فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
74 - 145
مسئلہ ۶۷ :ازعلی گڑھ محلہ سرائے بی بی مرسلہ حافظ عبداللطیف صاحب مورخہ ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان حنفی المذہب اپنے لڑکے مسلمان حافظ قرآن پابندصوم وصلوٰۃ کوکسی وجہ سے عاق کردے تویہ حافظ قرآن عاق ہوجائے گا یانہیں؟ اوراپنے والد کاترکہ پائے گا یانہیں؟ اوربہ تقدیر پانے اور نہ پانے کے اس کاثبوت قرآن وحدیث سے بیان فرمائیے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب: عاق ہونا نہ ہونا اولاد کے فعل پرہے جوبلاوجہ شرعی ماں یاباپ کوایذادے وہ عاق ہے اگرچہ ماں باپ اس سے راضی ہوں ورنہ نہیں اگرچہ ماں باپ بلاوجہ اس سے ناراض ہوں۔ ماں یاباپ کا عاق کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عوام کے خیال میں یہ ہے کہ اولاد کو عاق کرنا ایسا ہے جیسا عورت کو طلاق دینا، طلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے، یونہی ماں باپ کے عاق کرنے سے اولاد اولاد ہونے سے خارج اورترکہ سے محروم ہوجاتی ہے، یہ محض باطل ہے، اولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوک ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ:
اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱)
مسئلہ ۱۶۸: ازقصبہ سانگودسوائے بادھپور مدرسہ انجمن اسلامیہ ریاست کوٹہ راجپوتانہ
مرسلہ الف خاں مہتمم انجمن ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
ایک شخص متوفی کی جائداد قیمتی (سہ ۳۰۰) روپے ایک شخص کے پاس ایک صدروپے میں رہن ہے اورمتوفی کاکوئی اصلی وارث نہیں ہے توکارروائی بیع کی کس کے ساتھ کی جائے گی؟
الجواب: بحکم حاکم شرع فقراء کے ساتھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۳: مرسلہ مولوی محمدظہورحسین صاحب فاروقی رام پوری ۵ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱) زیدنے اپنی زندگی کے وقت دونکاح کئے، زوجہ اولٰی کاانتقال زید کے سامنے ہوا، بعد عقدثانی زیدنے انتقال کیا اورایک مکان قیمتی تین چار سوروپے کاچھوڑا۔ زوجہ اولٰی کادین مہرڈھائی ہزارروپے کاتھا اورزوجہ ثانیہ کانوسوروپے کا۔ زوجہ ثانیہ خود موجودہے اورزوجہ اولٰی کے ورثہ میں تین بھائی، ایک بہن، دوبھتیجیاں، ایک زوج یعنی زیدمرحوم کاکہ جس کی وارث اس وقت زوجہ ثانیہ ہے۔ ایسی صورت میں کیامکان مذکور کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اولاً دونوں دین مہروں میں مکان نصف نصف ہوجائے گا من بعد نصف ثانی جوزوجہ اولٰی کاحصہ ہے اس میں سے بحق زوجیت زید کو نصف ملے گا اوریہ نصف زوجہ ثانیہ کی طرف منتقل ہوجائے گا باقی ایک رُبع جورہے گا وہ زوجہ اولٰی کے ورثہ میں تقسیم ہوجائے گا۔
(۲) ایسی حالت میں کہ مکان متروکہ زیددونوں دین مہر سے قیمتاً کم ہے کل مکان دونوں دین مہروں میں مستغرق ہوکرنصف نصف ہوگا یاجس زوجہ کادین مہرنوسوکاہے اس کومکان مذکور میں سے ایک حصہ اورجس کادین مہرڈھائی ہزار کاہے اس کے ورثہ کوباقی مکان ملے گا تقسیم ورثہ کی اس وقت کیاصورت ہوگی؟
(۳) یہ کہ زید کی تجہیزوتکفین اورزوجہ ثانیہ کی عدت وچارماہ تک فاتحہ وغیرہ کاخرچ جومجموعہ تین سو روپیہ کا ہوا وہ اسی مکان سے لیاجائے گا یانہیں؟
(۴) زیدنے اپنے حین حیات جوکچھ خرچ اورروپیہ زوجہ ثانیہ کے ہاتھ میں دیا وہ اس کے واسطے ہبہ تھا یانہیں اور اس روپے سے جواسباب زوجہ ثانیہ اپنے استعمال کا جیسے کپڑا، زیوروغیرہ جوخاص عورتوں کے استعمال کاہے کیا اس کی بھی تقسیم ہوگی؟
(۵) زید کی زوجہ اولٰی کااسباب اس قسم کاتقسیم ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب : زوجہ اولٰی جوجہیزلائی وہ اس کامتروکہ ہے حسب شرائط فرائض اس میں سے نصف شوہرکاہے، جوکچھ روپیہ زید نے زوجہ اولٰی یاثانیہ کودیااگر تملیکاً دیا اس کی مالک زوجات ہیں اور اس سے جواسباب خریدا انہیں کاہے اوراگرتملیکاً نہ دیا گھرکے خرچ کے لئے دیا اورعورات کو حسب دستور اسباب خانگی خریدنے کی اجازت دی تو وہ اسباب اورجتنا روپیہ بچاہو سب ملک زید ہے۔ بیان سائل سے معلوم ہواکہ تجہیزوتکفین میں صرف پندرہ روپے خرچ ہوئے باقی فاتحہ وخرچ عدت ہے خرچ عدت تو زوجہ کسی سے مجرانہیں لے سکتی کہ معتدہ وفات کے لئے نفقہ نہیں یوں ہی جوکچھ فاتحہ میں اٹھایا تبرع ہے اس کابھی معاوضہ نہیں پاسکتی، ہاں وہ پندرہ کہ تجہیزوتکفین میں اٹھے ازانجاکہ زوجہ وارثہ ہے اوروارث کہ تجہیزوتکفین کرے مجراپاتاہے یہ پندرہ پائے گی مگراس وجہ سے کہ تجہیزوتکفین جوہرحق پرمقدم تھی ہوچکی زوجہ کامطالبہ باقی رہاتویہ پندرہ بھی دَین میں آگئے اور اس کادین نوسوپندرہ روپے ہوئے اورزوجہ اولٰی کانصف مہربحق شوہر ساقط ہوکر اس کادین ساڑھے بارہ سوروپے ہوئے مجموع دین اکیس سوپینسٹھ روپے ہیں متروکہ زیدکہ تین چارسوکامکان ہے اگر اس زرواسباب وغیرہ سے مل کرجو اُسے ترکہ زوجہ اولٰی سے ملایا دونوں زوجہ کے پاس اس کی اپنی ملک تھا اگراس مجموع کے برابر ہو اورزید پراورکوئی دَین نہ ہو تو ۱۲۵۰ زوجہ اولٰی کے ورثہ کو دَین اور۹۱۵ زوجہ ثانیہ کو۔ اوراگر اس سے زائد ہے تودونوں دَین پورے اداکرکے جوبچے اس کے ثلث سے وصیت اگرزیدنے کی ہو نافذ کرکے باقی سے ایک ربع زوجہ ثانیہ کودیں اورتین ربع اورجوکوئی وارث زید عصبات یاذوی الارحام سے ہو اسے دیں اورکوئی نہ ہو اور کسی کے لئے ثلث سے زائد کی وصیت کی ہو اس کی وصیت کی تکمیل کریں اگرچہ یہ تین ربع کل اس وصیت میں چلے جائیں اوراگرموصی لہ بھی کوئی نہ ہوتویہ تینوں ربع اوراگرہو اوراس کی وصیت پوری کرنے کے بعد بھی کچھ بچے تووہ باقی سب زوجہ ثانیہ کو دے دیں
فان الازواج یردعلیھا عند عدم انتظام بیت المال
(بیت المال منظم نہ ہونے کے وقت خاوند اوربیوی پررَد کیاجائے گا۔ت) اوراگرکل متروکہ زید اس مجموع دین ۲۱۶۵ سے کم ہے اورزیدپر اوردین نہیں تو اس کا کل متروکہ چارسوتینتیس سہام کرکے دوسوپچاس سہم وارثان زوجہ اولٰی کودیں اورایک سوتراسی سہم زوجہ ثانیہ کو۔ اور اس صورت میں اگریہ چاہیں کہ ورثہ زوجہ اولٰی پربھی ساتھ ہی تقسیم ہوجائے توکل متروکہ زیدتین ہزاراکتیس سہم کرکے زوجہ اولٰی کے ہربھائی کو پانچ سوسہم بہن کو دوسوپچاس، زوجہ ثانیہ کو بارہ سواکیاسی دیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۴: ازاحمدآباد محلہ مرزاپور مرسلہ شاہ محمد مورخہ ۱۶/ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
جناب مخدومنا ومولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب، السلام علیکم! واضح رائے عالی ہوکہ شہراحمدآبادمیں جماعت گاؤقصابوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکی اوربہن کوورثہ مال متروکہ میت سے کبھی کچھ نہیں دیاکرتے اور ان کامقولہ یہ ہے کہ لڑکی اوربہن کاورثہ میت کے مال میں سے کسی چیزمیں نہیں پہنچتا۔ لہٰذا آپ پرفرض ہے کہ فتوٰی لکھ کرروانہ کریں تاکہ وارث اس شخص کی اپناپورا حق عدالت سے لڑکروصول کریں لہٰذا ٹکٹ (۳/) کی اس رجسٹری لفافہ میں ملفوف ہیں، مولانا صاحب تخمیناً پندرہ سال کاعرصہ ہواکہ ایک رجسٹری سوال سود کے بارہ میں حضورکے یہاں روانہ کیاتھا مگربالکل جواب سے آپ نے مجھے محروم رکھاتھا شایدکہ آپ سے وہ استفتاء گم ہوگیاہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص گزرگیا اس نے ایک لڑکی اوردوبہنیں حقیقی اورچاربھتیجے اورایک زوجہ چھوڑے۔ اب ان میں کون کون سے وارث کوحق پہنچتاہے اورکون سے وارث محروم رہتے ہیں
بیّنواحکم الکتاب توجروا بیوم الحساب
(کتاب کاحکم بیان کرو قیامت کے دن اجرپاؤگے۔ت)
الجواب : صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ اس شخص کاسولہ سہام ہوکردوسہم اس کی زوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین سہم ہربہن کوملیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم۱؎۔
پھراگرتمہاری اولادہوتو ان (بیویوں) کاتمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲)
اورفرماتاہے:
وان کانت واحدۃ فلہا النصف۱؎۔
اوراگر ایک لڑکی ہوتواس کاحصہ آدھا ہے (یعنی ترکہ کانصف)۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱)
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ۲؎۔
بہنوں کوبیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنادو(ت)
(۲؎ سنن الدارمی کتاب الفرائض باب فی بنت واخت حدیث ۲۸۸۴ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرہ ۲/ ۲۵۱)
(السراجی فی المیراث فصل فی النساء مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۶)
اوراﷲعزوجل فرماتاہے:
واولوالارحام بعضھم اولٰی ببعض فی کتاب اﷲ۳؎۔
اوررشتہ والے ایک سے دوسرے زیادہ نزدیک ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۸/ ۷۵)
جولوگ بیٹیوں اوربہنوں کوترکہ نہیں دیتے قرآن مجید کے خلاف ہیں، اورجن کایہ قول ہوکہ ان کومیت کے مال سے کچھ نہیں پہنچتا جس کے ظاہرمعنٰی یہ ہیں کہ ان کاترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا یہ صریح کلمہ کفرہے،ایسوں پرتوبہ فرض ہے نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اس کے بعد اپنی عورتوں سے نکاح دوبارہ کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم