Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
81 - 145
مسئلہ ۲۰۴: ازجہجہ شریف ریاست بہاولپور مرسلہ جناب احمد بخش صاحب چشتی سجادہ نشین ۱۳ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ موجب روایت متون سراجی وہدایہ وکنزوملتقی الابحرعنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ وبکون الاصل وارثا معتبر نہیں یعنی بنت العم وابن الخال میں سے کسی کوترجیح نہیں بلکہ بنت العم کو دوحصہ ابن الخال کوایک حصہ دیاجائے گا اوراسی روایت کو صاحب فتاوٰی حامدیہ نے مفتی بہ قراردیاہے
بقولہ المعتبر مافی المتون لانھا موضوعۃ لنقل المذھب۱؎
 (اپنے اس قول کے ساتھ کہ معتبروہی ہے جوکچھ متون میں ہے کیونکہ وہ نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ت)
 (۱؎ العقود الدریۃ     کتا ب الفرائض    ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۳۴۰)
اورصاحب فتاوٰی خیریہ نے روایت شمس الائمہ سرخسی کوبہت نقول کے ساتھ مؤید کرکے مفتی بہ قراردیا یعنی عنداختلاف الجہۃ ولد عصبہ کو ترجیح ہے، علامہ شامی نے بھی اسی روایت کی بڑی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب تنقیح حامدیہ میں مفتی بہ قراردیا مگر
عنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ
 (اختلاف جہت کے وقت قوت قرابت کے ساتھ ترجیح۔ت) میں اضطراب کرکے امربمراجعۃ کتب کیاہے،
بقولہ بقی مااذا اختلفت الجھۃ فھل یرجح بقوۃ القرابۃ ام لا، اما علی روایۃ انہ لاترجیح لولدالعصبۃ علی ولد ذی الرحم فقد صرحوا بانہ لاترجیح ایضًا بقوۃ القرابۃ فلایرجح ولدالعمۃ لابوین علی ولد الخال اوالخالۃ لاب، قالوا وانما یعتبرذٰلک فی کل فریق بخصوصہ فالمدلولون بقرابۃ الاب یعتبرفیما بینھم قوۃ القرابۃ ثم ولد العصبۃ ای فیقدم ولدالعمۃ لابوین علی ولد العمۃ اوالعم لاب، و کذا المدلولون بقرابۃ الام فیعتبر فیھم قوۃ القرابۃ ولاتتصور عصوبۃ فی قرابۃ الام فولد الخالۃ لابوین مقدم علی ولد الخال لاب، واما علی روایۃ ترجیح ولدالعصبۃ عنداختلاف الجھۃ فلم ارمن ذکرانہ یرجح بقوۃ القرابۃ، بل ظاھر اطلاق ھذہ الروایۃ ترجیح بنت العم لاب علی ابن الخال لابوین وان کان ابن الخال اقوی منھا، ومقتضی مامرعن السید من التعلیل بان ترجیح شخص بمعنی فیہ اقوی من الترجیح بمعنی فی غیرہ یقتضی ترجیح ابن الخال فی المثال المذکور، ویؤیدہ ان الترجیح بقوۃ القرابۃ اقوی من الترجیح بکون الاصل وارثا فمن قال یرجح ولدالعصبۃ علی ولد ذی الرحم یلزمہ ان یرجح بقوۃ القرابۃ ایضا لانھا اقوی فتامل وراجع۱؎ اھ۔
اپنے اس قول کے ساتھ، باقی رہی اختلاف جہۃ کی صورت کہ کیا اس میں قرابت کی قوت سے ترجیح ہوگی یانہیں۔ اس روایت کی بنیاد پرکہ عصبہ کی اولاد کو ذی رحم کی اولادپرکوئی ترجیح نہیں مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قوت قرابت کے ساتھ بھی ترجیح نہیں ہوگی۔ چنانچہ حقیقی پھوپھی کی اولاد کو علاتی ماموں یاعلاتی خالہ کی اولاد پرترجیح نہ ہوگی۔ مشائخ نے کہاکہ قوت قرابت کااعتبار ہرفریق میں علیحدہ ہوگا۔ لہٰذا جورشتہ دار باپ کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہیں ان کے درمیان قوت قرابت پھرعصبہ کی اولاد ہونا معتبرہوگا یعنی سگی پھوپھی کی اولاد علاتی پھوپھی یاعلاتی چچاکی اولاد پرمقدم ہوگی۔ یونہی ماں کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہونے والوں کے درمیان قرابت کی قوت معتبرہوگی مگران میں عصبہ ہونا متصورنہیں ہے۔ چنانچہ حقیقی خالہ کی اولاد علاتی ماموں کی اولادپرمقدم ہوگی۔ لیکن اس روایت کی بنیادپرکہ جہت مختلف ہونے کے باوجود عصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی میں نے کسی شخص کونہیں دیکھا جس نے قوت قرابت کے ساتھ ترجیح کا ذکرکیاہو بلکہ اس روایت کے اطلاق کاظاہرتویہ ہے کہ حقیقی ماموں کے بیٹے پرعلاتی چچا کی بیٹی کوترجیح حاصل ہوگی حالانکہ ماموں کابیٹا چچا کی بیٹی سے اقوٰی ہے۔ اورسید کے حوالے سے جودلیل پہلے گزری کہ کسی شخص کو اس معنی کے اعتبارسے ترجیح جو اس کی ذات میں پایاجاتاہے اقوی ہے اس ترجیح سے جو اس کو غیرمیں پائے جانے والے معنی کے اعتبار سے حاصل ہو اس کامقتضٰی تومثال مذکورمیں ماموں کے بیٹے کی ترجیح کوچاہتاہے، اس کی تائید یہ بات کرتی ہے کہ قرابت کی قوت سے حاصل ہونے والی ترجیح اس ترجیح سے اقوی ہے جواصل کے وارث ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ جس نے کہاکہ عصبہ کی اولاد کو ذی رحم کی اولادپرترجیح ہے۔ اس کے لئے قوت قرابت سے ترجیح دینابھی لازم ہوگا کیونکہ یہ زیادہ قوی ہے۔ غورکراورمراجعت کرالخ(ت)
 (۱؎ العقود الدریۃ     کتاب الفرائض    ارگ بازار قندھارافغانستان    ۲/ ۳۴۱)
الغرض آپ کے نزدیک روایت شمس الائمہ مفتٰی بہ یامتون، اگرروایت شمس الائمہ مفتٰی بہ ہے توترجیح قوت قرابت بھی کی جائے گی،
کماھو رأی الشامی بقولہ ویؤیدہ الخ یانہ کما ھو الظاھر من اطلاق روایۃ السرخسی۔
جیساکہ شامی کی رائے ہے اس قول کے ساتھ کہ اس کی تائید کرتاہے الخ یانہیں، جیساکہ سرخسی کی روایت کے اطلاق سے ظاہرہے۔(ت)
پس بموجب متون قاعدہ اولاد صنف رابع اس طرح ہے:
یرجعون بقرب الدرجۃ ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق علیحدۃ الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بولد العصبۃ۔
وہ قرب درجہ کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں پھر باپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایک تہائی دیاجائے گا پھرہرفریق میں علیحدہ قوت قرابت، پھر اولاد عصبہ ہونے سے ترجیح ہوگی۔(ت)
اوربموجب ظاہراطلاق سرخسی قاعدہ یہ ہے:
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا۔
وہ قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں۔ پھرباپ کے تعلق والے فریق کودوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کوایک تہائی دیاجائے گا۔ پھرہرفریق میں قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے سے ترجیح ہوگی۔(ت)
اوربموجب مذاق شامی قاعدہ یہ ہے:
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا اتحدت الجھۃ اواختلفت ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث۔
وہ قرب درجہ، پھرقوت قرابت، پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں چاہے جہت متحد ہویامختلف، پھرباپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایک تہائی دیاجائے گا(ت) پس ان میں سے کس قاعدہ کومعمول بہ کیاجائے؟ بیّنواتوجروا۔
بخدمت حضرت مولانا صاحب علامۃ الدہرمولوی احمد رضاخاں سلمہ الرحمن، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔

چونکہ یہ خاکسار اس وقت ایک ایسے رسالہ علم میراث کی تصنیف میں لگاہواہے جونہایت سہل، مختصراورمنضبط قواعد پرمشتمل ہو، تقلید قواعد قدیمہ کی بالکل ترک کرکے جدیدقواعد ایسے ایجاد ہوچکے ہیں جوایک ہی عمل کے ذریعے سے مناسخہ تک مسئلہ جاتاہے کہ دوسرے عمل رد، عول تصحیح وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ علٰی ہذالقیاس ذوی الارحام اوراس کے مناسخہ کی تسہیل بھی پرلے درجہ تک کی گئی ہے، امیدکہ بعد تکمیل وہی رسالہ بنابرتقریظ حضور کی خدمت میں بھی ارسال کیاجائے گا، چونکہ اولاد صنف رابع کے قاعدہ تحریمی میں سخت اختلاف ہے لہٰذا حل ہونا اس مشکل کابغیرامداد آں حل المشکلات صاحب کمال کے سخت مشکل ہے اورکوئی دوسرااہل فن باکمال میری رائے میں موجودنہیں کہ حل کرسکے، پس بہرحال دوسرے شغل کوبالفعل بندفرماکر مکمل قاعدہ مفتٰی بہ بمع نقل عبارات فقہیہ لکھ کرارسال فرمائیں تاکہ بعینہٖ آپ کے فتوٰی کودرج رسالہ کیاجائے میرے پاس کوئی اورکتاب بجزشامی ودُر و  فتاوٰی تنقیح الحامدیہ کے نہیں ہے تاکہ صریح جزئی کامسئلہ حاصل کرسکوں، جوابی لفافہ مرسل خدمت ہے، جب تک جواب نہیں آئے گا میں سخت انتظار میں مضطرب رہوں گا اوررسالہ بھی ناقص رہے گا، 

ختم ۲۸مارچ ۱۹۱۸ء راقم خادم الشرع سراج احمد مدرس علوم عربیہ جہجہ ریاست بہاولپور ازطرف فقیراحمدبخش چشتی سجادہ نشین جہجہ شریف۔ تاکید مزید بعدسلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
Flag Counter