Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
73 - 145
مسئلہ ۱۶۰ تا۱۶۲ :   مرزابیگ مسئولہ محمدمحی الدین موضع چاندیانہ ضلع بلندشہر روزیک شنبہ بتاریخ ۲۵صفرالمظفر۱۳۳۴ھ

ایک مسلمان بدمذہب حنفی قتل ہوا اورقاتل ایک مرد اوردوسری اس کی زوجہ قراردئیے، مردکے ذمہ قتل کرنا اورعورت کے ذمہ قتل کرانے کاالزام عائد ہوکر قاتل کوحکم موت اورعورت کو بعبور دریائے شور کی سزا دی گئی، چونکہ عورت حاملہ متروکہ مقتول پرشمول پسران متوفی کے زوج کے نام بھی حصہ شرعی درج کاغذات ہوا، کیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ زوج مقتول کومحض شبہہ میں بلاشہادت عینی کے عدالت سے سزاہوئی توکیاترکہ مقتول میں حصہ شرعی ومہریابی کے مستحق ہے یانہیں؟

دوم: قتل کے واسطے شہادت چشم دید یاشبہہ کے حالات میں شرعاً گواہی واجب ہے کیا؟

سوم: بعد مقتول جولڑکا زوجہ کے پیداہوا وہ بھی مستحق ترکہ مقتول سے حصہ یابی کاہے یانہیں فقط؟
الجواب : بچہ اگرموت پدرسے دوبرس کے اندرپیداہواوارث ہوگا، یہ توپانچ ہی مہینے کے اندر 

پیداہواضرور وارث ہے، اورعورت اگرقتل بھی کرتی مہرنہ ساقط ہوتا لانہ دین واجب لایسقط بالقتل(کیونکہ وہ دین واجب ہے جو قتل کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ت) ہاں اگرخود قتل کرتی تومیراث نہ پاتی۔ رہا اس کے ثبوت گویاعورت کااقرارہونا یادوسرے ثقہ عادل کی شہادت معائنہ بغیر اس کے ثبوت قتل نہ ہوتا یہاں تو اسے سزابھی قتل کرنے کے جرم میں نہ ہوتی بلکہ قتل کرانے کے، اگرواقع میں اس نے قتل کرایابھی ہوتو قتل کرنا میراث سے محروم کرتاہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
التسبب الی القتل لایحرم المیراث۱؎۔
قتل کاسبب بننامیراث سے محروم نہیں کرتا۔(ت)بہرحال بچہ بھی وارث ہے اورعورت بھی مہرپائے گی اوربعدمہرودیگر دیون ترکہ سے آٹھواں حصہ میراث بھی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب الفرائض    الباب الخامس فی الموانع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۴۵۴)
مسئلہ ۱۶۳: مسئولہ عبداﷲ ازبریلی محلہ گلاب نگر ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروزسہ شنبہ 

کیاحکم فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ادام اﷲ برکاتہم مسئلہ ذیل میں کہ مسماۃ زبیدہ مطلقہ نے اپنا عقد ثالث ساتھ مسمی عبداﷲ کے بمہرشرعی جس کی تعداد چارسودرھم چاندی وقت عقد وکیل نے قائم کردی تھی کیا۔ مسمی عبداﷲ مبلغ پانچسوروپیہ کاپہلے سے قرضدارتھا جب مسماۃ زبیدہ کوحال مقروضی شوہرمعلوم ہواتواپنا مہربخشنے پرازخود آمادہ ہوئی شوہر نے آئندہ وقت پرملتوی رکھا، مسماۃ ساڑھے تین ماہ عبداﷲ کے گھر زندہ رہی جب بیمارہوئی عبداﷲ کو روپیہ قرض لے کرعلاج کرانے سے منع کرتی تھی، علاج ہوا مگرمرگئی، متوفیہ کے وارث ایک شوہر ایک بیٹی جوان جودوسرے شوہرسے پیداتھی اورایک بہن دوحقیقی بھائی ہیں۔ قبل وفات اپنے شوہر سے چھ روزہ کاکفارہ دے دینے کوکہا اورباوجوددریافت اپنے مہر کی بابت کچھ وصیت نہ کی اوراپنی بیٹی اپنی بہن کے سپرد کی اس کاباپ اسی شہر میں موجودتھا وقت وفات اس کے ایک بہن ایک بیوی موجود تھی بعد وفات انہوں نے کہا کہ گوروکفن فاتحہ خیرات اچھی طرح ہوناچاہئے، عبداﷲ نے کہا کہ میں مقروض ہوں مگرمہر اس کامیرے ذمہ ضرورچاہئے مقدارمہر تم چاہو تو میں روپیہ قرض لے کر گوروکفن اورفاتحہ خیرات حسب مرضی تمہاری کردوں توانہوں نے رضامندی اپنی ظاہر کی تو عبداﷲ نے روپیہ قرض لے کرگوروکفن وکفارہ وخیرات بروزدفن (۰۱/عہ)  اورفاتحہ سوم میں (۸/ہہ) اور فاتحہ چہلم میں (۲/عہ) اورسہ ماہی اور شش ماہی میں (۰۱۵/لعہ) صرف کرکے کھانا پکاکرقبروں پر، یتیموں اورمساکین کودیاگیا اوردوجوڑے پارچہ جدیدتیارکرکے دئیے گئے جملہ (۰۱۱/صہ لعہ) فاتحہ وخیرات میں بہ نیت ادائے دین مہرصرف کیا (۰۱۲عہ) منجملہ ایک سوبارہ روپے آٹھ آنہ دین مہرباقی ہیں اورمتوفیہ نے قبل وفات یہ کہاتھا کہ میری بیٹی کاخیال رکھنا چنانچہ (۱۱صہ للعہ) کاپارچہ پوشیدنی جووقت ولیمہ نکاح متوفیہ کی قرض لے کربنایاتھا اورکچھ پارچہ اورجو اس کودیاتھا جملہ (ال ہہ صہ) بمنشائے متوفیہ اس کی بیٹی کودے دیااوردیگر پارچہ فخاجان کودئیے گئے متوفیہ کاترکہ صرف چارسودرھم چاندی جس کے (ماعہ ۳عہ) ہوتے ہیں تھا اورکچھ زیورونقد نہ تھا۔ فتوٰی یہ طلب ہے کہ مہرکے ترکہ میں ورثاء کاکتناکتناحصہ شرعی تھا اورصرفہ گوروکفن وفاتحہ وخیرات میں جوشوہر نے بمرضی بہن و بیٹی متوفیہ قرض لے کر مبلغ (معہ لعہ ۰۱۱) صرف کیا اس قدرذمہ شوہرسے دین مہرادا ہوایانہیں، اس کے وارثان نے ایک پیسہ فاتحہ خیرات میں صرف نہیں کیا بلکہ اپناخرچ بھی عبداﷲ پرڈالاتھا فقط۔
الجواب : اگریہ بیان واقعی ہے کہ بیٹی اوربہن نے اس پررضامندی ظاہرکی تھی کہ مہرمیں سے یہ مصارف کردو، اوران کی اجازت سے یہ صرف ہوئے تویہ مصارف شوہراوربیٹی اوربہن کے حصص مہر پر پڑیں گے بھائی کہ اس اجازت سے الگ ہیں ان کے حصہ پرنہ پڑیں گے اور (لہ صہ) کاکپڑا جو زبیدہ کی دخترکودیاوہ صرف عبداﷲ کے حصہ پرہیں چارسودرھم چاندی یہاں کے سکہ سے پورے ایک سوبارہ (ماعہ عہ) روپے بھرہے آٹھ (۸/) اوپر زائدنہیں سائل نے دین مہرحساب میں گوروکفن وخیرات برقبر وتوشہ کفارہ ۶/روزہ رمضان المبارک میں (عہ ۱۱/) بتایا اس میں سے قبر کی خیرات اورتوشہ منہاکیاجائے گا باقی ضروری تھاکہ وارثوں پرتقسیم سے پہلے لازم تھا اس کے بعد جوکچھ بچا اس کے بیس حصہ ہوں گے پانچ شوہر کے، دس دخترکے ، دودوہربھائی کے، ایک بہن کا، اب جو توشہ وخیرات وسوم وچہلم وغیرہ میں صرف ہوا وہ جب کہ بیٹی اوربہن کی اجازت سے ہوا تو ان کے اورشوہر کے حصوں پرپڑے گا دونوں بھائیوں کوان کاحصہ پوراپورا دیاجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۴:  ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ مرسلہ عبدالستار بروزچہارشنبہ تاریخ ۱۲/رجب المرجب ۱۳۳۴ھ

مسلمان سنی المذہب ورثہ لیتے وقت بجائے قانون شریعت مطہرہ کے ہندویعنی مطابق احکام مذہب ہنود کے جس سے بہت حقوق شرعی باطل ہوتے ہیں ورثہ لے یادے تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟
الجواب : قال اﷲ عزوجل:
الم تر الی الذین یزعمون انھم اٰمنوا بما انزل الیک وماانزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروابہ ویرید الشیطٰن ان یضلھم ضلالاً بعیدا۱؎ ط
 (اﷲ عزوجل نے فرمایا:) کیا تم انہیں نہیں دیکھتے جن کازبانی دعوٰی تویہ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پرجوتمہاری طرف اتاراگیا اورجوتم سے پہلے اتاراگیا پھر فیصلہ چاہتے ہیں کفر کا اور انہیں حکم تویہ تھا کہ اس سے انکارکریں اورشیطان چاہتاہے کہ انہیں گمراہ کرکے دورپھینک دے۔
(۱؎ القرآن الکریم     ۴/ ۶۰)
جولوگ شریعت مطہرہ کے خلاف میراث مانگیں یالیں یابخوشی دیں یااس میں سعی کریں سب گمراہ ہیں اورعذاب شدید کے سزاوار، اوراگراسے پسند کریں تو کھلے کفار، بہرحال وہ مال ان کے لئے حرام وقطعہ نار، اورجومجبور ہوکردے وہ مظلوم ومعذور۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵: ازکوہ شملہ کفایت حسین یکشنبہ ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ

ایک پھوپھی کاترکہ دوبھتیجوں کوبرابرملا جس میں سے ایک بھتیجے نے پھوپھی کی بیماری کا خرچ اورتجہیزوتکفین کاخرچ مع برسی تک کاخرچ اپنے پاس سے کیا قریب ایک سوروپیہ کے اب نصف روپیہ دوسرے بھتیجے کواداکرنا واجب ہے یانہیں؟ فقط۔

الجواب : یہ اس نے اپنی خوشی سے اٹھایا دوسرے بھتیجے پراس کانصف یا کوئی جزء دینالازم نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۶:  ازبمبئی پوسٹ مانڈوی مکان چمناجی راجوبھائی پان والانمبر۲۸۔۱۳۲

ناگدیوی سٹریٹ مرسلہ مانک بھائی باپوبھائی ۱۳شوال ۱۳۳۵ھ

ایک شخص چمناجی دکھنی مسلمان فوت ہوگیا اس نے ایک عورت ایک لڑکا حسین میاں ایک لڑکی لال بائی یہ تین وارث چھوڑے پھرعورت بھی گزرگئی اورکچھ عرصہ کے بعد لڑکابھی مرگیا حسین میاں مرحوم کے مرنے پراس کی بی بی شرعی طورپراپناحصہ لے کر الگ ہوگئی اس کے ماسوا اورجوحقدار نکلے سب کو ان کے حق کے مطابق ورثہ ملالال بائی جوچمناجی کی بیٹی تھی وہ بھی اپناحصہ لے کر الگ ہوگئی پہلے لال بائی کاشوہر مرگیا پھر وہ مرگئی اس نے اپنا وارث ایک لڑکا ابراہیم چھوڑا ابراہیم بھی دوسال بعد مرگیا ابراہیم کے دوبیبیاں ہیں ایک بسم اﷲ ایک مریم نیزچمناجی کاسالاڈھونڈھی بھائی لال بھائی کے مرحوم مرد کاماموں قاسم حاشہ یایہ دونوں دعوٰی کرتے ہوئے مرگئے، اب ان دونوں کے دولڑکے دعوٰی کرناچاہتے ہیں لہٰذا اس مسئلہ میں کیا حکم شرع ہے آخروارث ابراہیم ہوا اس نے کوئی اولاد یا بھائی بہن وغیرہ نہ چھوڑا صرف دوبی بی ہیں لہٰذا کس طرح حق ہوتا ہے اور فی ہزارکیا ہرحقدار کانکلے گا۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : سوال میں رشتے بہت بعیدالفاظ مجمل محتمل سے لکھے ہیں ڈھونڈھی بھائی کوچمناجی کاسالا لکھاممکن کہ وہ لال بائی کاماموں ہو اورممکن کہ چمناجی کی کسی اورعورت کابھائی ہو جسے لال بائی سے کوئی علاقہ نہیں یوں ہی قاسم حاشہ کولال بی کے شوہر کاماموں لکھا۔ محتمل کہ وہ ابراہیم کے باپ کا ماموں ہو یاکسی دوسرے شوہرکامگرسوال میں نہ چمناجی کی کوئی اورعورت لکھی ہے۔ نہ لال بائی کادوسرا نکاح بتایا جس سے ظاہر یہی ہے کہ ڈھونڈھے بھائی ابراہیم کی ماں کاماموں ہے اورقاسم حاشہ ابراہیم کے باپ کاماموں، اگرواقعہ اسی طرح ہے اوران کے سوا اورکوئی وارث نہیں تو بعدتقدیم حقوق مقدمہ مثل مہرہردوزوجہ وغیرہ ابراہیم کاترکہ آٹھ سہم ہوکر ایک ایک سہم ہرزوجہ اورچارسہم قاسم حاشہ اوردوسہم ڈھونڈے بھائی کوملیں گے یعنی دونوں عورتوں کامہرجس قدر ذمہ ابراہیم لازم رہا اور اس کے سوا اورجودین ابراہیم پرہو اول اداکریں۔ پھرجوبچے اس کے تہائی سے ابراہیم نے اگر کوئی جائزوصیت کی ہو نافذکریں باقی مال میں فی ہزار ایک سوپچیس روپے ایک بی بی کو، ایک سوپچیس روپے دوسری بی بی کو اورپانچ سوپچیس روپے قاسم حاشہ کو ڈھائی سوڈھونڈے بھائی کودیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے:
ثم عمات الاباء والامہات واخوالھم وخالاتھم واذا استووا فی درجۃ واتحدت الجہۃ قدم ولدالوارث فلو اختلف فلقرابۃ الاب الثلثان ولقرابۃ الام الثلث۱؎۔
پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاں، ان کے ماموں اور ان کی خالائیں ہیں۔ جب ذوی الارحام درجے میں برابرہوں اورقرابت  کی جہت بھی متحد ہوتو وارث کی اولاد مقدم کی جائے گی، اوراگرقرابت کی جہت مختلف ہو تو باپ کی قرابت والوں کے لئے میت کے ترکہ میں سے دوتہائی اورماں کی قرابت والوں کے لئے ایک تہائی ہوگی۔(ت)
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
 (۱؎ الدرالمختار  کتاب الفرائض  باب توریث ذوی الارحام   مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۳۶۴)
Flag Counter