Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
79 - 145
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۶: ازکانپور نئی سڑک دکان حاجی رحیم بخش وحاجی فہم بخش مرسلہ کاظم حسین صاحب ۲۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زیدفوت ہوگیا اور اپنی بیوی اورایک نابالغہ لڑکی چھوڑی، عمروجوزیدکاباپ ہے اس وجہ سے کہ اس نے ایک غیرکفو کی عورت سے بعد وفات والدہ زیدنکاح کرلیاتھا ہمیشہ زیدسے علیحدہ رہا۔ اب بعد وفات زید زید کی جائداد پرناجائزصورت سے قابض ہوگیاہے اوراتلاف جائداد کی نیت سے لڑکی نابالغہ کاولی بنناچاہتاہے۔ اس صورت میں کیاحکم ہے؟

اوّل زید کی متروکہ جائداد زید کی لڑکی وبیوی پرتقسیم ہونے کی کیاصورت ہے؟

دوم زیدکے متروکہ میں عمروکا اورزید کے علاتی بھائی خالد کاکوئی حق ہے یانہیں؟ ہے توکتنا؟

سوم ایسی حالت میں جبکہ عمرو کی ولایت سے جائداد کے تلف ہوجانے کااحتمال ہے تو نابالغہ کی ماں ولیہ نابالغہ ہوسکتی ہے یانہیں؟
الجواب : بعدادائے مہرودیگردیون حسب شرائط فرائض متروکہ زیدکے آٹھ حصوں سے ایک حصہ اس کی زوجہ اورچارسہم دختر اورتین سہم عمرو کوملیں گے
فرضًا وعصوبۃً
 (بطور فرض اور بطورعصبہ) اورعلاتی بھائی کاکوئی حق نہیں شریعت مطہرہ نے پدرووصی پدرکے بعد نابالغ کے مال کا ولی اس کے دادا کوبنایاہے ماں کسی طرح ولی مال نہیں، نہ کہ داداپر اس کوترجیح ہو۔
درمختارمیں ہے:
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نابالغ کاولی اس کے مال میں اس کاباپ پھر باپ کاوصی پھر اس کادادا پھردادا کاوصی ہوتاہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ الدرالمختار     کتاب الماذون    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۰۳)
مسئلہ ۱۹۷: مرسلہ حافظ جان محمدصاحب ساکن گندہ نالہ شہربریلی 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے انتقال کیااورایک مکان واسطے ادائیگی مہراپنی بیوی کے چھوڑا ایک لڑکاپانچ لڑکیاں اولاد چھوڑی ایک لڑکی کی شادی والد نے خود کردی ۴لڑکیاں رہیں ان لڑکیوں کی والدہ نے اپنے لڑکے سے کہاکہ تم اپنی کمائی سے ان کے عقدنکاح کاانتظام کردو اس مکان کاتم کومالک کیا چنانچہ لڑکے نے حسب فرمان اپنی والدہ کے چاروں کا عقد نکاح کردیا بعد کووالدہ نے انتقال کیا اس کے بعد دولڑکیاں انتقال کرگئیں بعد اس کے اس لڑکے نے بھی انتقال کیا اس نے تین ہمشیرہ اوراپنی بیوی اوردولڑکے اورچارلڑکیاں چھوڑیں بعد کوایک ہمشیرہ اورانتقال کرگئی لیکن ان سب کی اولاد موجودہیں کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنا حصہ طلب کرتے ہیں اورایک وہ ہمشیرہ جس کی شادی خود والد نے کی، زندگی میں نہ کسی نے مکان پر قبضہ کیانہ طلب کیا اوراس لڑکی کے ذمہ قرضہ دیناہے جتنے کامکان کاحصہ ہے اتنا قرضہ بھی ہے، پس اس صورت میں شریعت مطہرہ کیاحکم دیتی ہے؟ آیالڑکی یاان کی اولاد کوحصہ مل سکتاہے یانہیں؟ اورلڑکے کی بیوی کو اوراولاد کوحق پہنچے گا یاقرض اداکیاجائے گا؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : ماں نے جولفظ لڑکے سے کہے تھے کہ ان کانکاح کردوتمہیں مکان کامالک کیا اس سے ہبہ خواہ بیع کہ ٹھہرائیں جبکہ ماں بلکہ لڑکابھی قبل قبضہ مکان انتقال کرگئے لڑکا کسی طرح اس مکان کامالک نہ ہوا ہبہ میں توظاہرکہ قبل قبضہ ان میں ایک کی موت سے باطل ہوتاہے اوربیع میں یوں کہ یہ بیع بوجہ جہالت ثمن باطل تھی اوربیع فاسد میں قبل قبضہ مشتری مالک نہیں ہوتا۔
درمختارمیں ہے:
اذا قبض المشتری المبیع برضاء بائعہ فی البیع الفاسد ولم ینھہ ملکہ۱؎۔ (ملتقطا)
جب مشتری بیع فاسد میں بائع کی رضامندی سے مبیع پرقبضہ کرلے اوربائع اس کومنع نہ کرے تووہ مبیع کامالک ہوجائے گا۔(بالالتقاط)۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب البیوع     باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۸)
تومکان کہ ماں کے مہر میں تھا اسی کی ملک رہا اس کے لڑکے اورپانچوں لڑکیوں سب کا اس میں حصہ ہوا جوموجود ہیں ان کو اورجن کاانتقال ہوگیا ان کی اولاد ورثہ کوحصہ پہنچے گا، جوحصہ اس پسرکاہوگا اس سے جوقرضہ اس پرہے اداکیاجائے گا اگرکچھ بچاتو اس کی زوجہ اوربیٹے بیٹیاں پائیں گے ورنہ کچھ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: ازپولیس لائن ضلع سیتاپور مرسلہ عرفان خاں کانسٹیبل محرر ۲شعبان ۱۳۳۸ھ

