مسئلہ ۱۸۵: ازدربھنگہ قلعہ گھاٹ مرسلہ غلام اکبر ۱۴/رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک ہندو مرا اوراس کی بی بی مرنے کے بعد اس کی کل جائداد پرقابض ودخیل ہوئی اوراپنا اندراج نام بھی دفاتر گورنمنٹی میں کرایا۔ چندسال کے بعد وہ مسلمان ہوگئی تواب جائداد مذکورہ بعد تبدیل مذہب زن نومسلمہ کوشرعاً ملے گی یانہیں؟
الجواب : جوچیز اس وقت اس کی ملک سمجھی جاتی تھی وہ بعداسلام بھی اس کی ملک رہے گی، اسلام قاطع ملک نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۶: ازججہ کلاں ڈاکخانہ خاص ضلع لاہور براستہ چھانگامانگا سب آفس بلوکی مرسلہ عبدالرحمن صاحب ۵/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے حقیقی بھائی خوردعمروکو بصدمحنت تعلیم کتب دینیہ کی دے کر اچھاخاصہ اہل علم بنادیا اوردیگرحقوق خوردہونے کے بھی اداکئے مگرعمرو اس جوہرکانکلاکہ جملہ حقوق پرخاک ڈال کر بے مروّتی پرکمرباندھ لی اوراپنے بڑے بھائی واستاد وہمسایہ کی ایذارسانی پرکوئی دقیقہ نہ اٹھارکھاحتی کہ فی الحال بلاولد زید کے عمرو زیدکی موت کاملتجی ہے اورزیدنے ان حرکات ناشائستہ سے تخمیناً عرصہ سات برس تک صبرکیامگر جب طاقت بشری تحمل کی نہ رہی تومجبوراً زیدکو عمروکاعاق کرناپڑا، کیایہ عمرو عاق کرنے کے لائق ہے یانہیں؟ اورعاق ہونے کے بعد وراث ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب : صورت مذکورہ میں عمرو ضرورعاق وفاسق ومستحق عذاب النارہے مگرعقوق بمعنی ارث نہیں۔
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ۱؎۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے ہرحقدارکواس کاحق عطافرمادیاہے۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال حدیث ۴۶۰۵۶ و ۴۶۰۵۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۶۱۴)
نہ عاق کردینا شرع میں کوئی اصل رکھتاہے نہ اس سے میراث ساقط ہو،ہاں اگرزیدچاہے تواپنی جائداد وقف اہلی کردے اوراس میں عمرو کے لئے شرط لگادے کہ اگروہ اپنے حال کی اصلاح کرے اوران ان باتوں کاپابند ہوتو اس قدرپائے ورنہ نہ پائے، یوں مقصود زیدحاصل ہوسکتاہے، اوراگر امیداصلاح نہ ہو اوربالکل محروم کردے جب بھی حرج نہیں کہ فاسق کومیراث سے محروم کردینے کی اجازت ہے یہ تو وقف ہے۔
فتاوٰی خلاصہ و لسان الحکام وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ان یصرف مالہ الٰی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھٰذا خیر من ترکہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر اس کی اولاد فاسق ہواور وہ چاہے کہ اپنا مال نیکی کے کاموں میں خرچ کردے اورفاسق اولاد کو اس سے محروم کردے تویہ اس کے لئے بہترہے بنسبت اس کے کہ وہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۱)
مسئلہ ۱۸۷: ازشہرسیالکوٹ بازار پینج پورہ زیرقلعہ مرسلہ امام الدین صاحب ۵شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید تین لڑکے چھوڑ کرمرگیا دوبڑے عمروبکر شادی شدہ تھے اورتیسراخالد کم سن غیرشادی شدہ تھا عمروبکر نے جوقرضہ والدکاتھا وہ اپنے ذمے لے لیا اورمکان کاتیسراحصہ اور مبلغ دوصد روپیہ شادی کے واسطے اس چھوٹے بھائی خالد کو دے دئیے اورقرضہ اورجائداد دونوں بڑے بھائیوں نے نصف نصف کرلیا اس کے بعد بڑابھائی عمروفوت ہوا اوراس کی عورت کوچھوٹے بھائی خالدنے اپنے ساتھ نکاح کرلیا، عمرو کی دولڑکیاں تھیں چونکہ وہ کم سن غیرشادی شدہ ہیں اس واسطے وہ بھی اپنی والدہ کے ہمراہ خالد اپنے چچا کے پاس آئیں۔ اس نے اپنی مرضی سے بڑی لڑکی کانکاح کردیا اس کے بعد دونوں لڑکیاں فوت ہوگئیں، اب اس کے پاس عمرو کی سب جائداد معہ عورت موجودہے اوردوسرے بھائی بکر کوکچھ نہیں دیتا اور جورقم مبلغ دوصدروپیہ کی اس کو قبل تقسیم اس کی شادی کے واسطے دئیے گئے تھے وہ بھی اس کے پاس ہے کیونکہ اس کی شادی پروہ خرچ نہیں ہوئے کیونکہ رانڈبھاوج سے نکاح کرلیاہے اب کس طرح اس جائداد کو تقسیم کیاجائے نیزان تینوں بھائیوں کی نانی حقیقی کو ان کے والدمرحوم زیدنے کچھ حصہ مکان کا بیع کردیا ہواتھا وہ بھی مرگئی وہ بھی اسی خالد کے قبضے میں ہے اس میں سے بھی عمرو بکر کوحصہ آتاہے یانہیں؟
الجواب : سوال میں کچھ نہ بتایا کہ مکان کے علاوہ زید کی باقی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ وجنس ترکہ کس قدرتھا اور اس پرقرض کتنا، نہ یہ کہ دونوں لڑکیوں میں پہلے کون مری، اور جس کی شادی ہوگئی تھی اس کے بعد اس کاشوہریاکوئی بچہ رہایانہیں، اوردوسری کی شادی ہوئی تھی یانہیں ہوئی، تو اس کے وارث کون کون سے رہے، ان کی ماں ان کی نانی سے پہلے مری یابعد، اس کے کون کون ورثہ رہے، تقسیم جائداد کاجواب بے تفصیل کامل ورثہ وترتیب اموات نہیں ہوسکتا، اتنا اجمالاً کہاجاسکتاہے کہ اگربعدادائے قرضہ زیداس کامتروکہ چھ سوروپے سے زیادہ کاتھا اورخالد کو صرف دوسوپہنچے توعمروبکرکے پاس خالد کاحق رہا اورجائداد باہم بانٹ لینا اورخالد نابالغ کوروپیہ دینایہ بھی ناجائزتھا پھرخالد کاجتنا حق عمروکے پاس رہا وہ توخالد کے قبضے میں آہی گیا جتنا بکرکو گیاتھا اگروہ ان حصوں کے برابر ہے جوبکرکودختران عمرو اوراپنی نانی کے مال سے پہنچتے ہیں تو برابرہوگئے ورنہ بکر یاخالد جس کے پاس پہنچاہواہے وہ دوسرے کودے کہ حق العباد سے پاک ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸ : ۲۶/رمضان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک لڑکااورتین لڑکیاں ہیں اورلڑکے کی ولایت ثابت ہوچکی ہے لڑکابدچلن اوربدوضع ہے اوراپنی ہمشیرگان وپدرکونہایت تکلیف دہ ہے زیداسے عاق کرناچاہتاہے کہ وہ آئندہ میری لڑکیوں کے اورمیرے متروکہ میں اگرکچھ میرے پاس باقی بچے تووہ اس حق سے جومجھ سے پہنچے اورلڑکیوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے عاق کرناکس حد تک جائزہے؟
الجواب : عاق کرناشرع میں کوئی چیزنہیں، نہ وہ اس کے سبب ترکہ سے محروم ہوسکے، ہاں اگروہ واقعی فاسق وآوارہ ہے تویہ جائزہے کہ اپناسب مال بذریعہ وقف علی الاولاد یابذریعہ بیعنامہ یاجداجدا تقسیم کرکے قبضہ دے کربذریعہ ہبہ نامہ اپنی بیٹیوں کے نام کردے یوں بیٹے کوآپ ہی کچھ نہ پہنچے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم