Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
80 - 145
مسئلہ ۲۰۰: لکھنؤ محلہ رکاب گنج گڈھیا متصل احاطہ کمال خاں ۲ مکان مرسلہ مہدی حسن خاں صاحب    مورخہ ۱۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں حضرات علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر اول سے دوپسرزید وبکر اورہندہ کے شوہرثانی سے ایک پسر خالد ہے، اورہندہ کے شوہرثانی کی زوجہ اولٰی سے ایک پسرولید ہے۔ خالد فوت ہوا اس نے ورثہ ذیل چھوڑے ایک بیوہ لاولداورزید وبکر برادران اخیافی اوربرادرعلاتی ولیدجوکہ رافضی المذہب ہے۔ توایسی صورت میں تقسیم ترکہ کن کن ورثہ پرہوگا؟ دیگریہ کہ متوفی نے جوجائداد چھوڑی ہے وہ متوفی کی خاص قوت بازو سے حاصل کی ہوئی ہے کسی مورث قدیم کاکچھ ترکہ اس میں شامل نہیں ہے اور بیوہ لاولد متوفی کی کسی وارثان استحقاق شدہ کو کچھ حصہ نہیں دیتی ہے بلکہ آمادہ جنگ وجدال ہے تو اس صورت میں نزدیک شرع شریف کے عنداﷲ گنہ گارہوگی یانہیں؟ فقط۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : بیوہ کامہرواجب الادا اگرقدر متروکہ سے زائد یابرابرہے اور وہ اس دعوٰی سے کسی وارث کوکچھ دینا نہیں چاہتی توگنہ گارنہیں ، وارث اگرمہر میں جائداد دینانہ چاہیں مہراداکریں اس کے بعد جائداد میں حصہ لیں، اوراگرمہر نہیں یا قدرمتروکہ سے کم ہے تو بیوہ کاکل جائداد پرقبضہ کرنا اوروارثوں کونہ دیناظلم ہے اوروہ گنہ گار۔ خالد کاترکہ حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہرودیگردیون وانفاذ وصایا وانحصار ورثہ فی المذکورین آٹھ سہم ہوکردوسہم زوجہ اورتین تین سہم دونوں اخیافی بھائیوں کو ملیں گے اورولیدبرادرعلاتی کوبوجہ اختلاف دین کچھ نہ ملے۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں فتاوٰی ظہیریہ سے دربارہ روافض ہے:
احکامھم احکام المرتدین۱؎۔
رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام کی طرح ہیں۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ   کتاب السیر  الباب التاسع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۶۴)
اوراسی میں ہے:
واختلاف الدین یمنع الارث۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
دین کامختلف ہونا میراث سے مانع ہے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎الفتاوی الہندیۃ    کتاب الفرائض     الباب الخامس    ۶/ ۴۵۴)
مسئلہ ۲۰۱:  ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ کوٹ غربی متولیان مسئولہ سیدمحمدعلی صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایک شخص سنی المذہب کاانتقال ہوا اور اس نے اپنی دوبہنیں سنی المذہب اورایک بیٹی شیعی المذہب چھوڑیں، شرعاً اس صورت میں ترکہ متوفی کس طرح تقسیم کیاجائے گا؟
بیّنوابالکتاب توجروا یوم الحساب
 (کتاب سے بیان کرو حساب کے روز اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض متوفی کاترکہ نصف نصف دونوں بہنوں کوپہنچے گا اوربیٹی کو کچھ نہ ملے گا۔
عالمگیریہ میں ہے:
احکامھم احکام المرتدین کذا فی الفتاوی الظھیریۃ۱؎۔
رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام جیسے ہیں۔ فتاوٰی ظہیریہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب السیر        الباب التاسع        نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۶۴)
اسی میں ہے:
المرتدین لایرث من مسلم ولامن مرتد مثلہ کذا فی المحیط۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مرتد نہ تومسلمانوں کاوارث بنتاہے اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔ ایساہی محیط میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎الفتاوی الہندیۃ    کتا ب الفرائض    الباب السادس     نورانی کتب خانہ پشاور   ۶/ ۴۵۵)
مسئلہ ۲۰۲: ازشہر بہارچوک بازارپٹنہ دکان پارچہ حاجی ناصرعلی محمدابراہیم ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ

زیدنے انتقال کیا، تین لڑکے چھ لڑکیاں چھوڑیں جن میں چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں اور دونابالغہ اورایک لڑکا نابالغ، اوراحد و محمود دولڑکے بالغ، یہ پانچوں اوران کی والدہ ایک ساتھ رہے، اور کل متروکہ انہیں کے قبضہ میں رہا۔ وہ چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں، وقت انتقال زیدحق پدرکی طالب نہ ہوئیں، متروکہ پدری سے احدومحمود نے تجارتیں کیں کچھ ایسے ہی اورکچھ میں مضارب بن کر جس سے عظیم کاروبار ہوگیا وہ چاروں دختر اب پدری حق چاہتی ہیں اورکہتی ہیں کہ جوکچھ تجارتوں میں زیادتی ہوئی ہے وہ بھی ہمارے ہی باپ کامال ہے اس میں بھی ہماراحق ہوناچاہئے، اس صورت میں کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت) اوراگرنفع میں بھی ان کوحصہ دیاجائے توکیا اس نفع سے بھی حصہ ملے گا جس میں احدومحمود مضارب ہوئے تھے؟
الجواب : جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگا نہ لڑکوں نے دیا اوربطور خود اس میں تجارت کرتے رہے تو وہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں تجارت سے جونفع ہوا وہ لڑکیاں اس کی مالک نہیں، ہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا لڑکوں کے لئے ملک خبیث ہے لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیں، ان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولٰی ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملک کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعاً حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو صلہ رحم ہو صاحب حق کی ملک کانفع اسی کوپہنچے، واﷲ تعالٰی اعلم
اوراس میں برابرہے وہ نفع کہ انہیں مال متروکہ کی تجارت پرملا اور وہ جس میں احد ومحمود مضارب ہے کہ ان چارلڑکیوں نے نہ حصہ طلب کیا نہ ان کومضارب کیا، بطورخود مضارب بن جانا مہمل محض ہے اوراگرماں نے مضارب کیاتوان چارلڑکیوں کے حصوں پر اسے بھی کوئی اختیارنہ تھا بہرحال ان کاحصہ ان کے ہاتھ میں بطور غصب رہا اور اس پرنفع جس طرح بھی حاصل ہوا خبیث ہوا اور اس کاوہی حکم ہے جوگزرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: ازبمبئی محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مسئولہ محمدعثمان صاحب سنی حنفی قادری ۶شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایک نادارشخص ہے جس کی اہلیہ اور ایک دختر تین سال کی ہے قرض لے کراپنی زوجہ ودختر کوزیوربنادیااوراب بھی مقروض ہے اس کی خوشدامن بغیراجازت زیداپنی لڑکی اورنواسی کواپنے مکان پرلے گئی اور آنے نہ دیا اس درمیان میں زوجہ زید بیمارہوگئی اورحالت بیماری میں اپنے شوہر کودوآدمیوں کے روبروبلواکرمہرمعاف کردیا۔ زیدنے قرض لے کر تجہیزوتکفین کردی اب خسرزید زیوراورنواسی کودینے سے انکارکرتاہے کہ تمہارا اب کوئی حق نہیں اورنہ تمہاری ہمشیرہ کو لڑکی کے پرورش کرنے کاکوئی حق ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں زیور اورنواسی کونہ دینا کیاحکم شرع رکھتاہے؟
بیّنوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا
 (تسلی بخش طورپربیان کروپھرپورااجرپاؤگے۔ت)
الجواب:  اگرزوجہ ودختر کوزیورکامالک نہ کردیاتھانہ وہاں کے عرف ورواج سے مالک کردینا مفہوم ہوتاہوتواس زیورکامالک خود زید ہے عورت کاماں باپ کو اس کے رکھ لینے کاکوئی حق نہیں اوراگرمالک کردیاتھا جب بھی لڑکی کازیوروہ نہیں رکھ سکتے کہ نابالغہ لڑکی کاولی اس کاباپ ہے نہ کہ نانانانی۔ رہا عورت کازیور اس کے تیرہ حصوں میں سے چارحصے اس کے ماں باپ کے اورتین حصے شوہراورچھ حصے لڑکی کے، عورت کے والدین اپنے چار حصے لے سکتے ہیں، باقی نوحصے لینے اوررکھنے کامستحق اس کاشوہرہے۔ یوں ہی مہرکے تیرہ حصوں میں سے تین حصے بحق شوہر ساقط ہوگئے اورچھ حصے کہ حق دختر ہیں نانا نانی ان کامطالبہ نہیں کرسکتے اپنے چارحصے مانگ سکتے ہیں، اگرعورت کا معاف کرنا کہ مرض الموت میں تھا منظورنہ رکھیں اوراگربعد مرگ زن اس معافی کومنظورکرچکے ہوں تو ان کامہرمیں کوئی حق نہ رہا لڑکی نوبرس کی عمرہونے تک نانی کے پاس رہے گی پھرباپ لے لے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter