اختیار شرح مختار پھرفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لوترک ابا وام اب وام ام فام الاب محجوبۃ بالاب واختلفوا ماذا لام الام قیل لھا السدس وقیل لھا نصف السدس۱؎ اھ
اگرکسی شخص نے باپ، دادی اور نانی چھوڑی تو دادی باپ کی وجہ سے میراث سے محروم ہوگی، اورنانی کے بارے میں مشائخ نے اختلاف کیا۔ ایک قول ہے کہ اس کوچھٹاحصہ دیاجائے گا اوردوسراقول ہے کہ اس کوبارہواں حصہ ملے گاالخ۔
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الرابع فی الحجب نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۳)
اقول: مامنزع القول الاخر الاالقیاس علی مسئلۃ اب وام واخوین فانھما محجوبان بالاب و یحجبانھا من الثلث الی السدس کذالک ام الاب محجوبۃ بالاب وتحجب الامیۃ من السدس الی نصفہ وھذا لیس شیئ۔ اما اولاً فلان حجب النقصان یکون من فرض الٰی فرض دونہ ولافرض للجدّۃ الا السدس وماکان التنصیف لان فرضھا اذ ذاک نصف السدس بل لیس فرضھا الا السدس وکانت کل منھما تدعیہ لنفسھا کملا فجعلناہ بینھما نصفین علی سبیل المنازعۃ لعدم المرجح کما اذا اقام کل من الخارجین علی ان الارض لہ فانھا تنصف بینھما کذٰلک ھٰھنا فاذا سقطت مزاحمۃ الابویۃ لحجب الاب ایاھا بقیت دعوی الامیۃ بلامعارض فکان لھا السدس کملا کما اذاکان لدار شفیعان متساویان وادعی کل منھما جمیع الدار المشفوعۃ ثم عرض لاحدھما مایسقط حقہ کانت الدار کلھا للثانی لزوال المزاحمۃ ۔
میں کہتاہوں دوسرے قول کاماخذ توفقط باپ، ماں اور دوبھائیوں کے مسئلہ پرقیاس ہے کیونکہ دونوں بھائی باپ کی وجہ سے محروم ہوں گے اوروہ دونوں ماں کو تہائی سے محروم کرکے چھٹے حصے کی طرف منتقل کردیں گے۔ اسی طرح دادی باپ کی وجہ سے محروم ہوگی حالانکہ وہ نانی کوچھٹے حصے سے بارہویں حصے کی طرف منتقل کردے گی۔ اوریہ بوجوہ کوئی شیئ نہیں۔ وجہ اول کیونکہ حجب نقصان ایک مقررہ حصے سے دوسرے مقررہ حصے کی طرف ہوتاہے جوپہلے حصے سے کمترہوجبکہ جدّہ کامقررہ حصہ صرف چھٹاہے اوراس کو نصف نہیں کیاجائے گا، اس لئے کہ اس صورت میں جدّہ کامقررہ حصہ چھٹے کانصف(بارہواں حصہ) ہوجائے گا حالانکہ ایسانہیں بلکہ اس کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے تو ان دونوں (دادی اورنانی) میں سے ہرایک اپنے لئے پورے چھٹے حصے کادعوٰی کرے گی۔ چنانچہ ہم نے منازعت کے باعث اورمرجح نہ ہونے کی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ان دونوں کے درمیان نصف نصف کردیا۔ جیساکہ بائع اورمشتری کے علاوہ دواجنبی مردوں میں سے ہرایک نے اس بات پرگواہ قائم کردئیے کہ فروخت شدہ زمین اس کی ہے تو وہ زمین دونوں کے درمیان نصف نصف کردی جائے گی۔ ایساہی یہاں بھی ہوگا۔ جب دادی کی مزاحمت اس وجہ سے ختم ہوگئی کہ باپ نے اس کومحروم کردیاہے تونانی کادعوٰی بلامنازعت رہا لہٰذا اس کومکمل چھٹاحصہ دیاجائے گا۔ جیسے کسی گھرکے دومساوی شفیع ہوں اورہرایک شفعہ والے پورے گھرکادعوٰی کرے پھران میں سے ایک کو ایساعارضہ لاحق ہو جس کی وجہ سے اس کاحق ساقط ہوجائے تومزاحمت کے ختم ہوجانے کی وجہ سے پوراگھردوسرے کوملے گا۔
وامّا ثانیا فلان اﷲ سبحانہ و تعالٰی قد اعطی کل ذی حق حقہ ۱فلایجوز ان ینقل من فرض احد شیئ الٰی غیرہ وقد اجمعنا ان فرض الجدۃ السدس فان نصفناہ ھٰھنا ولاحق للابویۃ یرجع النصف لامحالۃ الی الاب فیشارک الجدۃ فی فرضہا ولانظیرلہ فی الشرع فتبین ان الاول ھو المرجح وکانھا لھذا قدمہ فی الاختیار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
وجہ دوم کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے لہٰذا یہ جائزنہ ہوگا کہ کسی کے مقررہ حصے سے کوئی شے دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے۔بیشک ہمارا اس پراجماع ہے کہ جدہ کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے۔ اگریہاں ہم اس کونصف کردیں(یعنی بارہواں بنادیں) حالانکہ دادی کایہاں کوئی حق نہیں تویقینا چھٹے کانصف (بارہواں حصہ) باپ کی طرف لوٹے گا تو اس طرح وہ جدہ کے مقررہ حصے میں شریک ہوجائے گا اورشریعت میں اس کی کوئی نظیرنہیں ملتی تو واضح ہوگیا کہ پہلے قول کوہی ترجیح دی جائے گی گویا اسی وجہ سے اختیارمیں اس کومقدم کیاہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال حدیث ۴۶۰۵۶ و ۴۶۰۵۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۶۱۴)
مسئلہ ۱۸۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مفصلہ ذیل میں:
اورچراغ علی مرحوم کے محمدمسح اپنے خلیرے بھائی اورمسماۃ فاطمہ زہرا اپنی خلیری بہن بھی ہیں، اب چراغ علی مرحوم کامتروکہ کس کوملے گا عبدالعلیم عرف شہرو کوملے گایاخلیرے بھائی وبہن کوملے گا؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض چراغ علی کاکل ترکہ تین حصہ ہوکردوحصے اس کے
خالہ زادبھائی کواورایک حصہ اس کی خالہ زاد بہن کوملے گا عبدالعلیم کچھ نہ پائے گا کہ وہ بہت دوررشتہ دارہے ایک رشتہ پرابن بنت ابن عم الجدہے یعنی چراغ علی کے پردادا کے باپ ناصری کے پوتے کانواسہ ہے اوردوسرے رشتہ پر ابن ابن بنت عم الجد ہے یعنی چراغ علی کے باپ کے پردادا کے پوتی کاپوتاہے بہرحال ذوی الارحام سے ہے خود عصبہ وارث نہیں اور اولادخالہ سے درجے میں بعیدہے لہٰذا ان کے سامنے اسے کچھ نہ ملے گا۔
تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:یقدم الاقرب فی کل صنف واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہرصنف میں زیادہ قریبی کومقدم کیاجائے گا، اگروہ درجہ میں برابرہوں تو وارث کی اولاد کومقدم کیاجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴)
مسئلہ ۱۸۳: ازبہٹ ضلع سہارنپور مرسلہ مشتاق حسین ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نے بعدمعاف کرنے مہر شرعی جن کے شاہد اس کی ماں اوربہن نیزماموں حقیقی ہیں انتقال کیا اورایک لڑکی سہ سالہ اورخاوند چھوڑے اسباب جہیزی میں سے کچھ زیوراورکپڑا اس کے شوہرکے یہاں سے اس کی ماں اوربہن لے گئے باقی کی ایک فہرست اس کے شوہرکودی اورکہاکہ اس کوبیچ کرایصال ثواب اورفاتحہ میں خرچ کریں، بس کیاحکم شرعی ہے اس بارے میں پسماندہ اسباب کاکون مالک اورمصرف ہے اور ماں باپ اوربہن کو اس کی واپسی کاکیاحق ہے؟
الجواب : جہیزوغیرہ جوکچھ عورت کی ملک تھا صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض اگر وارث صرف یہی ہیں ہرہرچیز کے بارہ حصے ہوں گے تین حصہ شوہرکے، دوماں کے، چھ بیٹی کے، ایک بہن کا۔ ماں بہن جوکچھ لے گئیں واپس لاکر سب ملاکر بارہ حصہ کرکے اپنے تین حصے لے کر ان کو فاتحہ وغیرہ جس میں چاہیں صرف کریں شوہرکے تین حصوں کااختیار شوہرکوہے اوردخترکے چھ، توکوئی بھی فاتحہ وغیرہ میں صرف نہیں کرسکتا وہ اس کے باپ کے قبضے میں رہ کر خود اس کے خوردونوش میں صرف ہوں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم