| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۱۷۵ ،۱۷۶: ازکراچی جھونہ مارکیٹ مرسلہ سیدکریم شاہ صاحب ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ سوال اوّل: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس جماعت کے بارے میں جوکچھ عرصہ سے مسلمان ہوئے ہیں اور تمام احکام شریعت کو وہ تسلیم کرتے ہیں مگرقانون شریعت وراثت کے بالکل منکرہیں اوراپنے آباء قدیم ہنود کے قانون کوصراحۃً اپناقانون بتاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم اپنے آباء ہنود کے اس قانون وراثت کونہیں چھوڑسکتے اورکچہری میں بیان کیاہے کہ ہم مسلمان ہیں مگر شریعت محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کووراثت کے بارے میں تسلیم نہیں کرتے بلکہ ہندولایعنی قانون وراثت اہل ہنود کو اپناقانون تسلیم کرتے ہیں اور کچہری سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے احکام وراثت ہندوقانون پرہونے چاہئیں۔
اس جماعت کے بارے میں شریعت کاکیاحکم ہے، یہ لوگ منکرنص قرآن ہیں یانہیں اورجونص قرآن کوجان بوجھ کرنہ مانے وہ دائرہ اسلام میں رہ سکتاہے یانہیں؟
قال اﷲ تعالٰی:ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولٰئک ھم الکٰفرون۱؎۔
اور جو اﷲ تعالٰی کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۴۴ )
سوال دوم: وہ لوگ جن کاسوال اول میں ذکرہے مسلمانوں کے اوقاف یامسجد دونوں کے متولی ہوسکتے ہیں یانہیں؟ الجواب: یہ لوگ ہرگزمسلمان نہیں، اگرمسلمان ہوئے بھی تھے تو دربارہ وارثت احکام شرعیہ ماننے سے انکارکرکے مرتد ہوگئے، وہ نہ مسجد کے متولی کئے جاسکتے ہیں نہ اوقاف مسلمین کے۔
قال اﷲ تعالٰی فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجربینھم ثمّ لایجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلّموا تسلیما۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جوکچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اوردل سے مان لیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۵)
مسئلہ ۱۷۷: ازترگہ گوری ڈاکخانہ کچہا ضلع نینی تال مرسلہ ملانذیراحمد صاحب مورخہ ۸/ربیع الآخرشریف ۱۳۳۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک بیوی کی، اس کے ساتھ ایک لڑکی آئی اورلڑکی ایک اسی بیوی سے زید کی پیدا ہوئی، بعد چندروز کے زیدکاانتقال ہوگیا اب یہ دولڑکیاں ایک توزید کی ہے اورایک جو بیوی اگلے خاوند کی ساتھ لائی تھی، بعدوفات زید کے بھتیجانے یعنی حقیقی تایا کے بیٹے نے اپنا حق معاف کردیا اوربیوی نے بھی معاف کرکے وہ جائداد دونوں لڑکیوں پرتقسیم کردی، اب زید کی بیوی اپنامہرلیناچاہتی ہے اب یہ تقسیم جائزہے یانہیں؟ شرع شریف سے آگاہی بخشی جائے۔
الجواب : مہرمعاف کرنے سے معاف ہوگیا اب دوبارہ نہیں لے سکتی مگرترکہ معاف کرنے سے معاف نہیں ہوسکتا اگروارث یہی ہیں توحسب شرائط فرائض زید کاترکہ آٹھ حصہ ہوکرایک حصہ بی بی کو اورچارحصہ زید کی لڑکی کو اورتین بھتیجے کوملیں گے اوراگلے شوہرکی بیٹی کچھ نہ پائے گی، بھتیجا اگر نہ لیناچاہے تولے کرتقسیم کراکرپھرزید کی دختر کوہبہ کرکے قبضہ دے دے یایوں ہی بلاتقسیم اپنا حصہ اس کے ہاتھ بیچ کر قیمت اسے معاف کردے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۸: ازگوندیا ضلع بھنڈارا ملک متوسط ۸ ربیع الآخر۱۳۳۶ھ ایک مسماۃ نے اپنی کچھ رقم مالی کے لئے اپنے حین حیات میں وصیت کی کہ بعد وفات میرے ایک فرزند میراجونابالغ ہے یہ رقم اس کو دی جائے اگرفرزند میراقضاکرجائے تویہ رقم مالی مکہ مدینہ کے کسی کارِخیر میں بھیج دی جائے، بعد وفات مسماۃ اس کافرزند بالغ ہوکرفوت ہواتو اب اس کی وہ رقم کس کو دی جائے چونکہ اس کاایک چچازاد زندہ ہے مگرلڑکے کی پرورش بعد اس کی والدہ کے ماموں نے کی اورایک اس کی مدد میں شریک رہا، اس کاچچامالدارہے اس کے کسی امرمیں مونس بھی نہیں ہوابجز ماموں کے، لہٰذا ہم اس لڑکے کی رقم کو اس کے ماموں کودیناچاہتے ہیں چونکہ اس کاماموں بہت غریب مفلس معذورشخص ہے محض اس کے عزیزواقارب اس کی اعانت کیاکرتے ہیں لہٰذایہ رقم ہم اس کے ماموں کودیناپسند کرتے ہیں چونکہ شرعاً بھی مفلس عزیزکومدددینالازم ہے۔
الجواب : فرزند کے لئے وصیت توبیکارتھی وہ خود ہی مالک ہواجبکہ عورت کااس کے سوا اورکوئی وارث نہ تھا جیسا کہ ظاہرسوال ہے اب اس کے انتقال کے بعد اس کے جووارث ہیں ان کوپہنچے گی اگرصرف یہی چچاوارث ہے تویہی پائے گا وارث ہونے کے لئے کچھ یہ شرط نہیں کہ وہ اس کے کسی امرمیں شریک ہواہو، ماموں کتناہی محتاج ہو نہ بہن کے ترکہ میں اس کاکچھ حق ہے کہ بیٹاموجودتھانہ بھانجے کے ترکہ میں کہ اس کاچچا موجودہے قریبی غریب کی اعانت کابیشک حکم ہے مگراپنے مال سے نہ پرائے مال سے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۹: ازچتیرہ ڈاکخانہ امال پورپرگنہ سہاورضلع ایٹہ مرسلہ عبداﷲ خان صاحب ۲۶ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ زید سے وقت مناکحت مہرمعجل قرارپایا اوربعد ازمدت درازوولادت طفل یازدہ سالہ مرحوم حیات طفل مرحوم میں زیدنے بواسطہ کچہری وہ مہرادا کردیا بعدہ زیدکاانتقال ہوگیا اب زوجہ اپنے حق ربع کی مدعیہ ہے مقدمہ کچہری میں زیربحث ہے کوئی تحریری تقریری ثبوت طلاق نہیں ہے نہ قبل ازادائے مہرنہ مابعدآں، پس حکم شرع شریف سے مطلع فرمائیں۔
الجواب : ہرمعجل کااداکرنا پیش رخصت ضرورہوتاہے اوراگرعورت قبل رخصت نہ مانگے توجب طلب کرے اس کااداکرنا کسی طرح طلاق دینے کی دلیل کیاشبہہ بھی نہیں ہوسکتا اوربے ثبوت شرعی طلاق ہرگزنہیں مانی جاسکتی عورت ضرور مستحق میراث ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا اودین۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اورتمہارے ترکہ میں عورتوں کاچوتھائی ہے اگرتمہاری اولادنہ ہو، پھراگرتمہاری اولاد ہوتو ان کاتمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکال کر۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲)
مسئلہ ۱۸۰: ازلکھنؤ بلوچ دروازہ مسجد متصل اکھاڑہ مرسلہ مولوی محمدعثمان طالب علم ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ بعد تحیّۃ سلام گزارش ہے کہ یہاں علماء مسائل ذوالارحام میں مختلف ہیں بعض امام ابویوسف کے قول کے موافق جواب دیتے ہیں بعض امام محمد کے قول کے موافق جناب کی رائے میں کس قول کے موافق عمل درآمد ہونا چاہئے اور جناب کا معمول کیا ہے
الجواب اصل فتوی قول امام محمد علیہ الرحمۃ پر ہے فقیر کا اسی پر عمل ہے مگر اس کے استخراج میں قدرے دشواری ہوتی ہے لہٰذا بعض مشائخ نے بغرض آسانی قول امام ثانی علیہ الرحمہ پرفتوٰی دیا۔ وھو تعالٰی اعلم۔