اصغری بیگم کاخاوند مرگیا، اصغری بیگم کے ایک لڑکا بالغ عرفان خاں اور ایک نابالغہ لڑکی مظہری بیگم ہے، مسمّاۃ بیوہ نے مظہری کاعقد بکرکے ساتھ کرناچاہااورعرفان خاں کوخط لکھا کہ میں تمہاری بہن مظہری بیگم کاعقد بکرکے ساتھ کرناچاہتی ہوں تمہاری کیارائے ہے۔ عرفان خاں نے اپنی ماں کوجواب دیاکہ بکربدچلن اورخلاف شرع شخص ہے مجھے اپنی بہن کاعقد اس سے منظورنہیں باوجود ممانعت عرفان خاں ماں نے بولایت خود خلاف مرضی عرفان خاں بکر کے ساتھ مظہری کاعقدکردیا اور پندرہ دن بعد بذریعہ خط عرفان خاں کوعقد مذکورکی اطلاع دی عرفان خاں نے جواب دیاکہ تم نے میری بلااجازت اورخلاف مرضی جونکاح مظہری کابکرکے ساتھ کردیاہے میں اس کوہرگزنہ مانوں گا اورمظہری کی رخصت بکرکے ساتھ نہ کروں گا نکاح کوڈھائی سال ہوئے مظہری اب بالغہ ہے اور اس نکاح سے اپنی نارضامندی ظاہرکرتی ہے اور فسخ کراناچاہتی ہے کیاحکم ہے ؟
الجواب : اگریہ بیان صحیح ہے توعرفان خاں نے جس وقت نکاح کی اطلاع پانے پراس نکاح کے ماننے سے انکارکیااسی وقت وہ نکاح رَد ہوگیا اور مظہری کوبکرسے کچھ علاقہ نہ رہا فسخ کی کیاحاجت کہ وہ سرے سے نہ رہا مظہری کواختیارہے جس مناسب جگہ چاہے نکاح کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: ازمدرسہ عین العلوم پوسٹ برتلہ ۲۴ پرگنہ مرسلہ محمدسراج الدین صاحب ۱۲/رمضان ۱۳۳۸ھ

زید نے انتقال کیا اورزوجہ واب وام وایک اخت عینی وارث چھوڑے ہرایک کاحصہ کیاہوگا اگر اس صورت میں ام کوثلث مابقی ملے توسراجی کی عبارت ذیل کاکیامطلب ہوگا:
وثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذٰلک فی مسألتین زوج وابوین اوزوجۃ وابوین۱؎۔ بیّنواتوجروا۔
ماں کو زوج یازوجہ کاحصہ نکالنے کے بعد باقی کا تہائی ملے گا اور وہ دومسئلوں میں ہوتاہے: (۱) میت نے خاوند اوروالدین چھوڑے ہوں۔ (۲) میت نے بیوی اوروالدین چھوڑے ہوں۔ بیان کیجئے اجرپاؤگے۔(ت)
 (۱؎ السراجی فی المیراث    فصل فی النساء    مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی     ص۱۸)
الجواب : ہاں اس صورت میں ام کو ثلث باقی ملے گا اوریہ عبارت سراجیہ کے مخالف نہیں، وہی صورت زوجہ وابوین کی ہے کہ اخت عینیہ کاوجودوعدم یکساں ہے کہ خود محجوب بالاب ہے اورام کو حاجبہ عن الثلث نہیں، ہاں دو عینیہ ہوتیں توام کو سدس ملتا زوجہ کو ربع باقی اب کو عصوبۃً۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter