی احمدرضاخاں صاحب کے پاس بھیجاگیا سب علماء اس جگہ والے منتظر جواب ہیں اس لئے آج دوسرااستفتائے مذکور کی نقل آپ کی وساطت سے بجناب مولوی صاحب بھیجی جاتی ہے براہ عنایت واعانت دین آپ بنفس نفیس یہ استفتاء مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کرکے جواب لکھواکر واپس فرمائیں اﷲ تعالٰی جل شانہ، آپ کو اس تکلیف کانعم البدل عطافرمائے گا مگرجواب صرف نعم اور لا میں نہ ہوبلکہ بہ نقول وحوالہ کتب فقہ حنفی مستدل ومبرہن لکھوادیں ایسے اختلاف عظیم کامٹانا اورحق دریافت کرنا جس میں علامہ شامی جیسامحقق بھی عاجزہوکر دوسروں کوفیصلہ پرامربمراجعہ کتب فرمارہاہے بجزمولوی صاحب جیسے علامہ متبحر کے اورکوئی قادرنہ ہوسکے گا۔ آج مولوی صاحب جیسی شمع روشن ہے کل کوخدانخواستہ کوئی شخص اس کو حل نہ کرسکے گا۔ مولوی صاحب کے ہاں ذخیرہ کتب موجودہے امیدہے کہ کسی عالم مصریاشام نے اپنے فتاوٰی میں ذکر اس جزئی کاکیاہو وہ ضرورنقل فرمائیں فقط ۱۱/اگست ۱۹۱۸ء راقم فقیراحمدبخش سجادہ نشین شہرجہجہ ریاست بہاولپور
الجواب : یہاں دومسئلے ہیں: اول بحالت اختلاف حیزبھی ولدالوارث کوترجیح ہے یانہیں۔ دوم اگرہے تو قوت قرابت بھی مرجح ہے یانہیں۔
مسئلہ اولٰی کو علامہ خیرالدین رملی نے فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ پھرعلامہ شامی نے عقود الدریہ میں صاف فرمادیاہے کہ دونوں کوظاہرالروایۃ کہاگیا اورترجیح متون التزامی ہے اورجانب اثبات صریح تصحیحات، تومعتمد یہ ہے کہ ولد وارث مرجح ہے اگرچہ حیز مختلف ہو۔ عقودالدریہ سائل فاضل سلمہ اﷲ تعالٰی کے پیش نظر ہے اورفقیر نے خیریہ سے مقابلہ کیا اس کی عبارات بتمامہا عقودمیں منقول ہے ان دونوں عبارتوں سے مستفاد کہ قول اول یعنی عدم ترجیح کوکواکب مضیہ میں ظاہرالروایۃ کہااورسراجی وصاحب ہدایہ ومتن کنزوملتقی واکثرشروح کنزوہدایہ نے اس پر مشی کی اور اس بناپر کہ وضع متون نقل مذہب کے لئے ہے۔ علامہ حامدآفندی عالم متاخرنے اسے اختیارکیا
اقول: اسی پر فاضل شجاع بن نوراﷲ انقروی مدرس اورنہ نے اپنی کتاب ''حل المشکلات'' تصنیف ۹۶۴ھ میں مشی کی۔
حیث قال بنت عم لابوین وبنت خال لام یقسم اثلاثا لان قوۃ القرابۃ وولد العصبۃ غیر معتبرۃ بین فریق الاب وفریق الام۱؎ اھ بالتخصیص۔
جہاں فرمایاکہ حقیقی چچا کی بیٹی اوراخیافی ماموں کی بیٹی میں مال تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا (اول الذکرکودوتہائی اورموخرالذکرکو ایک تہائی) کیونکہ باپ کے فریق اورماں کے فریق کے درمیان قرابت کی قوت اورعصبہ کی اولاد ہونامعتبرنہیں اھ تلخیص(ت)
(۱؎ حل المشکلات فی الفرائض )
بعد کے بہت متاخر رسائل مثل مختصرالفرائض مولوی نجابت حسین بن عبدالواحد الصدیقی البریلوی تصنیف ۱۲۴۱ھ وزبدۃ الفرائض مولوی عبدالباسط بن رستم علی بن علی اصغر قنوجی اس طرف جانا ہی چاہیں کہ ان کاماخذ سراجیہ ہے،
اول کی عبارت یہ ہے:
وان کان واسطۃ قرابتھم مختلفۃ فثلثا المال لقرابۃ الاب وثلثہ لقرابۃ الام والاعتبار بقوۃ القرابۃ وولدیۃ العصبۃ بینھا کما لوترک اخت الاب لاب وام واخت الام لاب لیس للاولٰی ترجیح علی الثانیۃ وان کانت الاولی ولدالعصبۃ وایضا لھا قوۃ القرابۃ کذا ھذا۱؎۔
اوراگران کی قرابت کاواسطہ مختلف ہوتودوتہائی ماں باپ کی قرابت اورایک تہائی ماں کی قرابت کے لئے ہوگا۔ ان کے درمیان قوت قرابت اورعصبہ کی اولادہونے کاکوئی اعتبارنہ ہوگا۔ جیسے کسی نے باپ کی حقیقی بہن اورماں کی علاتی بہن چھوڑی ہوتوپہلی کو دوسری پرترجیح نہیں ہوگی حالانکہ پہلی عصبہ کی اولادہے اوراسے قوت قرابت بھی حاصل ہے۔(ت)
(۱؎ مختصرالفرائض )
دوم میں ہے:
واگرہم بدرجہ قرابت برابرباشند ودرحیز قرابت مختلف کہ بعض ازجانب اب بوند وبعض ازجانب ام دریں ہنگام درظاہرالروایۃ مرقوت قرابت وولد عصبہ رااعتبار نہ باشد پس ولد عمہ اعیانی ازولد خال یاخالہ علاتی یا اخیافی اولٰی نبود کہ قوت قرابت ولدعمہ رااعتبارنیست وہم چنیں بنت عم اعیانی از بنت خال یاخالہ اعیانی اولٰی نباشد کہ ولد عصبہ رااعتبار نیست برقیاس آنکہ عمہ اعیانی ازخالہ علاتی یااخیافی اولٰی نہ بود باوجودآنکہ عمہ اعیانی ذوقرابتین است و ولد وارث ازجہتین یعنی ازجہت اب وام زیراکہ پدراوجدصحیح است ام اوجدہ صحیحہ۲؎۔
اگرقرابت کے درجہ میں برابر ہوں اورجہت قرابت میں مختلف یعنی باپ کی جانب سے اوربعض ماں کی جانب سے ہوں تواس وقت ظاہرالروایہ میں قوت قرابت اور عصبہ کی اولادہونے کااعتبارنہ ہوگا۔ لہٰذاحقیقی پھوپھی کی اولاد علاتی یااخیافی ماموں یاخالہ کی اولاد سے اولٰی نہ ہوگی کیونکہ پھوپھی کی اولاد کے لئے قوت قرابت کااعتبارنہیں ہے۔ اسی طرح حقیقی چچا کی بیٹی حقیقی ماموں یا خالہ کی بیٹی سے اولٰی نہ ہوگی کیونکہ عصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہیں ہے جیساکہ حقیقی پھوپھی، علاتی یا اخیافی خالہ سے اولٰی نہیں ہوتی باوجودیکہ حقیقی پھوپھی دوقرابتوں والی ہے اوردوجہتوں سے وارث کی اولاد ہے یعنی باپ کی طرف سے بھی اورماں کی طرف سے بھی کیونکہ اس کاباپ میت کاجدصحیح اوراس کی ماں میت جدّہ صحیحہ ہے۔(ت)
(۲؎ زبدۃ الفرائض)
اسے ظاہرالروایہ کہنا اوریہ دلیل کہ ان دونوں کتابوں میں ہے بعینہٖ سراجی سے ماخوذہے، اورعلامہ سیدشریف نے اسے مقرررکھا۔ علامہ مدقق علائی نے درمختارمیں اسی کومختاررکھایوں کہ قول متن :
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث۔
جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔(ت)
میں واتحدت الجھۃ۱؎
(اورجہت متحد ہو۔ت) کی قیدبڑھادی اورآگے فرمایا:
فلواختلفت فلقرابۃ الاب الثلثان ولقرابۃ الام الثلث۲؎
اگرجہت مختلف ہوتوباپ کی قرابت کودوتہائی اورماں کی قرابت کو ایک تہائی ملے گا(ت)
(۱ الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴) (۲؎الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴)
علامہ سیداحمدمصری طحطاوی نے اسے مقرررکھابلکہ تصریح کی کہ:
ان اختلف حیز القرابۃ فلا عبرۃ للاقوٰی ولالولد العصبۃ۳؎۔
اگرقرابت کی جہت مختلف ہوتو اقوٰی اورعصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہ ہوگا۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام المکتبۃ العربیہ کانسی روڈ کوئٹہ ۴/ ۴۰۱)