Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
78 - 145
مسئلہ ۱۸۹: ازشہربریلی محلہ گندانالہ مسئولہ حافظ محمدجان صاحب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نے انتقال کیا اس نے دولڑکے چھوڑے، ایک لڑکے کواپنی زندگی میں جوکچھ اس کے پاس چیزتھی وہ دے دی اور اس پراس کو قابض کرگئی، لڑکے نے والدہ کی زندگی میں اس میں سے صرف بھی کیا اپنے اختیارسے، اورجوکچھ باقی رہا وہ اس کے قبضہ میں ہے، پس اس صورت میں شریعت مطہرہ دوسرے لڑکے کوکچھ دلاسکتی ہے یانہیں؟

الجواب : اگرمرض الموت سے پہلے دے کر قبضہ تامہ دے گئی تھی تودوسرے لڑکے کااس میں کچھ حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۰:  ازشاہجہانپور مرسلہ شیخ علی حسین صاحب     ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہ کوئی وراثت کانہیں حق رکھتا اور شرعاً ترکہ کابوجہ من الوجوہ ذی استحقاق نہیں ہوسکتا، اب بحالت مول لینے جائداد ترکے کے ترکہ دین مہرپانے کاجوحق بیچنے والے وارثوں کاہے کیایہ خریدنے والادعوٰی کرسکتاہے کہ جائداد ترکہ لینے سے مجھ کوترکہ دین مہر پانے کاحق حاصل ہے اوردعوٰی اس کاشرعاً جائزہے یانہیں؟
الجواب : ہرگزخریدار ترکہ کوکوئی استحقاق دعوی مہرکانہیں مہر کی مالک عورت ہے نہ کہ یہ مشتری متروکہ بلکہ اگرقبل ادائے دین مہرودیگردیون(اگرہوں) ورثہ غیرزوجہ نے جائداد بیع کردی اورمہرتنہا یامع دیگردیون جائدادمتروکہ کومحیط یعنی اس کے مساوی یازائد ہے توزوجہ ودیگر دائنان کواختیارہے کہ یہ بیع رَد کردیں اوراپنے مہرودیون اس سے وصول کریں،
فان الترکۃ المستغرقۃ بالدیون لاتصیر ملکا للورثۃ کما فی الاشباہ ۱؎ وغیرھا۔
جس ترکہ کوقرضوں نے گھیررکھا ہو وہ وارثوں کی ملکیت نہیں ہوتا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث القول فی الملک    ادارۃ القرآن کراچی     ۲/ ۲۰۴)
اوراگرمتروکہ کے ساتھ عورت سے اس کامہربھی مشتری نے خریدلیاہے جب بھی اس کادعوٰی باطل ہے کہ دین غیرمدیون کے ہاتھ بیع نہیں ہوسکتا، اشباہ ودرمختار وغیرہا میں تصریح ہے کہ:
بیع الدین ممن لیس علیہ باطل۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قرض کی بیع اس شخص کے ہاتھ کرنا جس پروہ قرض نہیں ہے باطل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الہبۃ        فصل فی مسائل متفرقہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۶۶۔۱۶۵)
مسئلہ ۱۹۱:  ازہلدوانی ضلع نینی تال مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ اسرارالحق صاحب ۱۶صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج زوجہ کاانتقال ہوگیابعدانتقال کے روپیہ نقد اورزیورچھوڑا، روپیہ اورزیور کوبرادری نے جمع کرلیا شخص مرنے والے کی ایک بھتیجی حقیقی یعنی حقیقی بھائی کی لڑکی بیوہ اوریتیم بچے ہمراہ، اوربرادری یہ بات کہتی ہے کہ یہ روپیہ اورزیور مسجدکودے دیناچاہئے اوربھتیجی کونہ دینا آیا اس صورت میں بھتیجی بیوہ کاحق نکلتاہے یانہیں یاکہ مسجد کودے دیں، اس صورت میں مسجدکودیناجائزہے یاناجائز؟ زوجہ مرنے والی کے بھائی بھانجے ہیں وہ بھی اس روپیہ زیورمیں سے حصہ کے دعویدارہیں یانہیں؟ مگریہ بھائی بھانجے حقیقی نہیں ہیں اوردوررشتہ کے ہیں ان کابھائی حق روپیہ زیورمیں سے نکلتاہے یانہیں؟
الجواب : برادری کاکہنا قابل سماعت نہیں، وہ مال وارثوں کاہے، زوج یا زوجہ جس کا مال ہے۔ اس کے جو وارث ہوں اگرچہ کتنے ہی دورکے رشتہ کے بھائی یعنی دادا پردادا کی اولاد کے بھائی ان میں جوقریب ترہے وہ وارث ہوگا اس کے ہوتے بھتیجی بھی وارث نہیں، نہ بے اجازت وارث، ایک جبّہ اس میں سے مسجد میں لگاناجائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۲: ازچتورگڑھ میواڑ مرسلہ فتح محمد ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قوم میں تقسیم ترکہ کارواج نہیں تو ایسے مال سے کہ جس میں بالغ اورنابالغ وارث ہیں کھانالینا دیناخیرات کاہونا جائزہے یاناجائز جب کہ بالغ بھی وارث مال ہیں اور وہ کریں جیسے کاکوکریم بخش کی صورت کہ تقسیم ترکہ ہوتاہی نہیں اناث تو متروک الارث سمجھے جاتے ہوں اورذکورہی صرف وارث بنے جاتے ہیں ہمارے یہاں تو بالغین کاصرف کرنا کیسا؟
الجواب : اناث کومحروم کرنا حرام قطعی ہے ہنودکااتباع اورشریعت مطہرہ سے منہ پھیرنا ہے جبکہ اس میں نابالغوں کا حق مخلوط ہے اورمعلوم ہے کہ یہ خالص اپنے حصے سے نہیں کرتے بلکہ کل کو اپناہی حصہ جانتے ہیں تو اس میں سے نہ کھانا جائزنہ کچھ لینا۔
قال اﷲ تعالٰی انّ الذین یاکلون اموال الیتٰمٰی ظلما انما یاکلون فی بطونھم ناراً وسیصلون سعیرا ۱؎۔
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) وہ جویتیموں کامال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نہیں بھرتے مگرآگ اورعنقریب بھڑکتی آگ میں جائیں گے۔
والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴/ ۱۰)
مسئلہ ۱۹۳: ازدفتر صدراول بزم حنفیہ لاہور خواجگان منزل مرسلہ مولوی حکیم عبدالحمیدصاحب صدراول ۲۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے اہل اسلام مفتیان حنفیہ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نہایت متشرع فوت ہوا۔زیدعمرو، بکر، خالد اور زبیدہ وہندہ یہ چھ اولادیں چھوڑیں۔ نمبر۱ و۲ و۳ نے اس کے ترکہ کو بقوانین شرع تقسیم پرصاف انکارکیا، نمبر۳ کی طرف سے اس پرڈیڑھ سال تک اعتراض اورانکارہوتا رہا بالآخرانہوں نے جوثالث کیا اس نے بھی فیصلہ بحق ہرسہ بالابخلاف شریعت کردیا۔ اس فیصلہ میں نمبر۳ کابہت ساحق زائل کرلیاگیا زبیدہ بھی خلاف شرع حصہ پاچکی ہے مگرہندہ جوبعد متوفی فوت ہوگئی، اب فریق نمبر۳ اپنے قلیل حصہ سے بھی جو اس کو وراثۃً ملاہے اپنی ہمشیرہ مرحومہ کے شرعی حصہ سے سبکدوش ہوناچاہتاہے مرحومہ کی سسرال اوربالخصوص خاوند فاسق فاجر عقائدمیں صلح کل جس کاپسر
الولد سرّ لابیہ
 (بیٹا اپنے باپ کابھیدہوتاہے) ہے پس فریق نمبر۳ حیرت میں ہے کہ مرحومہ کاورثہ کس کو اداکیاجائے اس کاارادہ ہے کہ یہ حصہ بنام بزم حنفیہ کردیاجائے اوروہ بتدریج اشاعت مذہب حنفیہ وحمایت کلام مجید صرف کرے، اب استفسار ہے کہ کیا اس صورت میں جب کہ لڑکا بھی فاسق فاجرکے قبضہ میں ہے اگریہ روپیہ اس کودے دیاجائے توفسق وفجوراوربدمذہبی میں صرف ہوگاتو کیا اس ترکہ کو(جویک صدروپے کے اندراندرہوگا) بزم حنفیہ حمایت کلام مجید اوراشاعت مذہب اہلسنت میں صرف کرسکتی ہے یانہیں؟
الجواب : سوال زائدباتوں سے بہت مفصّل اورضروری باتوں سے نہایت مجمل ہے کیسی تقسیم خلاف شرع ہوئی اگراس شیطانی مسئلہ پرعمل ہوا جوآج کل شیاطین الانس میں ہے کہ بنات کوترکہ نہیں دیتے توزبیدہ کوکیسے ملااورپسرسوم کاحق کیسے زائل ہوا اوراگریہ ہے کہ تینوں بیٹوں اورایک بیٹی نے باہم لے لیا اور ایک دختر کوکچھ نہ دیا اورپسرسوم کو اس کے حصہ سے بہت کم دیا اس صورت میں اس دختر کے حصہ کا اس پسرپر کیابارہے؟ اس نے اس کا کیادبایاہے جس سے سبکدوشی چاہتاہے؟ ترکہ کیاچیزہے اورتقسیم کس طرح؟ صاف تحریر فرمائیں کہ جواب دیاجائے، واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter